کیا اسٹیبلشمنٹ تحریک انصاف کو پھر گود لینے والی ہے؟

گذشتہ چند دنوں کے دوران پیش آنے والے واقعات نے پاکستان تحریک انصاف اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مفاہمت کی چہ مگوئیوں کو مزید ہوا دی ہے۔ اڈیالہ جیل میں پابند سلاسل سابق وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے مذاکرات کیلئے ترلوں منتوں اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کی صوبائی کابینہ سمیت پشاور کور کمانڈر ہاؤس میں دعوت کے بعد پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین مفاہمت کی خبروں میں تیزی آ گئی ہے اس حوالے سے مختلف حلقوں میں بحث جاری ہے کہ کیا اسٹیبلشمنٹ دوبارہ عمران خان پر اعتماد کر کے اسے گود لینے والی ہے؟ کیا سابق وزیر اعظم کو اگلی باری دینے کا لولی پاپ دے کر خاموش رہنے کا پیغام دیا گیا ہے؟ کیا واقعی تحریک انصاف اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین کوئی ڈیل ہونے والی ہے؟
خیال رہے کہ اس سے قبل تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر گوہر خان کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آیا تھا کہ عمران خان اپریل کے مہینے میں رہا ہو جائیں گے۔ یہ دعویٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب نو مئی کے بعد گرفتار ہونے والے چند پارٹی کارکنان بھی رہا ہوئے اور دوسری جانب چند پارٹی رہنما دوبارہ عوامی سطح پر سامنے آئے۔ایسے میں وزیر اعلی خیبرپختونخوا کی جانب سے پشاور میں کور کمانڈر سے ملاقات کو مبینہ طور پر مفاہمت کے عمل کا حصہ سمجھا گیا۔ جس پر پارٹی کارکنان نے سوال بھی اٹھائے اور حکومتی ترجمان نے وضاحت بھی جاری کی تاہم حکومتی ترجمان کی جانب سے جاری بیان سے چہ مگوئیوں میں مزید شدت آ گئی۔ایسے میں سنیچر کے دن بانی تحریک انصاف عمران خان کی جانب سے صحافیوں سے گفتگو ہوئی تو اس معاملے پر ابہام دور ہونے کے بجائے کچھ اور بڑھ گیا۔
عمران خان نے اس گفتگو میں ایک جانب آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا نام لے کر ان پر الزامات لگائے تو دوسری جانب بات چیت کا دروازہ کھلا ہونے کا عندیہ بھی دیا۔
بانی پاکستان تحریک انصاف اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’آرمی چیف نے مجھے توڑنے کے لیے توشہ خانہ ریفرنس میں بشری بی بی کو سزا دلوائی۔ ’ساری قوم کو پتہ ہے کہ جنرل عاصم منیر ملک چلا رہا ہے۔‘عمران خان نے الزام عائد کیا کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور نواز شریف کے درمیان لندن پلان ہوا جس کے تحت ججوں کو بھی ساتھ ملایا گیا اور آئی ایس آئی نے ججوں کی تقرریاں کروائیں‘۔تاہم عمران خان نے یہ بھی کہا کہ حکومت گرانے کے باوجود دو مرتبہ جنرل باجوہ سے ملاقات کر سکتا ہوں تو کسی سے بھی ملاقات کر سکتا ہوں کیونکہ اس وقت میری ذات کا مسئلہ نہیں پاکستان کا ایشو ہے، مجھے قائل کر لیں۔
عمران خان کا یہ بیان سامنے آنے کے بعد تحریک انصاف سے منسلک چند افراد کی رائے یہ تھی کہ انھوں نے اسٹیبلشمنٹ سے مفاہمت کے معاملے پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کر دیا ہے۔
تحریک انصاف کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے والے تجزیہ کار ایاز امیر نے اسٹیبلشمنٹ سے پی ٹی آئی کے رابطوں کے معاملے پر کہا کہ ’پاکستان کا سیاسی سٹرکچر ایسا بن چکا ہے کہ آپ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو نظر انداز نہیں کر سکتے، یہ بہت مضبوط پولیٹیکل پلئیر ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کا استحقاق ہے۔‘
دوسری جانب تجزیہ کار سلمان غنی کہتے ہیں کہ دراصل عمران خان کی پارٹی جس بحران کا شکار ہے اس کا منبع عمران خان خود ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ عمران خان سیاسی جماعتوں سے بات نہیں کرنا چاہتے۔ وہ ایک وقت میں دونوں سایئڈ کو تھپکی دیتے ہیں۔سلمان غنی کا کہنا ہے کہ عمران خان ایک جانب سپہ سالار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں تو دوسری طرف وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کور کمانڈر پشاور میں افطار ڈنر میں جاتے ہیں
دوسری جانب صحافی اعزاز سید نے اس بارے میں تبصرہ کیا کہ ’بانی پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان کی جانب سے آرمی چیف پر تنقید تو ایک جانب مگر اس ساری صورت حال کے آغاز سے اُن کا موقف یہی ہے کہ وہ آرمی چیف سے خود بات کرنا چاہتے ہیں اور انھیں یہ یقین دلانا چاہتے ہیں کہ وہ فوج کے خلاف نہیں ہیں۔‘اُنھوں نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’عمران خان کی رہائی سے متعلق بھی بات چل رہی ہے اور آنے والے ایک دو ماہ کے دوران رہائی کا امکان بھی ہے، لیکن اگر عمران خان نے رہائی کے بعد بدستور فوجی قیادت کو تنقید کا نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا اور ’اُن‘ کی ریڈ لائن کراس کی تو ایسی صورتحال میں ہمیں تاریخ یہ بتاتی ہے کہ سیاستدانوں کو غیر فطری انجام سے دوچار کیا جاتا ہے۔‘اعزاز سید کا کہنا ہے کہ ’اس وقت حکومت کی بھی کوشش ہے کہ حالات معمول پر آجائیں، اور جو مخالفت کی کہیں سے آواز اُٹھ رہی ہے وہ بھی خاموش ہو جائیں۔ اس وقت مسئلہ بانی پاکستان تحریکِ انصاف کا ہے کہ وہ کسی طرح سے مخالفت کی بات سے ہٹ کر سیاسی نظام کو چلنے دیں، لیکن اس سب میں عمران خان اگر بات کرنا چاہتے ہیں تو وہ آرمی چیف سے۔‘
تاہم سیاسی تجزیہ کار نصرت جاوید کا کہنا ہے کہ ’بانی پی ٹی آئی کی جانب سے سامنے آنے والا وہ بیان کے جس میں انھوں نے آرمی چیف کا نام لے کر انھیں تنقید کا نشانہ بنایا ہے کے بعد یہ معاملہ بہت پیچیدہ ہو گیا ہے کہ ایک جانب تو فوج کے ساتھ مفاہمت کی خبریں سامنے آرہی ہیں اور دوسری جانب عمران خان کا آرمی چیف پر تنقید کرنا معاملہ سمجھ سے باہر ہے۔‘مگر نصرت جاوید اعزاز سید کی اس بات سے اس انداز میں اتفاق کرتے ہیں کہ ’گزشتہ روز کے اس سخت بیان میں ایک پیغام آرمی چیف کے لیے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ ناراض کیوں ہیں آئیں بیٹھیں بات تو کریں، مگر ایسے میں اگر اسٹیبلیشمنٹ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ بات کرنے پر آمادگی ظاہر کرتی ہے تو اسے یوں بھی لیا جائے گا کہ انھوں نے دباؤ کی وجہ سے بات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘
