امریکی الیکشن نتائج: ٹرمپ کے مواخذے کا راستہ ہموار؟

امریکہ میں مڈ ٹرم الیکشنز کے ابتدائی نتائج صدر ٹرمپ کے لیے ایک برا خواب ثابت ہوئے ہیں، کیونکہ ان کی ریپبلکن پارٹی سینیٹ کا کنٹرول کھو چکی ہے جبکہ کانگریس سے بھی ریپبلکن پارٹی کے لیے اچھی خبر آنے کی توقع نہیں ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ریپبلکن پارٹی کانگریس کا کنٹرول بھی کھو دیتی ہے تو ٹرمپ کے مواخذے کا امکان بھی پیدا ہو جائے گا۔ واضح رہے کہ امریکی کانگریس دو ایوانوں، سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان پر مشتمل ہے، تاہم صدر کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع کرنے کا اختیار ایوانِ نمائندگان جبکہ مواخذے کا ٹرائل کرنے کا اختیار سینیٹ کو حاصل ہے۔
ڈیموکریٹس نے سینیٹ میں اکثریت حاصل کرکے ٹرمپ انتظامیہ کی نیندیں حرام کر دی ہیں جبکہ کانگریس میں بھی ریپبلکنز کی کئی اہم نشستیں چھن جانے کے بعد ڈیموکریٹس کی کامیابی کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ کو ریپبلیکن پارٹی کی شکست کی بڑی وجہ قرار دیا ہے۔ اس صورت حال کے نتیجے میں اگر ٹرمپ اپنی صدارت بچا بھی لیتے ہیں تو انہیں اپنی باقی ماندہ صدارتی مدت کے دوران نہ صرف قانون سازی بلکہ حکومتی فیصلوں اور انتظامی پالیسیوں کے حوالے سے بھی سخت پارلیمانی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
امریکی کانگریس کے مڈ ٹرم الیکشن میں سینیٹ کا کنٹرول ڈیموکریٹس کے پاس چلے جانے کو صدر ٹرمپ کے لیے ایک بڑا سیاسی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکی میڈیا کی ابتدائی رپورٹنگ کے مطابق ڈیموکریٹس نے مختلف ریاستوں میں اہم کامیابیاں حاصل کرتے ہوئے ریپبلکنز سے سینیٹ کی اکثریت چھین لی ہے۔ اس کے برعکس کانگریس کی تمام 435 نشستوں پر ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور ڈیموکریٹس نے ریپبلکن پارٹی کی کئی اہم نشستیں اپنے نام کر لی ہیں، تاہم کانگریس میں حتمی اکثریت کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔ کانگریس میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے 218 نشستیں درکار ہیں، جبکہ انتخابات سے قبل ریپبلکنز کو معمولی برتری حاصل تھی جو اب ختم ہوتی نظر آ رہی ہے۔
امریکی سیاسی نظام میں کانگریس کو صدر کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع کرنے کا آئینی اختیار حاصل ہے۔ اگر ڈیموکریٹس کو کانگریس میں اکثریت مل جاتی ہے تو وہ صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی قرارداد پیش کرنے اور اس پر ووٹنگ کرانے کی پوزیشن میں آ سکتے ہیں۔
مواخذے کی منظوری کے لیے کانگریس میں سادہ اکثریت درکار ہوتی ہے، اس لیے ریپبلکن اکثریت ختم ہونے کی صورت میں ٹرمپ کو اس آئینی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ڈیموکریٹس کی جانب سے ٹرمپ انتظامیہ کے مختلف حکومتی فیصلوں، انتظامی اقدامات اور پالیسیوں کی تحقیقات کے لیے کانگریس کی کمیٹیوں کو بھی متحرک کیا جا سکتا ہے۔
اس حوالے سے امریکی تاریخ میں صدر کے مواخذے کی سابقہ مثالیں بھی اہمیت رکھتی ہیں۔ صدر ٹرمپ اپنی پہلی صدارتی مدت کے دوران دو مرتبہ مواخذے کی کارروائی کا سامنا کر چکے ہیں۔ پہلی مرتبہ 2019ء میں یوکرین کے معاملے پر اختیارات کے ناجائز استعمال اور کانگریس کی تحقیقات میں رکاوٹ ڈالنے کے الزامات کے تحت کانگریس نے ان کے مواخذے کی منظوری دی، جبکہ دوسری مرتبہ 2021ء میں کیپیٹل ہل پر حملے کے بعد بغاوت پر اکسانے کے الزام میں ان کے خلاف مواخذے کی کارروائی ہوئی۔ تاہم دونوں مرتبہ سینیٹ میں مطلوبہ دو تہائی اکثریت حاصل نہ ہونے کے باعث انہیں عہدے سے نہیں ہٹایا جا سکا۔
لیکن اب تک کے انتخابی نتائج کے مطابق ڈیموکریٹس نے سینیٹ کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے، جبکہ کانگریس کے نتائج ابھی آ رہے ہیں۔ اگر ڈیموکریٹس کانگریس کا کنٹرول بھی حاصل کر لیتے ہیں تو ٹرمپ کو تیسری مرتبہ مواخذے کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو امریکی سیاسی تاریخ میں ایک غیر معمولی صورت حال ہو گی۔ تاہم مواخذے کی منظوری کا مطلب صدر کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانا نہیں ہوتا۔
کانگریس میں مواخذے کی منظوری کے بعد معاملہ سینیٹ میں جاتا ہے، جہاں صدر کو مجرم قرار دے کر عہدے سے ہٹانے کے لیے دو تہائی اکثریت ضروری ہوتی ہے۔ اس مرتبہ صورت حال اس لیے بھی مختلف ہو گی کہ سینیٹ کا کنٹرول بھی ڈیموکریٹس نے حاصل کر لیا ہے، جس سے ٹرمپ انتظامیہ کے لیے مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی اکثریت کے باوجود صدر کو عہدے سے ہٹانے کے لیے دو تہائی ووٹوں کی آئینی شرط پوری کرنا ضروری ہو گا، اس لیے صرف دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کرنا ٹرمپ کو صدارت سے ہٹانے کے لیے کافی نہیں ہو گا۔
دوسری جانب کانگریس کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد ڈیموکریٹس کو ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف تحقیقات کے لیے وسیع پارلیمانی اختیارات مل جائیں گے۔ کانگریس کی مختلف کمیٹیاں وائٹ ہاؤس اور وفاقی اداروں سے سرکاری دستاویزات طلب کرنے، حکومتی عہدیداروں کو طلب کرنے اور ان کے بیانات قلم بند کرنے کے علاوہ عوامی سماعتیں بھی منعقد کر سکتی ہیں۔ ان تحقیقات کا دائرہ صدر ٹرمپ کے انتظامی احکامات، وفاقی اداروں میں تبدیلیوں، حکومتی تقرریوں، داخلی پالیسیوں اور خارجہ فیصلوں تک پھیل سکتا ہے۔ ڈیموکریٹس ان معاملات پر حکومتی عہدیداروں سے جواب طلب کر سکتے ہیں اور اگر کسی معاملے میں آئین یا قانون کی خلاف ورزی کے شواہد سامنے آتے ہیں تو اسے مواخذے کی کارروائی کے لیے بنیاد بنانے کی کوشش بھی کر سکتے ہیں۔
انتخابات کے ابتدائی نتائج میں ریپبلکن پارٹی کو پہنچنے والے نقصان کے پس منظر میں امریکی عوام کی معاشی مشکلات، مہنگائی، ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، ایران کے ساتھ جنگ اور حکومتی پالیسیوں پر عدم اطمینان کو بھی اہم عوامل قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکی میڈیا کی جانب سے سامنے آنے والے انتخابی جائزوں کے مطابق بڑی تعداد میں ووٹرز نے ملک کی موجودہ سمت پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور ان انتخابات کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف اپنی رائے دینے کا موقع سمجھا۔ دوسری جانب ڈیموکریٹس نے انتخابی مہم کے دوران مہنگائی، حکومتی اخراجات اور ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلوں کو تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ ریپبلکن پارٹی کی جانب سے بھاری انتخابی مہم چلانے کے باوجود کئی اہم ریاستوں میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اس صورت حال میں صدر ٹرمپ کے لیے اپنے سیاسی ایجنڈے پر یکسوئی کے ساتھ عمل درآمد کرنا مشکل ہو سکتا ہے، کیونکہ انہیں کانگریس میں مسلسل تحقیقات، سماعتوں اور سیاسی دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی اکثریت ان کی جانب سے نامزد کیے جانے والے وفاقی ججوں، کابینہ کے ارکان اور دیگر اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کی تقرریوں کے معاملے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے، کیونکہ ان تقرریوں کی منظوری سینیٹ کے اختیار میں ہے۔ دوسری طرف اگر ڈیموکریٹس کانگریس کا کنٹرول بھی حاصل کر لیتے ہیں تو وہ حکومتی اقدامات کی نگرانی، بجٹ اور قانون سازی کے معاملات میں بھی ٹرمپ انتظامیہ پر دباؤ بڑھا سکیں گے۔ اگرچہ صدر کو قانون سازی کے خلاف ویٹو کا آئینی اختیار حاصل رہے گا، تاہم واشنگٹن میں سیاسی محاذ آرائی اور حکومتی تعطل کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
یوں امریکی وسط مدتی انتخابات کے ابتدائی نتائج نے صدر ٹرمپ کی باقی ماندہ دو سالہ صدارتی مدت کے لیے سیاسی مشکلات بڑھا دی ہیں۔

One Comment