22لاکھ ٹن اضافی گندم کی درآمد بحران کی بڑی وجہ قرار

ملک میں گندم خریداری بحران سنگین،نگران حکومت میں اضافی 22لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے سے بحران پیدا ہوا۔

 ذرائع کے مطابق نگران حکومت کے دور میں گندم کی غیر ضروری درآمد کے فیصلے سے طلب اور رسد کا توازن بگڑا۔وفاقی وزارت خوراک نے صرف 10لاکھ ٹن  گندم کی درآمد کی سفارش کی مگر 32لاکھ ٹن گندم درآمد کر لی گئی۔گندم  سفارش کو نظر انداز کرکے خزانہ پر بوجھ ڈالا گیا۔گندم درآمد کرنے کے نہ تو ملکی ضرورت کا مدنظر رکھا گیا نہ ہی آنے والی گندم کی کھپت کی گنجائش رکھی گئی ۔

ایک طرف ملک میں 22لاکھ ٹن اضافی گندم درآمد کی گئی تو دوسری طرف محکمہ گندم کی ریکارڈپیداوار کے لئے مہم چلاتا رہا۔ محکمہ زراعت نے یہ معلوم ہی نہ کیا کہ ملک میں کتنی گندم موجود ہے اور کتنی گندم کی ضرورت ہے ۔

محکمہ زراعت اور محکمہ خوراک نے گندم کی پیداوار بڑھانے کے لیے کسانوں مین غیر معمولی طور پر مہم چلائی۔مہم کی وجہ سے پنجاب میں گزشتہ سال کی نسبت 30لاکھ زیادہ گندم پیدا ہوئی ۔اس سال پنجاب میں  دو کروڑ 42لاکھ ٹن گندم پیدا ہوئی ۔

ایک طرف 32لاکھ ٹن کی درآمد اور دوسری طرف  گندم کی 30لاکھ اضافی گندم پیدا ہونے سے بحران سنگین ہوا ۔ پنجاب کی گندم کی ریکارڈپیداوار بھی  اب حکومت  پر بوجھ بن گئی ہے۔

فلور ملز ایسوسی ایشن کی مخالفت کے باوجود گندم کی درآمد کا سلسلہ جاری  رہا ۔

Back to top button