پنکی پیرنی اور عمران خان کے زہر دینے کے دعوے جھوٹے نکلے

فوجی قیادت پر قتل اور زہر خوانی کے الزامات عائد کرنے والی بشری بی بی المعروف پنکی پیرنی کو ان کے ذاتی معالج سمیت ڈاکٹروں کی ٹیم نے جھوٹا قرار دے دیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق عمران خان کے دعوؤں کے مطابق سابقہ خاتون اول کو زہر دینے کے دعوے میں کوئی حقیقت نہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں اڈیالہ جیل میں دوران سماعت بشری بی بی اور عمران خان نے دعوی کیا تھا کہ بشری بی بی کو سلو پوائزننگ کی جا رہی ہے اگر انھیں کچھ ہوا تو اس کے ذمہ دار آرمی چیف جنرل عاصم منیر ہونگے۔ بشری بی بی کے الزامات کے بعد حکومت نے ملزمان کو من پسند ڈاکٹروں سے معائنہ کروانے کی پیشکش کی تھی تاہم اب سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کے ذاتی معالج شوکت خانم ہسپتال کے ڈاکٹر عاصم نے پنکی پیرنی کے طبی معائنے کے بعد کہا ہے کہ بشریٰ بی بی کو کھانے میں زہر دینے کے کوئی اثرات نہیں ملے۔انہوں نے بتایا کہ ابھی بشری بی بی میں فوڈ پوائزنگ کے کوئی اثرات نہیں ملے ہیں، دو ماہ پہلے اگر کچھ تھا تو میں نے نہیں دیکھا اس لیے میں کہہ نہیں سکتا۔ڈاکٹر عاصم نے کہا کہ ابھی بھی عمران خان کی اہلیہ کی طبعیت سو فیصد ٹھیک نہیں ہے اس لیے ان کے تفصیلی ٹیسٹ ہونے چاہیے، امید ہے جلد ٹیسٹ کی اجازت مل جائے۔ان کا کہنا تھا کہ ٹیسٹ کے بعد فائنل ہو گا کہ ان کی طبیعت خرابی کی آخر کیا وجہ بنی۔

دوسری جانب پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز(پمز) کے ڈاکٹرز نے بانی تحریک انصاف عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کا تفصیلی طبی معائنہ کرنے کے بعد میڈیکل رپورٹ جاری کر دی ہے جس میں ان کی حالت کو تسلی بخش قرار دیا گیا ہے۔پمز ہسپتال کی ڈاکٹر عائشہ جاوید، ڈاکٹر عمارہ اسلام، ڈاکٹر عائشہ افضل اور ڈاکٹر ماریہ بلوچ نے بشریٰ بی بی کا تفصیلی معائنہ کرنے کے بعد اپنی رپورٹ جاری کی۔

پمز ہسپتال کے ڈاکٹرز کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیا کہ 51سالہ بشریٰ بی بی سی 4اپریل کو صبح ساڑھے 10 بجے سب جیل قرار دیے گئے بنی گالا میں ملاقات کی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ مریض نے بتایا کہ انہوں نے دو ماہ قبل کوئی خوراک لی تھی جس کی وجہ سے انہیں معدے میں جلن، ہونٹو پر سوزش، آنکھوں میں پانی آنے اور جلد خشک ہونے کی شکایت تھی۔انہوں نے بتایا کہ ایسا کئی گھنٹوں تک رہا جس کے بعد کچھ بہتری آ گئی، آئندہ چند دنوں کے دوران ان کے منہ کا ذائقہ خراب رہا جبکہ معدے میں درد کی بھی شکایت رہی۔رپورٹ کے مطابق مریض بشریٰ بی بی نے مزید بتایا کہ ابتدائی طور پر ان کا وزن بھی کچھ کم ہوا لیکن بعد میں وہ وزن بحال ہو گیا اور اس وقت انہیں منہ کے ذائقے میں خرابی اور پیٹ میں درد کی شکایت ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ مریضہ کے نبض، بلڈ پریشر، شرح تنفس کو چیک کیا گیا جو بالکل معمول کے مطابق تھی۔

مریضہ کی درخواست پر ان کے پیٹ کا بھی محدود معائنہ کیا گیا جس میں تمام چیزیں نارمل تھیں اور کوئی قابل تشویش بات نہیں تھی۔ڈاکٹرز نے بشریٰ بی بی کے کانوں بھی معائنہ کیا اور اس میں بھی تمام چیزیں نارمل رہیں جبکہ آنکھوں کا معائنہ نہیں کیا گیا کیونکہ مریضہ معائنہ کرانے میں دلچسپی نہیں رکھتی تھیں۔

ڈاکٹرز نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ مریضہ کو ماضی میں کوئی بیماری نہیں تھی اور تفصیلی معائنے کے بعد کوئی قابل تشویش بات یا علامات سامنے نہیں آئیں جس کے بعد ڈاکٹرز نے بشریٰ بی بی کو چند ادویہ کے ساتھ ساتھ چند احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا۔

واضح رہے کہ ایک روز قبل بانی تحریک انصاف عمران خان نے احتساب عدالت میں سماعت کے دوران انکشاف کیا تھا کہ ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو زہر دیا گیا ہے جس کے نشانات ان کی جلد اور زبان پر موجود ہیں۔بانی پی ٹی آئی نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ بشریٰ بی بی کا مکمل میڈیکل چیک اپ کروانے کا حکم دیا جائے اور یہ چیک اپ شوکت خانم میموریل ہسپتال میں کرایا جائے۔

دوسری جانب وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ سابق خاتون اول بشری بی بی کو زہر دینے یا ٹوائیلٹ کلینرکے قطرے کھانے میں ملانے کے شواہد نہیں ملے، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کا جھوٹ 24 گھنٹوں میں ہی بے نقاب ہوگیا۔اپنے بیان میں وزیراطلاعات پنجاب عظمی بخاری نے کہا پمزکے 4 سینئر ڈاکٹرز نے آج بشریٰ بی بی کا تفصیلی طبی معائنہ کیا۔میڈیکل ٹیم کےچیک اپ کے بعد واضح ہوگیا دونوں میاں بیوی عادتا جھوٹے ہیں، بشری بی بی اور بانی پی ٹی آئی نےالگ الگ بیانات دےکر بھی خود کوجھوٹا ثابت کیا۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان تو زمان پارک میں رہتے ہوئے بھی زہرکی باتیں کرتے تھے لیکن بشریٰ بی بی کو جھوٹ بولتے تھوڑا سا احساس کرنا چاہیے، دونوں میاں بیوی شاہانہ انداز میں شاہی جیل کاٹ رہے ہیں۔

Back to top button