اسرائیل میں نیتن یاہو کے اقتدار کا خاتمہ یقینی ہو گیا

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے اقتدار کا سورج غروب ہونے کے قریب پہنچ گیا ہے کیونکہ عام انتخابات کے بعد 19 نشستیں حاصل کرنے والی عرب اتحادی جماعتوں نے نیتن یاہو کے مخالف اپوزیشن رہنما گادی آئزن کوٹ کی حمایت کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے، یوں اسرائیل میں ایک نئی حکومت کی تشکیل اور نیتن یاہو کو اقتدار سے باہر کرنے کا روشن امکان پیدا ہو گیا ہے۔
عبوری وزیراعظم نیتن یاہو کی مخالف اپوزیشن جماعتوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں عوامی مینڈیٹ حاصل ہے اور وہ پارلیمان میں 67 ارکان کی حمایت کے ساتھ نئی حکومت قائم کر سکتی ہیں۔ اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کے حکومتی اتحاد کو 53 نشستیں حاصل ہوئی ہیں، جبکہ ان کے مخالف چینج بلاک نے 48 نشستیں جیتی ہیں۔ عرب جماعتوں کے اتحاد نے مجموعی طور پر 19 نشستیں حاصل کی ہیں۔ اس طرح اگر عرب جماعتیں اپوزیشن کی حمایت کرتی ہیں تو گادی آئزن کوٹ کے پاس 67 ارکان کی پارلیمانی حمایت جمع ہو سکتی ہے، جو 120 رکنی اسرائیلی پارلیمان میں حکومت سازی کے لیے درکار 61 نشستوں سے کہیں زیادہ ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے اپوزیشن جماعتوں نے مشترکہ حکمت عملی تیار کر لی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کے پانچ اہم رہنماؤں کے اجلاس میں گادی آئزن کوٹ کو وزارت عظمیٰ کے لیے متفقہ امیدوار بنانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ اسرائیل کی بقا کے لیے نیتن یاہو اقتدار سے ہٹانا ضروری ہو گیا ہے۔ اس سلسلے میں ڈیموکریٹس پارٹی کے سربراہ یائیر گولان نے عرب جماعت جوائنٹ لسٹ کے رہنماؤں یوسف جبارین اور احمد طیبی سے بھی ملاقات کی ہے۔ گولان اپوزیشن کے ان رہنماؤں میں نمایاں ہیں جو حکومت سازی کے لیے عرب جماعتوں کا تعاون حاصل کرنے کے حامی ہیں۔
بی ایل اے میں اختلافات، بشیر زیب فارغ یا مارا گیا؟
عرب جماعتوں نے بھی نیتن یاہو کو اقتدار سے باہر کرنے کے لیے اپوزیشن کی مدد کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے اور امکان یہی ہے کہ وہ نئی حکومت میں باقاعدہ شامل ہونے کے بجائے پارلیمان میں باہر سے حمایت فراہم کریں گی۔ تاہم نئی حکومت کی تشکیل کا راستہ مکمل طور پر ہموار نہیں کیونکہ اپوزیشن اتحاد کے اندر عرب جماعتوں کے ساتھ تعاون کے معاملے پر ابھی کچھ اختلافات موجود ہیں۔ عرب جماعتوں کی جانب سے بھی نئی حکومت کی حمایت کے لیے بعض شرائط سامنے آئی ہیں، جن میں عرب شہریوں کے خلاف امتیازی پالیسیوں کا خاتمہ، عرب آبادیوں میں جرائم کی روک تھام اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے وسائل کی فراہمی شامل ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق نومنتخب پارلیمان کا پہلا اجلاس 10 نومبر کو مقامی وقت کے مطابق شام چار بجے ہوگا، جس میں ارکان حلف اٹھائیں گے اور اسپیکر سمیت ڈپٹی سپیکروں کا انتخاب عمل میں آئے گا۔ اس سے پہلے اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے مشاورت کریں گے اور حکومت بنانے کے لیے کسی امیدوار کو باضابطہ دعوت دیں گے۔ اگر اپوزیشن کے 67 ارکان کی حمایت کا دعویٰ عملی شکل اختیار کر لیتا ہے تو گادی آئزن کوٹ کو حکومت سازی کا مینڈیٹ ملنے کا امکان پیدا ہو جائے گا۔
دوسری طرف اسرائیل کے مختلف شہروں میں سیکڑوں شہریوں نے نیتن یاہو حکومت کے خلاف مظاہرے بھی کیے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ اسرائیل میں حقیقی سیاسی تبدیلی لانے کے لیے نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی کو اقتدار سے باہر کیا جائے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اسرائیل میں حکومت سازی کا اگلا مرحلہ انتہائی اہم ہوگا کیونکہ عرب جماعتوں کی 19 نشستیں اس پورے سیاسی منظرنامے میں فیصلہ کن حیثیت اختیار کر چکی ہیں۔ اگر ان جماعتوں نے گادی آئزن کوٹ کی حمایت برقرار رکھی اور اپوزیشن رہنماؤں نے اپنے اختلافات پر قابو پا لیا تو نیتن یاہو کو طویل عرصے بعد اقتدار سے محروم ہونا پڑ سکتا ہے۔ تاہم جب تک نئی حکومت پارلیمان میں اعتماد کا ووٹ حاصل نہیں کر لیتی، نیتن یاہو کی سیاسی رخصتی کو حتمی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

2 Comments