ایم کیو ایم پاکستان کے اندر اقتدار کی نئی جنگ شروع

 

 

 

یکم جنوری کو کراچی میں منعقدہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے جنرل ورکرز کنونشن نے پارٹی کے اندر اقتدار کی نئی جنگ چھیڑ دی ہے، خالد مقبول صدیقی، فاروق ستار اور وسیم اختر کے بعد اب کئی برس سے روپوش حماد صدیقی بھی پارٹی سربراہی کے ممکنہ امیدوار کے طور پر دوڑ میں شامل ہو گئے ہیں۔تاہم کنونشن میں کارکنوں کی انتہائی کم تعداد میں شرکت نے ان تمام رہنماؤں کی سیاسی اور تنظیمی قوت پر سوالات اٹھا دیے ہیں اور پیپلز پارٹی کے اس مؤقف کو تقویت دی ہے کہ ایم کیو ایم اب کراچی میں پہلے جیسا سیاسی اثرورسوخ نہیں رکھتی۔

 

کنونشن کے بعد ایم کیو ایم کے اندرونی حلقوں میں یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ ورکرز کنونشن میں شریک کارکن خالد مقبول صدیقی اور دیگر سینئر رہنماؤں کی اپیل پر آئے تھے یا اس اجتماع کے پیچھے حماد صدیقی کا تنظیمی اثرورسوخ کارفرما تھا۔ پارٹی کے اندر اس حوالے سے مختلف دعوے کیے جا رہے ہیں، جبکہ بظاہر خاموش نظر آنے والی قیادت کے درمیان اختیارات اور پارٹی کی سربراہی کے حصول کی کشمکش شدت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔

 

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق حماد صدیقی کی ممکنہ واپسی اور انہیں تنظیمی معاملات کا بااثر کھلاڑی قرار دیے جانے سے یہ مقابلہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔ ادھر خالد مقبول صدیقی کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ کنونشن میں کارکنوں کی آمد ان کی طویل سیاسی جدوجہد اور مسلسل تنظیمی محنت کا نتیجہ تھی۔ خالد مقبول کے حامی انہیں ایم کیو ایم کے لیے ایک ایسے متبادل رہنما کے طور پر پیش کرتے ہیں جو الطاف حسین کے بعد پارٹی کو متحد رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ دوسری طرف فاروق ستار کے حامیوں کا کہنا ہے کہ جنرل ورکرز کنونشن کے انعقاد میں ان کا بنیادی کردار تھا، کیونکہ یہ ان کا آبائی علاقہ ہے اور کراچی میں ان کا سیاسی نیٹ ورک اب بھی موجود ہے۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی کے خلاف فاروق ستار کی جارحانہ تنقید نے بھی ایم کیو ایم کے کارکنوں میں نئی سیاسی سرگرمی پیدا کی ہے۔

 

لیکن یاد رہے کہ ایم کیو ایم کی سربراہی کے ایک اور امیدوار وسیم اختر بھی ہیں، جن کے حامی ان کی مسلسل سیاسی سرگرمیوں، کارکنوں سے رابطوں، ٹی وی ٹاک شوز میں مؤقف اور الطاف حسین کے حق میں دیے جانے والے بیانات کو ان کی مقبولیت کی وجہ قرار دیتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اتوار کے کنونشن میں کارکنوں کی شرکت میں وسیم اختر کی شخصیت اور سیاسی سرگرمیوں کا بھی اہم کردار تھا۔ یوں پارٹی کی سربراہی کے لیے خالد مقبول صدیقی، فاروق ستار اور وسیم اختر کے درمیان پہلے سے موجود مقابلے میں حماد صدیقی کا نام بھی شامل ہو گیا ہے۔

 

حماد صدیقی کے حوالے سے پارٹی کے اندر ایک مختلف بیانیہ سامنے آ رہا ہے۔ ان کے بعض حامی انہیں کراچی کی سیاست اور ایم کیو ایم کے تنظیمی ڈھانچے پر غیر معمولی اثرورسوخ رکھنے والی شخصیت قرار دیتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ مستقبل میں پارٹی کے سیاسی اور تنظیمی معاملات کا کنٹرول سنبھال سکتے ہیں۔ حماد صدیقی کا نام ماضی میں بلدیہ فیکٹری آتشزدگی اور محبت ریلی کے دوران فائرنگ سمیت متعدد مقدمات کے حوالے سے بھی سامنے آتا رہا ہے، تاہم ان مقدمات میں ان کی قانونی حیثیت اور الزامات کو عدالتی فیصلوں سے الگ رکھنا ضروری ہے۔ ان کے حامیوں کے بعض دعوے یہاں تک ہیں کہ کراچی کی کاروباری سرگرمیوں پر بھی ان کا اثرورسوخ رہا ہے، لیکن ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق موجود نہیں۔

 

ایم کیو ایم کے تنظیمی ڈھانچے کا جائزہ لیا جائے تو کراچی میں پارٹی کے تقریباً 30 سیکٹرز اور 240 یونٹس موجود ہیں، جبکہ متحدہ آرگنائزنگ کمیٹی، مضافاتی کمیٹی، سینئر سٹیزن کمیٹی، طلبہ تنظیم آل پاکستان متحدہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن، خواتین ونگ اور لیبر ڈویژن سمیت متعدد ذیلی تنظیمیں بھی کام کرتی ہیں۔ ان تمام شعبوں کے عہدیداروں کی مجموعی تعداد تقریباً چار ہزار بتائی جاتی ہے، جبکہ عام کارکنوں سمیت پارٹی کے کل کارکنوں کی تعداد 10 سے 11 ہزار کے درمیان اور فعال کارکنوں کی تعداد ساڑھے سات سے آٹھ ہزار کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔ اس تنظیمی قوت کے تناظر میں یکم نومبر کے کنونشن میں شرکت کرنے والوں کی تعداد خاص اہمیت اختیار کر گئی ہے۔

اسرائیل میں نیتن یاہو کے اقتدار کا خاتمہ یقینی ہو گیا

کنونشن میں موجود افراد کی تعداد کے حوالے سے یہ جاننا ضروری ہے کہ پی آئی بی کالونی کے گراؤنڈ میں تقریباً ایک ہزار کرسیاں لگائی گئی تھیں، جن میں سے بیشتر خالی رہیں، جبکہ اطراف میں بھی کچھ لوگ کھڑے تھے۔ ان ذرائع کے مطابق اجتماع میں شریک افراد کی مجموعی تعداد تقریباً 1200 سے 1500 کے درمیان تھی۔ بعض شرکا کے مطابق اجتماع میں سات سے بارہ سال کی عمر کے بچوں کے علاوہ بنگالی، برمی اور سرائیکی برادریوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی موجود تھے، جن میں سے بہت سے افراد کا ایم کیو ایم کے باقاعدہ تنظیمی ڈھانچے سے تعلق واضح نہیں تھا۔ اس طرح پارٹی کے ہزاروں عہدیداروں اور فعال کارکنوں کی موجودگی کے دعوؤں کے باوجود کنونشن میں محدود شرکت نے قیادت کے لیے ایک نئی مشکل پیدا کر دی ہے۔

 

سیاسی مبصرین کے نزدیک اس اجتماع کی اہمیت صرف یہ نہیں کہ اس میں کتنے افراد شریک ہوئے بلکہ یہ بھی ہے کہ ایم کیو ایم کے چار بااثر سمجھے جانے والے رہنما مل کر بھی اپنی تنظیمی قوت کا بڑا حصہ جمع نہیں کر سکے۔ اس صورت حال سے پیپلز پارٹی کے اس سیاسی مؤقف کو تقویت مل سکتی ہے کہ کراچی میں ایم کیو ایم کا روایتی ووٹ بینک اور عوامی اثرورسوخ کمزور ہو چکا ہے۔

Back to top button