لاہوریوں کی بسنت سے جڑی دھڑکنیں بند کیوں ہوگئیں؟

 

ایک وقت تھا جب پتنگ بازی لاہور کی پہچان بن گئی تھی، لاہوریوں کے دل بھی اس کے ساتھ ہی دھڑکتے تھے، بچوں، جوانوں، بوڑھوں کی ہر طرف کاٹا کی آوازیں سنائی دیتی تھیں، ہر طرف رنگا رنگ پتنگیں لٹکتی دکھائی دیتی تھیں۔پنجاب میں 2005 سے بسنت پر پابندی عائد ہے جس کی وجہ دھاتی ڈور سے ہونے والی اموات ہیں، وہ تہوار جو کبھی خوشیاں اور رنگینیاں لاتا تھا، اب خونی قرار پا چکا تھا۔پران نیول جو 1922ء میں لاہور میں پیدا ہوئے اور انڈیا کی فارن سروس سے ریٹائر ہوئے ،متعدد کتابوں کی مصنف ہیں ۔ان کی ایک کتاب Lahore a Sentimental Journey ہے جو 1993ء میں انڈیا سے چھپی، میں لکھتے ہیں جب جاڑے کے دن رخصت ہو رہے ہوتے اور لاہور میں موسم بہار کی آمد آمد ہوتی تو فضا ’بو کاٹا ،بو کاٹا‘ سے گونجتی رہتی۔ لاہور میں پتنگیں تتلیوں کی طرح اڑتی نظر آتی تھیں جن کے الگ الگ نام ہوتے گڈی، گڈا، لکھنئو پتنگ، پرس، طیرا، کپس وغیرہ، بیسویں صدی کی تیسری دہائی میں لاہور میں پتنگ بنانے کے ماہر موجود تھے جن میں پہلوان ،رتو اور خوشیا بہت مشہور تھے۔ڈور تین طرح کے دھاگوں کی بنی ہوتی تھی ۔ایک ڈور میسرز کوٹس انگلینڈکی بنی ہوتی تھی جو سب سے زیادہ استعمال ہوتی تھی ۔ موٹائی کے حوالے سے ڈوروں کے الگ الگ نمبر ہوتے تھے جیسا کہ 8,10اور18 نمبر کی ڈوریں استعمال کی جاتی تھیں ۔سب سے زیادہ استعمال کی جانے والی ڈور 10 نمبر کی تھی ۔ آٹھ نمبر کی سب سے موٹی ڈور ہوتی تھی جو بڑی پتنگوں کے لیے استعمال ہوتی تھی اور 18 نمبر چھوٹی پتنگوں کے لیے ہوتی تھی ۔لاہور میں بسنت کا تہوار تمام تہواروں کا بادشاہ تھا ۔اس کی آمد سے دو ہفتے پہلے ہی اس کی تیاریاں شروع کر دی جاتیں۔ دکانیں سج جاتیں۔ ہر طرف رنگ رنگ کی پتنگیں لٹکی نظر آتیں۔لکھنئو سے بھی وسیع سٹاک منگوالیا جاتا۔ماہر کھلاڑی پہلے ہی پتنگیں اور ڈوریں خرید لیتے تاکہ انہیں آخری وقت میں کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔لوہڑی کا تہوار جو عموماً13 جنوری کو منایا جاتا تھا اس روز بھی ہم پتنگیں اڑاکر بسنت کی مشق کرتے تھے ۔ بسنت فروری کے دوسرے ہفتے میں منائی جاتی تھی جو لاہور میں موسم سرما کے اختتام کا اعلان بھی ہوتا تھا۔پران نیول اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ’ بسنت کے دن کئی خوفناک حادثے بھی ہوتے تھے، کئی بچے، نوجوان زخمی ہوتے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ حادثے تب بھی ہوتے تھے لیکن پتنگ بازی جاری رہتی تھی ۔ بالکل اسی طرح جیسے دنیا میں سب سے زیادہ حادثے شراب نوشی کی وجہ سے ہوتے ہیں لیکن شراب نوشی پر پابندی نہیں لگائی جاتی بلکہ ڈرائیونگ کے لیے شراب نوشی کی ایک حد مقرر کر دی گئی ہے۔حد سے زیادہ شراب نوشی کر کے اگر کوئی ڈرائیونگ کرتے ہوئے پکڑا جائے تو اس کی شامت آ جاتی ہے ۔ لیکن مجھے نہیں لگتا کہ لاہور میں دھاتی ڈوریں بنانے والے جو کئی زندگیوں کو نگل چکے ہیں ان کی شامت آئی ہو ۔وہ گرفتار ہو بھی جائیں تو چھوٹ جاتے ہیں، ہمیں اپنے تہواروں پر پابندی نہیں لگانی چاہئے بلکہ ان کو نشان عبرت بنانا چاہئے جو خوشی کے ان تہواروں کو ماتم میں بدل دیتے ہیں۔

Back to top button