خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کی بازگشت

27 ستمبر کے لانگ مارچ سے پہلے سیاسی کشیدگی انتہا پر پہنچنے کے بعد وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کی بازگشت سنائی دینا شروع ہو گئی ہے۔ اس حوالے سے وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے بھی کہہ دیا ہے کہ آئین کے تحت خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کا آپشن حکومت کے زیر غور ہے۔

یاد رہے کہ اس مرتبہ اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان خیبر پختون خواہ کے وزیراعلی سہیل آفریدی نے کر رکھا ہے۔ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت 27 ستمبر کو اسلام آباد میں احتجاج کی تیاریوں میں مصروف ہے جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے واضح طور پر یہ فیصلہ دے دیا ہے کہ کسی بھی طرح کے احتجاج میں سرکاری وسائل کے استعمال پر متعلقہ حکومتی عہدے داران کے خلاف ایکشن لیا جا سکتا ہے۔ وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ خیبرپختونخوا کی حکومت کو امن و امان، دہشت گردی اور انتظامی معاملات پر زیادہ توجہ دینی چاہیے، جبکہ صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ سیاسی احتجاج کو روکنے کے لیے گورنر راج نافذ کرنے کی دھمکی دینا سیاسی دباؤ کے مترادف ہے۔

ادھر تحریک انصاف کا لانگ مارچ روکنے کے لیے موٹروے کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ اسلام آباد اور اٹک کے اہم مقامات پر دو ہزار سے زائد کنٹینرز پہنچائے جانے کی اطلاعات ہیں، مختلف صوبوں سے اضافی پولیس نفری طلب کی گئی ہے جبکہ پولیس نے سکیورٹی انتظامات کے لیے کروڑوں روپے کے اضافی اخراجات بھی طلب کیے ہیں۔ حکام کی جانب سے سکیورٹی پلان 26 ستمبر تک مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اسلام آباد کو طویل احتجاج، سڑکوں کی بندش اور ایسی سرگرمیوں کے ذریعے مفلوج کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اسی کشیدہ ماحول میں خیبرپختونخوا میں گورنر راج کی بحث نے سیاسی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے آئینی آپشن پر غور کیے جانے کی بات کی ہے، تاہم وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے واضح کیا ہے کہ فی الحال خیبرپختونخوا حکومت ختم کرنے کا کوئی حتمی منصوبہ نہیں بنایا گیا۔

تحریک انصاف اس صورت حال کو سیاسی دباؤ قرار دے رہی ہے۔ پارٹی قیادت کا کہنا ہے کہ 27 ستمبر کا احتجاج پرامن اور آئینی حق کے تحت ہوگا، جبکہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے بھی گورنر راج کی بات پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ تحریک انصاف کا مؤقف ہے کہ صوبائی حکومت عوام کے ووٹ سے قائم ہوئی ہے اور وفاق کو سیاسی اختلافات کا حل انتظامی اقدامات کے بجائے سیاسی مذاکرات کے ذریعے تلاش کرنا چاہیے۔ دوسری طرف وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ آئینی اور قانونی حدود سے تجاوز کی صورت میں ریاست کے پاس دستیاب تمام قانونی راستے زیرغور رہیں گے۔

وفاقی حکومت کے لیے گورنر راج کے معاملے میں ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ اگر ایسا قدم اٹھایا جاتا ہے تو اسے طویل عرصے تک برقرار رکھنے کی آئینی گنجائش کتنی ہے۔ یہاں آئین کے آرٹیکل 234 کی پوزیشن بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اس آرٹیکل کے تحت اگر صدر اس بات سے مطمئن ہوں کہ کسی صوبے کی حکومت آئین کے مطابق نہیں چلائی جاسکتی تو وہ مخصوص حالات میں اعلان جاری کرکے صوبائی حکومت کے اختیارات اپنے ہاتھ میں لے سکتے ہیں یا گورنر کو صدر کی جانب سے یہ اختیارات استعمال کرنے کی ہدایت کرسکتے ہیں۔ صوبائی اسمبلی کے اختیارات بھی آئینی طریقہ کار کے مطابق پارلیمان کے ذریعے استعمال کیے جاسکتے ہیں۔

آئین کے مطابق آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج کا اعلان ابتدا میں دو ماہ تک مؤثر رہ سکتا ہے، لیکن اس کے بعد اسے برقرار رکھنے کے لیے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کی منظوری ضروری ہوتی ہے۔ منظوری ملنے کی صورت میں اس مدت میں مزید توسیع کی جاسکتی ہے، تاہم آئین کے تحت اس طرح کے اعلان کو مجموعی طور پر چھ ماہ سے زیادہ برقرار نہیں رکھا جاسکتا۔ اس لیے گورنر راج ایسا اقدام نہیں جسے وفاقی حکومت اپنی مرضی سے غیر معینہ مدت تک جاری رکھ سکے۔ اس کے لیے آئین میں مقررہ پارلیمانی طریقہ کار اور مدت کی پابندی لازم ہے۔

لیکن یہاں ایک اہم سیاسی پہلو بھی موجود ہے۔ خیبر پختونخوا اسمبلی میں تحریک انصاف اور اس کے اتحادیوں کی حکومت ہے، اس لیے صوبائی سطح پر وفاق کے لیے ایسا سیاسی راستہ اختیار کرنا آسان نہیں ہوگا جس سے گورنر راج کے بعد طویل المدت انتظامی بندوبست پیدا ہوسکے۔ تاہم آئینی طور پر یہ وضاحت ضروری ہے کہ گورنر راج کی توسیع کے لیے براہ راست خیبرپختونخوا اسمبلی کی منظوری شرط نہیں بلکہ آرٹیکل 234 کے تحت پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کی منظوری درکار ہوتی ہے۔ چنانچہ اصل سیاسی سوال یہ ہوگا کہ وفاقی حکومت کے پاس پارلیمان میں مطلوبہ حمایت موجود ہے یا نہیں اور وہ آئینی تقاضے پورے کرتے ہوئے اس راستے پر آگے بڑھنا چاہتی ہے یا نہیں۔

آئینی ماہرین کہتے ہیں کہ آرٹیکل 232 اور آرٹیکل 234 کے فرق کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔ آرٹیکل 232 بنیادی طور پر جنگ، بیرونی جارحیت یا ایسی داخلی بدامنی کے باعث ہنگامی حالت سے متعلق ہے جو صوبائی حکومت کے قابو سے باہر ہو، جبکہ کسی صوبے میں آئینی مشینری کی ناکامی کی بنیاد پر مخصوص گورنر راج کا طریقہ آرٹیکل 234 میں دیا گیا ہے۔ موجودہ سیاسی بحث میں حکومتی سطح پر آرٹیکل 232 کا حوالہ دیا گیا ہے، تاہم صوبائی آئینی مشینری کی ناکامی کی صورت میں متعلقہ آئینی شق آرٹیکل 234 ہے۔ اس فرق کی وجہ سے کسی بھی ممکنہ اقدام کی آئینی بنیاد اور طریقہ کار انتہائی اہم ہوجاتا ہے۔

اقتدار کی کرسی شہباز شریف کے  گلے کی ہڈی کیوں بن گئی؟

یوں 27 ستمبر سے پہلے پیدا ہونے والی صورتحال محض تحریک انصاف کے احتجاج یا اسلام آباد کی سکیورٹی کا معاملہ نہیں رہی بلکہ وفاق اور خیبرپختونخوا کے درمیان سیاسی اور آئینی کشمکش بھی بن گئی ہے۔ وفاقی حکومت کے سامنے امن و امان، دہشت گردی اور احتجاج سے پیدا ہونے والی صورتحال کے حوالے سے اپنے مؤقف کے ساتھ ساتھ گورنر راج کے آئینی تقاضے بھی موجود ہیں، جبکہ تحریک انصاف کے پاس صوبائی حکومت اور صوبائی اسمبلی کی سیاسی طاقت موجود ہے۔ آنے والے دنوں میں اصل سوال یہ ہوگا کہ وفاق اور خیبرپختونخوا کے درمیان کشیدگی مذاکرات سے کم ہوتی ہے یا 27 ستمبر کے احتجاج کے تناظر میں گورنر راج سمیت دیگر آئینی و قانونی آپشنز عملی بحث کا حصہ بن جاتے ہیں۔

Back to top button