ہٹ دھرم عمران خان کی عید کے بعد بھی رہائی ممکن نہیں

سینئر صحافی اور سیاسی تجزیہ کار حامد میر نے عید کے بعد بانی تحریک انصاف عمران خان کی فوری رہائی کے امکانات کو مسترد کرتے ہوۓ کہا ہے کہ عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے ایک دوسرے کے بارے میں موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی سائفر اور عدت کیس میں ضمانت ھو بھی جاۓ تب بھی عمران کو کسی اور کیس میں جیل میں ہی رکھا جائے گا. جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوۓ حامد میر نے کہا کہ وکیل حضرات ہمیشہ یہ ہی دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کا موکل خواہ وہ عمران خان ہوں ، نواز شریف ہوں ، آصف زرداری یا کوئی بھی ہو وہ عنقریب رہا ہو جائیں گے مگر عمران خان کیونکہ جیل میں ہیں اور جو افراد یا صحافی جیل میں عمران سے ملتے ہیں ان سے گفتگو کریں تو تو پتہ چلتا ہے ہے کہ عمران خان کو ایسی کوئی امید نہیں کہ انہیں جلد رہا کر دیا جاۓ گا. عمران خان کی اگر سائفر کیس میں ضمانت ھو جاتی ھے عدت کیس میں بھی ضمانت ھو جاتی ھے تب بھی ان پر دو سو کے قریب کیس ہیں ان کو جیل میں ہی رکھا جائے گا ۔ عمران خان نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کوئی بیک چینل نہیں کھولا اور نہ وہ کوئی خفیہ ڈیل کرنے کی کوشش کر رھے ہیں بلکہ وہ ایسا کرنے کی کوشش کرنے والے تحریک انصاف کے رہنماؤں کی بھی حوصلہ شکنی کر رھے ہیں جنہوں نے کوئی بیک ڈور چینل کھول رکھ ھے یا وہ کسی سے جا کر ملاقات کرتے ہیں۔ عمران خان نے تو اس حد تک اپنے لوگوں کو کہہ دیا ھے کہ اگر کسی نے میرے نام پر کسی سے کوئی ڈیل کرنے کی کوشش کی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ھو گا کیونکہ میں کسی کی کوئی ڈیل منظور نہیں کروں گا ۔ حامد میر کے مطابق عمران خان نے اپنی پارٹی کے لیڈروں کو یہ بھی کہہ دیا ھے کہ آپ لوگ اپنی فکر کریں میری فکر مت کریں میں جیل میں ھی ٹھیک ھوں ۔ عمران خان نے تحریک انصاف کے بہت سینئر رہنما کو اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے یہ تک کہہ دیا ھے کہ انہوں نے نواز شریف کو فتح کر لیا ، آصف زرداری کو فتح کر لیا مگر مجھے فتح نہیں کر سکیں گے میں مر جاؤں گا مگر ان کے ساتھ ڈیل نہیں کروں گا ۔ حامد میر کا کہنا تھا کہ ایک طرف تو عمران خان کہہ رہے ہیں کہ میں نے کوئی ڈیل نہیں کرنی اور پچھلے دو روز سے دوسری سائیڈ بھی یہی کہہ رہی ہے کہ کوئی ڈیل نہیں ہو گی کیونکہ انھوں نے خیبر پختون خواہ کے وزیر اعلی علی امین گنڈا پور اور صوبائی کابینہ کے جن ارکان کو بلا کر ملاقات کی اس کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلا لہذا نو مئی کے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ کی پوزیشن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اسی طرح عمران خان کی بھی اسٹیبلشمنٹ کے بارے پوزیشن میں رتی بھر تبدیلی نہیں آئی بلکہ اسٹیبلشمنٹ بارے ان کا موقف دن بدن سخت تر ہوتا جا رہا ہے . حامد میر نے بتایا کہ اس صورت حال کی وجہ یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے تحریک انصاف کے کچھ رہنماؤں کے ذریعےعمران خان سے جو بھی بات چیت کرنے کی کوشش کی اس میں اسے ناکامی ہوئی ہے. وزیر اعلی علی امین گنڈا پوراور تحریک انصاف کے کچھ دیگر رہنماؤں پر بھی نو مئی کے کیس ہیں لیکن انہیں اسٹبشمنٹ کی جانب سے بلا کر کھانے بھی کھلاۓ جاتے ہیں بات چیت بھی کی جاتی ہے . عمران خان دراصل موجودہ اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت اس شرط پر کرنا چاہتے ہیں کہ اسٹبشمنٹ یہ تسلیم کرے کہ اس نے عمران خان کی حکومت غلط طور پر گرائی اور ان کے خلاف غلط مقدمے قائم کیے . اسٹیبلشمنٹ کا رویہ ان کے بارے میں غلط تھا اور عمران خان درست سمت میں کھڑے ہیں. یعنی اسٹیبلشمنٹ عمران خان کے پاس جا کر اپنا ساری غلطیاں مانے تب وہ بات کرنے کو تیار ہے. حامد میر کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف میں اختلافات آج سے نہیں بہت پرانے چلے آرھے ہیں ماضی میں شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین کے درمیان سخت اختلافات تھے . ہر بری پارٹی میں اختلافات ہوتے ہیں تحریک انصاف میں بھی ہیں . لیکن عید کے بعد مسلم لیگ نون میں جو اختلافات سامنے آئیں گے ان کے سامنے آپ کو تحریک انصاف کے کے اختلافات چھوٹے نظر آئیں گے . ان اختلافات کی وجہ وہ لوگ ہیں جو مسلم لیگ نون کے ووٹوں سے سنیٹر بن چکے ہیں مگر اب نون لیگ کو احساس ہو رہا ہے کہ اس سے غلطی ہو چکی ہے
