بی ایل اے میں اختلافات، بشیر زیب فارغ یا مارا گیا؟

بلوچستان لبریشن آرمی کے کمانڈر انچیف بشیر زیب کو عہدے سے ہٹانے کی خبر نے تنظیم کے اندر اختلافات اور دھڑے بندی کی افواہوں کو جنم دے دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق بی ایل اے نے بشیر زیب سے قیادت کے تمام اختیارات واپس لے کر سینئر کمانڈ کونسل کے سپرد کر دیے ہیں اور نئے سربراہ کے انتخاب کا اعلان بعد میں کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اچانک تبدیلی کے بعد یہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ آیا بشیر زیب نے خود عہدہ چھوڑا ہے، اسے اندرونی اختلافات کے نتیجے میں ہٹایا گیا ہے یا پھر اس کی ہلاکت کے حوالے سے گردش کرنے والی افواہوں میں کوئی حقیقت ہے؟
بی ایل اے کے ترجمان جیئند بلوچ کے مطابق بی ایل اے کی قیادت تبدیل کرنے کا فیصلہ 16 اکتوبر کو تنظیم کے اعلیٰ سطحی مشترکہ اجلاس میں کیا گیا تھا، جس میں تمام کمانڈرز نے متفقہ طور پر اس کی حمایت کی۔ ترجمان کے مطابق یہ فیصلہ بی ایل اے کے آئین کے تحت کیا گیا ہے اور اس کا مقصد ایک شخصیت کے بجائے تنظیم کے اندر ادارہ جاتی نظام کو مضبوط بنانا ہے۔
بی ایل اے ترجمان کے مطابق تنظیم کے بانی کمانڈر اسلم بلوچ عرف اچھو نے 2018ء میں اس کی ازسرنو تشکیل کے دوران یہ اصول طے کیا تھا کہ کوئی بھی شخص تاحیات کمانڈر انچیف نہیں رہ سکتا۔ اسی اصول کے تحت بشیر زیب سے اختیار واپس لے کر سینئر کمانڈ کونسل کو منتقل کیے گئے ہیں، جو نئے سربراہ کے انتخاب تک تنظیمی معاملات چلائے گی۔
تاہم بشیر زیب کی اچانک فراغت کو معمول کی ایک تنظیمی تبدیلی قرار دینا بھی آسان نہیں، کیونکہ چند روز قبل بی ایل اے کے اندر اختلافات اور قیادت کے بحران کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلیکٹ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ تنظیم کے اندر اختیارات کے ارتکاز، مالی وسائل کے غلط استعمال اور فیصلہ سازی کے طریقہ کار پر اختلافات موجود ہیں۔ 20 اکتوبر کو ریفارم کمانڈ کونسل کے نام سے سامنے آنے والے بی ایل اے کے منحرف کمانڈرز کے ایک گروپ نے کمانڈر ان چیف بشیر زیب کی قیادت کو چیلنج کرتے ہوئے تنظیمی معاملات پر اعتراضات اٹھائے تھے۔ اس گروپ کی جانب سے قیادت کے فیصلوں اور تنظیم کے نام سے جاری ہونے والے بیانات کی حیثیت پر بھی سوالات کیے گئے تھے۔
ان حالات میں بشیر زیب کی کمانڈر انچیف کے عہدے سے اچانک فراغت کو اندرونی اختلافات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ بی ایل اے کے اندر قیادت اور دھڑے بندی کا تنازع کوئی نیا نہیں۔ 2017ء میں تنظیم کے اندر اختلافات کے نتیجے میں دو الگ دھڑے سامنے آئے تھے۔ ایک دھڑے کی قیادت بیرون ملک موجود رہنماؤں کے پاس تھی جبکہ دوسرے کی سربراہی اسلم بلوچ کر رہے تھے۔ بعدازاں اسلم بلوچ نے اپنی الگ تنظیمی قیادت قائم کی، جس میں بشیر زیب اہم کردار کے طور پر سامنے آیا۔ دسمبر 2018ء میں اسلم بلوچ کی ہلاکت کے بعد بشیر زیب نے اس دھڑے کی کمان سنبھال لی۔ اب ایک مرتبہ پھر تنظیم کے اندر اختلافات کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد یہ خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ بی ایل اے کو ایک نئی تقسیم کا سامنا ہو سکتا ہے۔
بشیر زیب کے جانشین کے حوالے سے بھی ابھی تک کوئی حتمی نام سامنے نہیں آیا۔ بی ایل اے نے اعلان کیا ہے کہ نئے کمانڈر انچیف کے انتخاب تک سینئر کمانڈ کونسل تمام انتظامی، عسکری اور پالیسی معاملات کی نگرانی کرے گی۔ ماضی میں حمل ریحان بلوچ کو بشیر زیب کا نائب اور تنظیم کے اہم عسکری کمانڈروں میں شمار کیا جاتا رہا ہے، جبکہ مجید بریگیڈ کے آپریشنل ڈھانچے میں بھی ان کا کردار بتایا جاتا ہے۔ تاہم انہیں نیا کمانڈر انچیف مقرر کیے جانے کی کوئی مصدقہ اطلاع موجود نہیں۔ اس لیے فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ بشیر زیب کے بعد تنظیم کی مستقل قیادت کس کے ہاتھ میں جائے گی۔ یہ جاننا بھی اہم ہوگا کہ بی ایل اے کے نئے سربراہ کے انتخاب میں تمام عسکری کمانڈروں کی حمایت حاصل ہوتی ہے یا آپسی اختلافات مزید شدت اختیار کرتے ہیں۔
یہ سوال بھی اہم یے کہ بشیر زیب کون ہے اور اسے اتنی اہمیت کیوں حاصل ہے؟ بشیر کا تعلق بلوچستان کے ضلع نوشکی سے ہے اور وہ محمد حسنی قبیلے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس نے کوئٹہ کے پولی ٹیکنک کالج سے مکینیکل انجینئرنگ میں ڈپلومہ حاصل کیا جبکہ بلوچ ادب میں اعلیٰ تعلیم کے لیے داخلہ لیا تھا۔ اس کی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن (آزاد) سے ہوا جہاں وہ 2008ء سے 2012ء تک چیئرمین رہا۔ بعدازاں وہ مسلح جدوجہد میں شامل ہوگیا اور اسلم بلوچ کی قیادت میں بی ایل اے کے اہم رہنماؤں میں شمار ہونے لگا۔ اسلم بلوچ کی ہلاکت کے بعد تنظیم کی قیادت سنبھالنے کے باعث گزشتہ کئی برسوں سے وہ بی ایل اے کا سب سے نمایاں چہرہ اور سیکیورٹی اداروں کو مطلوب اہم ترین کمانڈرز میں شمار ہوتا رہا ہے۔
امریکی الیکشن نتائج: ٹرمپ کے مواخذے کا راستہ ہموار؟
بشیر زیب کی قیادت میں بی ایل اے کی کارروائیوں اور عسکری حکمت عملی میں بھی نمایاں تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں۔ تنظیم نے روایتی گوریلا کارروائیوں کے ساتھ خودکش حملوں اور زیادہ منظم آپریشنز پر توجہ بڑھائی۔ مجید بریگیڈ کے ذریعے خودکش حملوں کو تنظیم کی کارروائیوں کا نمایاں حصہ بنایا گیا۔ کراچی میں چینی قونصل خانے، کراچی سٹاک ایکسچینج اور چینی شہریوں کو نشانہ بنانے کے واقعات سمیت مختلف بڑی کارروائیوں کے حوالے سے بی ایل اے کا نام سامنے آتا رہا ہے۔ مارچ 2025 میں جعفر ایکسپریس کے اغوا اور مسافروں کو یرغمال بنانے کے واقعے نے بھی تنظیم کو عالمی سطح پر نمایاں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ بشیر زیب کی قیادت سے علیحدگی کو محض ایک عہدے کی تبدیلی نہیں بلکہ بی ایل اے کی مستقبل کی عسکری اور تنظیمی سمت کے حوالے سے اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب بشیر زیب کی ہلاکت کے حوالے سے گردش کرنے والی افواہوں نے اس معاملے کو مزید پراسرار بنا دیا ہے۔ بعض حلقوں میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا وہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی کسی کارروائی میں مارا جا چکا ہے اور تنظیم نے اس کی جگہ نئے انتظامی ڈھانچے کا اعلان کرکے اس حقیقت کو چھپانے کی کوشش کی ہے؟ یکم نومبر کو ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے رائٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ بشیر زیب افغانستان میں موجود ہے اور افغان طالبان حکومت نے اسے پناہ دے رکھی ہے۔

One Comment