غیر ملکی لڑکیوں سے زیادتی: ڈار کا نواسہ بے گناہ قرار

جیسا کہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا، لاہور میں دو غیر ملکی خواتین کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے الزامات کا سامنا کرنے والے اسحاق ڈار کے نواسے اور دیگر چار ملزمان پولیس چالان میں بے قصور قرار دے دیئےگئے ہیں۔ پولیس کی نامکمل تفتیشی رپورٹ میں مرکزی ملزم رضا ڈار سمیت 5 افراد کو نیدر لینڈ کی شہری سٹیفنی اور وینز ویلا کی شہری گیبریلا سے زیادتی کے الزامات سے بری الذمہ قرار دے دیا گیا ہے۔ پولیس رہورٹ میں جن تین افراد پر خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا گیا ہے، وہ مرکزی ملزمان کے تنخواہ دار ملازم ہیں۔ یوں خواتین کے ساتھ زیادتی کے اس ہولناک واقعے میں ملوث بااثر افراد کو حسب توقع بچا لیا گیا ہے جبکہ تین ماتحت ملازمین کو ملزمان نامزد کر دیا گیا ہے۔
پولیس کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی نامکمل چالان رپورٹ کے مطابق جولائی میں درج ہونے والے اس مقدمے میں پانچ ملزمان کو اغوا، غیر قانونی حراست اور بھتہ وصولی سمیت دیگر الزامات کا سامنا تو رہے گا، تاہم ان کے خلاف اجتماعی زیادتی کے الزامات کے شواہد نہیں ملے۔ دوسری جانب تین ملزمان پر دونوں غیر ملکی خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ ان میں سے دو ملزمان کے وکیل سلمان شاہد نے پولیس تفتیش پر شدید اعتراضات اٹھاتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ اصل بااثر ملزمان کو بچانے کے لیے ان کے موکلوں کو قربانی کا بکرا بنایا گیا ہے۔
تفتیشی رپورٹ کے مطابق دونوں خواتین کی مرکزی سے 2025ء میں سنگاپور میں ملاقات ہوئی تھی، جہاں انہوں نے اسے اپنے کرپٹو کرنسی کاروبار میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ مرکزی ملزم نے ابتدائی سرمایہ کاری پر منافع ملنے کے بعد مزید پانچ لاکھ ڈالرز سرمایہ کاری کر دی، تاہم خواتین نہ تو اسے منافع دے سکیں اور نہ ہی اسکی اصل رقم واپس کی۔ پولیس رپورٹ کے مطابق اسی مالی تنازعے کے بعد مرکزی ملزم نے جون میں خواتین کو ایک اور سرمایہ کار سے ملاقات کرانے کے بہانے پاکستان بلایا، جہاں وہ اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں قیام کے بعد مری اور دیگر علاقوں میں بھی گئیں۔
رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ پاکستان پہنچنے کے بعد مرکزی ملزم نے اپنے ایک ساتھی کو بتایا کہ دونوں خواتین اس کی مقروض ہیں، جس پر اس ساتھی نے ایک اور بااثر ملزم کو معاملے میں شامل کر لیا جسے تفتیشی رپورٹ میں ’’باس‘‘ کے نام سے شناخت کیا گیا ہے۔ 29 جون کو دونوں خواتین کو لاہور کے علاقے ڈیفنس فیز 7 میں واقع ایک مکان میں لے جایا گیا، جہاں انہیں یرغمال بنا کر رقم کی ادائیگی کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔ پولیس کے مطابق خواتین سے تقریباً 19 ہزار 500 ڈالر زبردستی منتقل کرائے گئے، جنہیں لاہور میں ایک بینک اکاؤنٹ کے ذریعے پاکستانی کرنسی میں تبدیل کیا گیا، جبکہ دو ملزمان کو 11، 11 لاکھ روپے بھی ملے۔
دونوں خواتین نے اپنے بیانات میں الزام لگایا کہ مکان میں مسلح افراد تعینات تھے، جنہوں نے انہیں چاقو، پستول اور ٹوٹے ہوئے شیشے سے دھمکایا اور رقم ادا نہ کرنے کی صورت میں قتل کرکے جسمانی اعضا فروخت کرنے کی دھمکیاں دیں۔ خواتین کے مطابق انہیں کئی روز تک خوف و ہراس میں رکھا گیا اور ان کی نقل و حرکت مکمل طور پر محدود کر دی گئی۔ پولیس رپورٹ کے مطابق خواتین یکم جولائی کو اس وقت فرار ہونے میں کامیاب ہوئیں جب انہیں ایئرپورٹ لے جانے والی گاڑی بھٹہ چوک کے قریب حادثے کا شکار ہو گئی، جس کے بعد انہوں نے شور مچایا اور پولیس کو اطلاع ملنے پر خواتین کو اپنی تحویل میں لے لیا گیا، جبکہ رضا ڈار موقع سے فرار ہو گیا۔
پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ دونوں غیر ملکی خواتین سے بطور بھتہ وصول کی گئی رقم میں سے 43 لاکھ روپے برآمد کر لیے گئے ہیں، جبکہ واردات میں استعمال ہونے والا ایک موبائل فون اور گاڑی بھی قبضے میں لی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پستول اور رائفل کی برآمدگی پر اسلحہ آرڈیننس کے تحت الگ مقدمات بھی درج کیے گئے ہیں۔ تفتیشی رپورٹ میں ایک اور ملزم پر متعلقہ حکام کو اطلاع دیے بغیر گروہ کو مکان کرائے پر دینے جبکہ ایک دوسرے شخص پر شواہد مٹانے میں مدد فراہم کرنے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔ اسی بنیاد پر مقدمے میں غیر قانونی حراست اور شواہد ضائع کرنے سے متعلق دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔
پولیس کے مطابق دونوں خواتین کا طبی معائنہ کرایا گیا، مجسٹریٹ کے سامنے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت بیانات ریکارڈ کیے گئے اور ڈی این اے، فنگر پرنٹس اور پولی گراف ٹیسٹ بھی کرائے گئے ہیں، جبکہ کال ڈیٹا ریکارڈ بھی حاصل کیا گیا ہے۔ تاہم پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی رپورٹ ابھی موصول نہیں ہوئی، جس کے باعث پولیس نے مزید تاخیر سے بچنے کے لیے نامکمل چالان عدالت میں جمع کرایا ہے۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج رفاقت علی گوندل نے پولیس رپورٹ کی نقول ملزمان میں تقسیم کر دی ہیں اور مقدمے کی آئندہ سماعت 11 نومبر کو مقرر کی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جولائی میں لاہور کے ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے ایک پریس کانفرنس میں یقین دہانی کرائی تھی کہ ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کے نواسے رضا ڈار کے ساتھ بھی عام مجرم جیسا سلوک کیا جائے گا اور تفتیش میں ایسی کوئی قانونی خامی نہیں چھوڑی جائے گی جس سے کسی بااثر ملزم کو فائدہ پہنچ سکے۔ انہوں نے اس واقعے کے پیچھے ایک جرائم پیشہ گروہ کے ملوث ہونے کا امکان بھی ظاہر کیا تھا، تاہم اب سامنے آنے والی نامکمل پولیس رپورٹ میں اسی مبینہ بااثر حلقے کے پانچ افراد کو جنسی تشدد کے الزامات سے بری الذمہ قرار دیے جانے نے پولیس کے ابتدائی دعوؤں اور انصاف کی فراہمی کے وعدوں پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
یاد ریے کہ لاہور پولیس کے دباؤ پر نیدرلینڈ سے تعلق رکھنے والی سٹیفنی اور وینز ویلا کی شہری گیبریلا 3 جولائی کو پاکستان چھوڑ کر واپس جا چکی ہیں۔
