کیا مولانا طالبان سے بچنے کے لیے فوج سے ٹکرا رہے ہیں؟

سینئر صحافی سہیل وڑائچ نے کہا یے کہ مولانا فضل الرحمان فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ محاذ آرائی اس لیے جاری رکھے ہوئے ہیں کہ وہ خیبرپختونخوا میں تحریک طالبان اور داعش کے نشانے پر نہیں آنا چاہتے۔ ان کے مطابق مولانا کا خیال ہے کہ اگر انہیں خیبر پختون خواہ میں اقتدار بھی نہ ملے اور جمعیت علمائے اسلام کے حامیوں کو طالبان کے حملوں کا خطرہ بھی مول لینا پڑے تو ایسی سیاست کا کوئی فائدہ نہیں۔
اپنے ایک وی لاگ میں سہیل وڑائچ نے کہا کہ مولانا تاثر تو یہی دیتے ہیں کہ ان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ سے اصل ناراضی پچھلے الیکشن میں ہو نے والی دھاندلی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ 2024 میں خیبر پختونخواہ میں تحریک انصاف کا زور تھا اور اسی لیے باقی تمام جماعتوں کو بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ سہیل وڑائچ کے مطابق مولانا فضل الرحمان کی موجودہ لڑائی بظاہر وفاقی حکومت یا وزیراعظم شہباز شریف سے نہیں بلکہ براہِ راست فوجی اسٹیبلشمنٹ سے ہے۔ ماضی میں ان کے مسلم لیگ (ن) کے وزراء اور قیادت کے ساتھ اچھے تعلقات رہے ہیں اور نواز شریف، شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ بھی ہمیشہ کوشش کرتے رہے کہ مولانا کے ساتھ اختلافات اس حد تک نہ بڑھیں کہ مفاہمت کا راستہ بند ہوجائے۔
تاہم اب محسن نقوی، خواجہ آصف، طلال چوہدری، عابد شیر علی اور حنیف عباسی جیسی حکومت شخصیات کے سخت بیانات نے اس کشیدگی کو مزید نمایاں کردیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مولانا نے پنجاب میں اپنی حالیہ تقاریر کے دوران فوج، شہداء، حب الوطنی اور ریاست سے متعلق معاملات پر کھل کر اظہار خیال کیا، جس سے ان کے اصل اختلاف کی نوعیت واضح ہوتی ہے۔
سینئیر صحافی کے بقول الیکشن سے پہلے بھی مولانا کے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ چھوٹے موٹے اختلافات رہے، لیکن معاملات چلتے رہے اور انتخابات سے قبل انہیں مفاہمت کے لیے افغانستان بھی بھیجا گیا تھا۔ تاہم انتخابات کے بعد مولانا مسلسل یہ مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں کہ ان کے ساتھ دھاندلی ہوئی اور خیبر پختون خوا میں تحریک انصاف کو ملنے والی سیٹیں بھی دھاندلی کے ذریعے دلوائی گئیں، جس کے بعد دونوں کے درمیان اختلافات شدت اختیار کرگئے۔ تاہم مولانا کا یہ موقف ایک کھلا تضاد ہے چونکہ اب وہ اسی تحریک انصاف کے اتحادی بنے ہوئے ہیں جس کو مبینہ طور پر دھاندلی کے ذریعے الیکشن جتوایا گیا۔
سہیل وڑائچ کے مطابق موجودہ حالات میں بظاہر مولانا فضل الرحمان کے لیے یہ ایک موقع تھا کہ وہ اپنی جماعت کی سیاسی حیثیت استعمال کرتے ہوئے پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کے بعد صوبے میں اقتدار کا حصہ بن جاتے۔ جمعیت علمائے اسلام صوبے کی دوسری بڑی سیاسی قوت ہونے کے باعث اس عمل میں اہم کردار ادا کرسکتی تھی، لیکن مولانا نے اس راستے پر چلنے کے بجائے انتظار اور احتیاط کی حکمت عملی اختیار کی ہے۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے سہیل وڑائچ نے کہا کہ تحریک انصاف کی گزشتہ کئی برسوں سے یہ حکمت عملی رہی ہے کہ وہ تحریک طالبان پاکستان اور داعش کی کارروائیوں کا براہِ راست نشانہ نہ بنے اور ان کے ساتھ کسی نہ کسی سطح پر رابطے برقرار رکھے، جبکہ مولانا فضل الرحمان کے طالبان اور داعش کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں ہیں۔ ان کے مطابق مولانا اپنے آبائی علاقے ڈیرہ اسماعیل خان جانے سے بھی قاصر ہیں اور وہاں امن و امان کی خراب صورتحال کے باعث ان کے قریبی ساتھی بھی پریشان رہتے ہیں۔ ایسے میں اگر مولانا حکومت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کھڑے ہوجاتے تو جمعیت علمائے اسلام طالبان کے حملوں کا بڑا ہدف بن سکتی تھی۔
سہیل وڑائچ کے مطابق مولانا فضل الرحمان یہ خطرہ مول لینے کے لیے تیار نہیں کہ انہیں اقتدار بھی نہ ملے اور ان کی جماعت کی قیادت شدت پسندوں کے حملوں کی زد میں بھی آ جائے۔ ان کے بقول یہی وجہ ہے کہ مولانا فی الحال حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کرنے کے بجائے انتظار کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں، اس دوران انہوں نے تحریک انصاف کو اپنے اتحادی کے طور پر چن لیا، لیکن ان کی یہ حکمت عملی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو پسند نہیں آئی جس کے نتیجے میں مولانا کے خلاف ایسا سخت ردعمل سامنے آ رہا یے جس کی شاید انہیں بھی توقع نہیں تھی۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختون خوا میں کسی بڑے فوجی آپریشن کو کامیاب بنانے کے لیے مولانا اور جمعیت علمائے اسلام کو اعتماد میں لینا ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق صوبے میں دیوبند مکتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے علماء، مذہبی شخصیات اور جمعیت علمائے اسلام کے حامیوں کی بڑی تعداد موجود ہے، اس لیے مذہبی شدت پسندی کے خلاف کارروائی میں ان کی حمایت اور تعاون اہمیت رکھتا ہے۔ سہیل وڑائچ کے خیال میں موجودہ تلخیوں اور ایک دوسرے کے خلاف سخت بیانات کے باوجود حکومت اور مولانا کے درمیان مفاہمت کا کوئی راستہ نکالنا چاہیے۔
مولانا فضل الرحمان کی سیاسی حیثیت کا تجزیہ کرتے ہوئے سہیل وڑائچ نے کہا کہ انہیں محض ایک مذہبی رہنما سمجھنا درست نہیں، کیونکہ وہ مکتبِ دیوبند کی سب سے مضبوط سیاسی جماعت جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بااثر سیاسی شخصیت بھی ہیں۔ ان کے بقول جب مولانا نے عملی سیاست کا آغاز کیا تو اس وقت مولانا عبداللہ درخواستی اور مولانا عبدالحق جیسی بڑی دینی شخصیات موجود تھیں، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ وہ دیوبندی سیاست کے نمایاں ترین رہنما بن کر ابھرے۔ حنفی سیاست کے وسیع تر تناظر میں بھی ان کی نمائندگی اہم ہے اور مولانا شاہ احمد نورانی کے صاحبزادے کی ان کے ساتھ سیاسی وابستگی نے اس دائرے کو مزید وسعت دی ہے۔
سہیل وڑائچ کے مطابق مولانا کی اصل سیاسی خصوصیت ان کی معاملہ فہمی، منطق اور استدلال ہے۔ وہ اپنے مؤقف کے حق میں ایسی ٹھوس مثالیں اور دلائل پیش کرتے ہیں کہ ان کی بات کو رد کرنا آسان نہیں ہوتا۔ انہوں نے مولانا کے سیاسی سفر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ابتدا میں جمعیت علمائے اسلام کی قومی اسمبلی میں بمشکل ایک یا دو نشستیں ہوا کرتی تھیں، جبکہ ماضی میں مولانا مفتی محمود صرف ایک مرتبہ نیشنل عوامی پارٹی کے ساتھ مل کر اقتدار میں آئے تھے۔ اس کے برعکس مولانا فضل الرحمان نے بتدریج اپنی جماعت کی سیاسی حیثیت مضبوط کی، صوبائی حکومتوں میں حصہ لیا، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کے چیئرمین رہے اور دیگر اہم حکومتی عہدوں پر بھی فائز ہوئے۔ اس طرح انہوں نے مسلسل حکومتی ڈھانچے کا حصہ رہتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام کی سیاسی نمائندگی اور اثر و رسوخ میں اضافہ کیا ہے۔ تاہم ماضی میں جنرل مشرف کی فوجی حکومت کی حمایت کرنے والے مولانا فضل الرحمن اس وقت نام نہاد اصولی موقف اپناتے ہوئے فوج کی سیاست میں مداخلت کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔
