ایران اور امریکا کی جنگ پاکستان کو کیسے راس آگئی

امریکہ اور ایران جنگ کے نتیجے میں آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی بحری تجارتی رکاوٹیں کم از کم پاکستان کے لیے کافی فائدہ مند ثابت ہو رہی ہیں۔ ان رکاوٹوں نے پاکستان کی بحری بندرگاہوں کے لیے غیر معمولی کاروباری مواقع پیدا کر دیے ہیں، جس کے نتیجے میں کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم پر کارگو میں 120 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ کراچی پورٹ ٹرسٹ نے اپنی 138 سالہ تاریخ میں منافع اور کارگو ہینڈلنگ کے نئے ریکارڈ قائم کر دیئےہیں۔

سرکاری حکام کے مطابق خلیجی ممالک، خصوصاً قطر، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب جانے والا سامان بڑی تعداد میں پاکستانی بندرگاہوں کا رخ کرنے لگا ہے، جبکہ پاکستان کی میری ٹائم انڈسٹری کی شرح نمو بھی گزشتہ مالی سال میں ڈھائی سے تین فیصد سے بڑھ کر ساڑھے آٹھ سے نو فیصد تک پہنچ گئی۔ اس غیر متوقع اضافے سے نہ صرف بندرگاہوں کی آمدن میں نمایاں اضافہ ہوا بلکہ مزدوروں کے لیے روزگار اور اضافی آمدن کے مواقع بھی پیدا ہوئے ہیں۔

چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ ریئر ایڈمرل (ر) شاہد احمد کے مطابق آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والے بحران نے پاکستان کے جغرافیائی محل وقوع کی اہمیت ایک مرتبہ پھر اجاگر کر دی ہے کیونکہ کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر ایسی بندرگاہیں ہیں جہاں سے سامان دنیا کے مختلف حصوں تک پہنچانے کے لیے آبنائے ہرمز سے گزرنا ضروری نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ اور بحری راستوں میں غیر یقینی کے باعث خلیجی ممالک کی جانب جانے والا بہت سا کارگو کراچی اور پورٹ قاسم منتقل ہوا، جبکہ وسطی ایشیائی ممالک کا وہ سامان بھی پاکستانی بندرگاہوں پر پہنچنے لگا جو پہلے ایران کے راستے منتقل کیا جاتا تھا۔ قطر، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہیں۔

شاہد احمد کے مطابق جون 2026 میں ختم ہونے والے مالی سال کے دوران پاکستانی بندرگاہوں پر کارگو میں 120 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس عمل میں بڑے بحری جہازوں سے کنٹینرز اتار کر چھوٹے جہازوں میں منتقل کیے جاتے ہیں، جن کے ذریعے یہ سامان مختلف ممالک اور علاقائی بندرگاہوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ ان کے بقول اس عرصے میں کراچی پورٹ نے 120 فیڈر جہاز چلائے جبکہ 180 ایسے بحری جہازوں کو بھی کراچی آنے کی دعوت دی گئی جن کی اصل منزل پاکستان نہیں تھی۔ علاقائی سطح پر مسابقت بڑھانے اور مزید جہازوں کو اپنی جانب راغب کرنے کے لیے کراچی پورٹ پر ٹرانسشپمنٹ ہینڈلنگ چارجز میں 80 فیصد تک کمی بھی کی گئی۔

کراچی پورٹ ٹرسٹ کے چیئرمین نے دعویٰ کیا کہ حالیہ مالی سال میں کراچی پورٹ نے اپنی 138 سالہ تاریخ میں منافع اور کارگو ہینڈلنگ کے نئے ریکارڈ قائم کیے ہیں جبکہ رواں مالی سال کے دوران مزید 10 فیصد اضافے کی توقع ہے۔ بندرگاہ پر ایک نئی کاروباری سرگرمی کے طور پر بنکرنگ سروس بھی شروع کی گئی ہے، جس کے تحت بحری جہازوں کو بندرگاہ پر لنگر انداز کیے بغیر سمندر میں ہی ایندھن فراہم کیا جاتا ہے۔ شاہد احمد کے مطابق گزشتہ چھ سے آٹھ ماہ کے دوران تقریباً 170 جہازوں کو یہ سہولت فراہم کی جا چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بنکرنگ کے باعث نئی کاروباری سرگرمیاں پیدا ہونے کے ساتھ روزگار کے مواقع بھی بڑھیں گے کیونکہ ایندھن حاصل کرنے کے لیے آنے والے جہاز دیگر بندرگاہی خدمات بھی استعمال کرتے ہیں۔

پاکستان شپ ایجنٹس ایسوسی ایشن کے چیئرمین کیپٹن جاوید اقبال کے مطابق مشرق وسطیٰ کے بحران اور آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کے نتیجے میں پاکستان کی میری ٹائم انڈسٹری کی ترقی کی رفتار میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 2020 سے اس شعبے کی شرح نمو ڈھائی فیصد کے قریب رکی ہوئی تھی، تاہم گزشتہ مالی سال میں یہ بڑھ کر ساڑھے آٹھ سے نو فیصد تک پہنچ گئی۔ اس اضافے کی ایک بڑی وجہ وہ ہنگامی کارگو تھا جو روایتی سمندری راستوں میں خلل کے باعث پاکستان منتقل ہوا۔

تاہم ان کے مطابق کاروباری سرگرمیوں میں اضافے کے باوجود بندرگاہوں کے اطراف سڑکوں اور دیگر بنیادی سہولتوں کا نظام بہتر نہیں ہو سکا، جس کی وجہ سے سامان کی نقل و حمل میں تاخیر ہوتی ہے۔ اگر انفراسٹرکچر بہتر بنایا جائے تو پاکستان مزید عالمی کارگو اپنی جانب راغب کر سکتا ہے۔ بندرگاہوں پر بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے مثبت اثرات مزدوروں کی آمدن پر بھی مرتب ہوئے ہیں۔ کراچی پورٹ پر کام کرنے والے مزدور اور یونین عہدیدار حسین بادشاہ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جنگ کے بعد کارگو میں اضافے سے مزدوروں کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ کام ملنے لگا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی مزدور کو پہلے مہینے میں تقریباً 10 دن کام ملتا تھا تو اب یہ تعداد بڑھ کر 20 دن تک پہنچ سکتی ہے، جس سے اس کی آمدن تقریباً دگنی ہو جاتی ہے۔ ایک دوسرے مزدور محمد ابراہیم کے مطابق پہلے انہیں مہینے میں 12 سے 13 دن کام ملتا تھا، تاہم اب یہ تعداد بڑھ کر 15 سے 16 دن ہو گئی ہے، جس سے بندرگاہ پر کام کرنے والے محنت کشوں کو براہ راست مالی فائدہ پہنچا ہے۔

Back to top button