چوہدری سالک مریم حکومت کے خلاف الزامات پر ڈٹ گئے

مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کے صاحبزادے اور وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی حکومت پر کرپشن کے الزامات عائد کیے جانے کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان لفظی جنگ شدت اختیار کر گئی ہے۔ مریم نواز نے ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے چوہدری سالک حسین کو ہرجانے کا قانونی نوٹس بھجوا دیا ہے، جبکہ وفاقی وزیر نے اپنے الزامات واپس لینے سے انکار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پنجاب میں کرپشن ہو رہی ہے اور وہ اپنے بیان پر قائم ہیں۔ مریم نواز نے انہیں چیلنج کیا ہے کہ اگر ان کے پاس ثبوت ہیں تو سامنے لائیں، بصورت دیگر عدالت میں جواب دینے کے لیے تیار رہیں۔

چوہدری سالک حسین نے نجی ٹی وی چینل اے آر وائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے پنجاب حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے اور کہا کہ صوبے میں کرپشن کی کہانیاں روزانہ سامنے آتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب کرپشن کی فائلیں نہیں بلکہ الماریاں بھر چکی ہوں گی۔ انہوں نے پنجاب حکومت کے ترقیاتی بجٹ کی تقسیم پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ زیادہ تر ترقیاتی کام لاہور میں ہو رہے ہیں جبکہ ان اضلاع کو نظرانداز کیا جا رہا ہے جہاں حکومتی امیدوار انتخابات میں کامیاب نہیں ہوئے۔

وفاقی وزیر نے گجرات کا حوالہ دیتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کو صوبے کا بہترین وزیراعلیٰ قرار دیا، جس پر پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے جوابی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چوہدری سالک حسین کی ناراضی کی اصل وجہ گجرات میں ان کی پسند کا ڈپٹی کمشنر تعینات نہ ہونا ہے۔ ان کے مطابق مریم نواز افسران کی تعیناتیوں میں سیاسی سفارش قبول نہیں کرتیں۔ عظمیٰ بخاری نے سالک حسین کو یہ بھی یاد دلایا کہ وہ خود وفاقی حکومت کا حصہ ہیں اور انہیں اس ہاتھ کو نہیں کاٹنا چاہیے جو انہیں کھانا کھلاتا ہے۔

مریم نواز نے بھی چوہدری سالک حسین کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر انکے پاس پنجاب میں کسی کرپشن کے ثبوت موجود ہیں تو سامنے لائیں، ورنہ انہیں عدالت میں جواب دینا ہوگا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر پنجاب حکومت اتنی ہی کرپٹ ہے تو چوہدری سالک حسین وفاقی حکومت میں وزارت لے کر کیوں بیٹھے ہوئے ہیں؟ مریم نواز نے پرویز الٰہی کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے گجرات میں بارش کے دوران پانی جمع ہونے اور اپنی گاڑی ڈوبنے کا واقعہ بھی یاد دلایا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پنجاب میں افسران کو میرٹ پر تعینات کرتی ہیں اور کسی کی سفارش قبول نہیں کرتیں۔

مریم نواز کے سخت ردعمل اور قانونی نوٹس کے جواب میں چوہدری سالک حسین نے ایک بار پھر اپنے الزامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ پنجاب میں کرپشن بارے اپنے بیان پر قائم ہیں اور ڈپٹی کمشنر کی تعیناتی کے معاملے پر ان کی کوئی بات نہیں ہوئی، کیونکہ وہاں پہلے ہی ڈپٹی کمشنر تعینات تھا۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ انسان کو غرور اور تکبر سے بچائے، کیونکہ اختیار ملنے کے بعد انسان کو عاجزی اختیار کرنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے سچائی کے ساتھ جواب دیا ہے اور پنجاب میں واقعی کرپشن ہو رہی ہے۔

دوسری جانب مریم نواز نے چوہدری سالک کے خلاف ہرجانے کا قانونی نوٹس بھی بھجوا دیا ہے، نوٹس میں وفاقی وزیر کے الزامات کو بے بنیاد اور ہتک آمیز قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بغیر کسی مستند ثبوت کے ایسے الزامات نشر کرنے سے وزیراعلیٰ پنجاب اور صوبائی حکومت کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔ یوں سیاسی بیان بازی اب باقاعدہ قانونی محاذ آرائی میں تبدیل ہو چکی ہے۔

 

سیاسی تجزیہ کار ماجد نظامی کے مطابق اس تنازعے کو محض گجرات میں ڈپٹی کمشنر کی تعیناتی کے معاملے تک محدود کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔ ان کا کہنا ہے کہ چوہدری سالک حسین وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے ہم زلف ہیں اور دونوں کے درمیان قریبی خاندانی تعلق ہے۔ ان کے مطابق گجرات کی سیاست اور مسلم لیگ (ق) کے سیاسی مؤقف کو سمجھنے کے لیے محسن نقوی اور چوہدری سالک کو ایک ہی آواز کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ اس تناظر میں سالک حسین کی جانب سے براہ راست پنجاب حکومت کو نشانہ بنانا محض ایک انفرادی بیان نہیں بلکہ اس کے وسیع تر سیاسی پس منظر کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ محسن نقوی اس سے قبل نظام کے کولیپس ہونے سے متعلق عمومی بات کر چکے ہیں، جبکہ سالک حسین نے خاص طور پر مریم نواز کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس تنازعے کے پس منظر میں گجرات کی سیاست، مسلم لیگ (ق) کی مستقبل کی سیاسی حکمت عملی اور دونوں خاندانوں کی سیاسی قیادت سے متعلق خواہشات بھی اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ مریم نواز کی جانب سے غیر معمولی سخت ردعمل اور براہ راست قانونی نوٹس بھیجنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ پنجاب حکومت اس تنقید کو معمول کی سیاسی بیان بازی سمجھ کر نظرانداز کرنے کے لیے تیار نہیں، جبکہ چوہدری سالک کے مسلسل اپنے الزامات پر قائم رہنے سے فوری مفاہمت کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔ اگرچہ کسی مرحلے پر دونوں جانب سے عارضی جنگ بندی ممکن ہے، تاہم فی الحال مریم نواز اور چوہدری سالک حسین کے درمیان یہ محاذ آرائی کرپشن کے الزامات سے آگے بڑھ کر پنجاب کی گورننس، سیاسی اثرورسوخ اور مستقبل کے سیاسی تعلقات کی جنگ بنتی دکھائی دے رہی ہے۔

Back to top button