ایران میں امریکی نیوکلیئر حملے سے نمٹنے کی تیاریاں

 

 

 

ایرانی حکام نے امریکہ کی جانب سے ممکنہ جوہری حملے کے خدشے کے پیش نظر ملک بھر میں شہریوں کو حفاظتی اقدامات اختیار کرنے اور جوہری دھماکے یا تابکاری کے اخراج کی صورت میں اپنی جانیں بچانے کے لیے ہنگامی ہدایات پر عمل کرنے کا کہہ دیا ہے، یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حالیہ امریکی حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی فوج نے ایرانی جزیرے قشم کے قریب ایک اینٹی ایئر کرافٹ تنصیب کو نشانہ بنایا ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ نے ایران کی جوہری تنصیبات خصوصاً کوہِ کلنگ کو نشانہ بنانے کی دھمکی بھی بھی دے دی ہے۔

 

ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے اصفہان ہلال احمر کے ڈپٹی ڈائریکٹر ابراہیم عادل زادہ کا ایک خصوصی انٹرویو نشر کیا ہے جس میں شہریوں کو ممکنہ نیوکلیئر حملے کی صورت میں اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے آگاہ کیا گیا ہے۔ ایرانی حکام نے لوگوں کو ہدایت کی ہے کہ اگر جوہری دھماکے یا تابکاری کے اخراج کے بعد انہیں عمارتوں کے اندر رہنے کا حکم دیا جائے تو دروازے اور کھڑکیاں بند رکھیں، باہر سے ہوا اندر لانے والے ایئرکنڈیشننگ اور وینٹی لیشن سسٹم بند کر دیں اور ممکن ہو تو عمارت کے تہہ خانے یا کھڑکیوں سے دور اندرونی کمروں میں پناہ لیں۔ ایرانی شہریوں کو کم از کم 24 گھنٹے محفوظ مقام پر رہنے کی تیاری رکھنے کا بھی مشورہ دیا گیا ہے۔

 

ایرانی ہلال احمر کے عہدیدار کے مطابق اگر کسی مقام پر شدید نیوکلیئر حملہ ہو تو شہریوں کو اس کی جانب براہ راست دیکھنے سے گریز کرنا چاہیے اور ابتدائی دھماکے کی لہر گزرنے تک زمین کے قریب کسی مضبوط رکاوٹ کے پیچھے پناہ لینی چاہیے۔ جن افراد کو شبہ ہو کہ وہ تابکار گردوغبار کی زد میں آ چکے ہیں، انہیں احتیاط سے اپنے اوپری کپڑے اتار کر پلاسٹک کے بند تھیلے میں ڈالنے، اپنی جلد اور بالوں کو صابن اور پانی سے دھونے اور آلودہ اشیا کو دوسروں سے دور رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ تابکاری کے ذرات ہوا کے ذریعے دور دراز علاقوں تک بھی پہنچ سکتے ہیں، اس لیے دھماکے کے مقام سے فاصلے پر موجود شہری بھی سرکاری وارننگ کو سنجیدگی سے لیں۔

 

ایرانی حکام نے شہریوں کو خاص طور پر آیوڈین کی گولیاں خود سے استعمال نہ کرنے کی ہدایت کی ہے کیونکہ یہ دوا صرف مخصوص قسم کی تابکار آلودگی سے تھائیرائیڈ غدود کو تحفظ فراہم کر سکتی ہے اور ہر قسم کی تابکاری یا جوہری دھماکے کے اثرات سے بچاؤ کا ذریعہ نہیں ہے۔ اصفہان کے پری ہاسپٹل ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ نے بھی اس حوالے سے ایک تعلیمی ویڈیو جاری کی ہے جس میں تابکاری سے متاثرہ افراد کی ابتدائی طبی امداد، آلودگی ختم کرنے اور محفوظ مقامات پر پناہ لینے کے طریقے بتائے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر انخلا کا حکم جاری ہو تو شہری صرف امدادی اداروں کے بتائے ہوئے راستے اختیار کریں اور گاڑیوں میں سفر کے دوران کھڑکیاں بند رکھتے ہوئے وینٹی لیشن سسٹم کو اندرونی گردش پر رکھیں۔

اسرائیل میں نیتن یاہو کے اقتدار کا خاتمہ یقینی ہو گیا

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو ٹیلی فونک انٹرویو میں ایران پر امریکی حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی فوج نے ایرانیوں کی جانب سے نصب کردہ والے اینٹی ایئر کرافٹ سسٹم کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ کارروائی تب کی گئی جب تنصیب مکمل ہوئی۔ ٹرمپ نے اسے محدود فوجی کارروائی قرار دیا ہے، جبکہ امریکی حکام کے مطابق اس حملے کا مقصد امریکی فوجی اثاثوں کو ایرانی حملوں سے محفوظ رکھنا تھا اور یہ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر جنگ دوبارہ شروع کرنے کا اشارہ نہیں۔ تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق قشم کے قریب بندر لنگہ شہر میں بھی سمندر کی سمت سے دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں، جس سے خلیج فارس میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

 

ایران پر ممکنہ بڑے امریکی حملے کے خدشات تب مزید بڑھ گئے جب ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے جوہری پروگرام سے منسلک زیر زمین تنصیب کوہِ کلنگ کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ امریکہ اس پہاڑ کے نیچے موجود جوہری تنصیبات کو ایک گھنٹے کے اندر تباہ کر سکتا ہے اور ان کے نزدیک ایسا کرنا کوئی بڑا معاملہ نہیں۔ اس سے قبل امریکی سیاسی مبصر ٹکر کارلسن نے دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو صدر ٹرمپ پر ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں اور ممکنہ ہدف کوہِ کلنگ ہو سکتا ہے۔کارلسن نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ٹرمپ آئندہ چند روز میں اس بارے میں فیصلہ کر سکتے ہیں، تاہم اسرائیلی حکام نے اس دعوے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا اور امریکی حکومت کی جانب سے بھی نیوکلیئر ہتھیار استعمال کرنے کے کسی فیصلے کی تصدیق نہیں ہوئی۔

 

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن نے مشرق وسطیٰ کے اپنے متعدد اتحادی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی شروع کر سکتا ہے اور اس مرتبہ حملے کئی روز تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ امریکی حکام کو خدشہ ہے کہ ایران جوابی کارروائی میں امریکی فوجی اڈوں، اتحادیوں کی تنصیبات اور توانائی کے مراکز کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ خطے میں امریکی فوجی موجودگی اور دفاعی تیاریوں میں اضافے کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم امریکی حکام نے ان اطلاعات کے باوجود واضح کیا ہے کہ قشم کے قریب حالیہ کارروائی محدود نوعیت کی تھی اور اسے بڑے پیمانے پر جنگ کے آغاز سے تعبیر نہیں کیا جانا چاہیے۔

Back to top button