سانحہ 9 مئی کے ملزمان کیلئے کے پی حکومت کا عید پیکیج

خیبرپختونخوا کے وزیراعلی کی جانب سے 9 مئی کے ملزمان کو عید پیکج دینے پر جہاں مقتدر اداروں سمیت کئی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے وہیں نو مئی کو عمرانڈوز کی شرپسندانہ کارروائیوں کے نتیجے میں زخمی ہونے والے افسران بھی بے چینی کا شکار ہیں۔

روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت نے رمضان پیکج کے بعد مختلف طبقات کو 20، 20 ہزار روپے عید پیکج دینے کا بھی اعلان کیا تھا اور اس حوالے سے ایک ارب پندرہ کروڑ روپے ڈپٹی کمشنرز کو جاری کیے تھے۔ تاہم معلوم ہوا ہے کہ عید پیکج میں 9 مئی کو ریاست پر حملہ کرنے والوں اور پی ٹی آئی کے شرپسندوں کو بھی شامل کیا گیااور اس کی منظوری وزیراعلیٰ خیبرپختون نے دی۔

ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے سانحہ 9 مئی میں ملوث پی ٹی آئی 34 شرپسندوں کو جو اس وقت محتلف جیلوں میں قید ہیں اور بعض ملٹری کورٹس کا سامنا کر رہے ہیں، کیلئے عید پیکج منظور کرکے ان کے اہلخانہ کو جاری کردیا ہے۔ عید پیکج وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے ذاتی حیثیت میں جاری کیا۔

مشیر سماجی بہود پختون مشال یوسفزئی کے مطابق انصار لائرز فورم کے توسط سے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے پی ٹی آئی ورکرز کے اہل خانہ کو عید پیکج میں شامل کیا اور پی ٹی آئی کے خاندان کا فرد سمجھتے ہوئے ان کے اہلخانہ کو امداد فراہم کی گئی۔ تاہم ذرائع نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے 9 مئی میں ملوث افراد کو پیکج میں شامل کرنے کی درخواست انصاف لائرز فورم کی نہیں بلکہ اس کو ایک ذریعہ بنایا گیا تاکہ مقتدر اداروں کے غصے اور ناراضگی کو وکلا کی جانب پھیر دیا جائے۔ ذرائع کے مطابق شرپسند عمرانڈوز کو مالی امداد دینے کا فیصلہ پی ٹی آئی کے ان رہنمائوں کے کہنے پر کیا گیا جو اس وقت روپوش ہیں اور ان کا بنیادی مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ سانحہ نو مئی کے شرپسندوں کو پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت کی بھرپور حمایت حاصل تھی اور پی ٹی آئی ان شرپسندوں کی حمایت جاری رکھے گی۔

ذرائع کے مطابق عید پیکج کی رقم اتنی زیادہ نہیں۔ تاہم اس کا اعلان اہمیت رکھتا ہے اور یہ ریاستی اداروں کو ایک کھلا پیغام ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 9 مئی کو خیبر پختونخواہ میں پولیس اور سیکورٹی اداروں کے ساتھ فائرنگ کے دوران ہلاک ہونے والے 9 افراد کو بھی عید پیکج دیا گیا ہے۔ جنہوں نے چک درہ فورٹ کے اندر گھس کر فوجی گاڑیوں کو آگ لگادی تھی۔ جبکہ 8 فروری کو انتخابات کے بعد شانگلہ میں جلائو گھیرائو کے دوران پولیس جھڑپ میں ہلاک ہونے والے دو کارکنوں کو بھی عید پیکج دیا گیا ہے۔

اس حوالے سے ایک اعلیٰ سرکاری افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس طرح کھلے عام شرپسندوں کی حوصلہ افزائی سے آئندہ سرکاری تنصیبات پر حملے آسان ہدف ہوں گے۔ کیونکہ جب ایک قومی سطح کی پارٹی تشہیر کر کے میڈیا کو اس حوالے سے بیانات جاری کرے تو اس کا واضح پیغام ہوتا ہے کہ جو کچھ کیا گیا تھا، وہ ٹھیک تھا۔ ان کے بقول پولیس نے ذاتی جائیدادوں کی حفاظت نہیں کی تھی اور اپنی ذاتی زمینوں کیلئے مار نہیں کھائی تھی۔ بلکہ ریاستی ڈھانچے کی حفاطت کی تھی۔ اب ان افسران اور اہلکاروں کو جو 9 اور 10 مئی کو زخمی ہوئے تھے۔ ان کو کھلا پیغام دیا گیا ہے کہ ریاست کی حفاظت کرنا اہم نہیں ہے۔ ذاتی اور سیاسی مفادات اہم ہیں۔ پولیس نے اپنے ذاتی دشمنوں کو نہیں بلکہ شہدا کی یادگاروں کی بے حرمتی کرنے والوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ تاہم اب حکومت انھی شرپسندوں کو مالی امداد سے نواز رہی ہے۔تاہ۔ اصل بات یہ ہے کہ ان شہدا کے خاندانوں کو اس پیکج سے کیا پیغام ملے گا۔ ذرائع کے مطابق اگر پی ٹی آئی کے رہنما اپنی ذاتی جیب سے مدد کرتے تو ٹھیک تھا۔ لیکن اگر صوبے کا سربراہ یہ کام کرے تو اس کے مستقبل میں نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق اس کام کی تشہیر نہیں کرنی چاہئے تھی۔ لیکن اب پیغام واضح ہے کہ پی ٹی آئی 9 مئی کے واقعات کی حمایت کرتی ہے۔

Back to top button