جے ڈی وینس کا محسن رضائی کو مذاکرات کےلیے خط

 

 

 

 

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ محسن رضائی کو مذاکرات کی بحالی کےلیے رابطہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ممکنہ امریکی فوجی حملوں کو روکنے کےلیے کسی بھی مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت ناگزیر ہوگی۔

ایک اعلیٰ امریکی اہلکار ک مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ محسن رضائی کو خط ارسال کیا ہے،جس میں مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنے پر زور دیا گیا ہے۔خط میں کہا گیا ہےکہ امریکی حملوں کو ٹالنے کےلیے کسی بھی مذاکرات کا آغاز ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت سے مشروط ہوگا۔

امریکی میڈیا ادارے کے مطابق محسن رضائی کو بھیجے گئے اس خط کا بنیادی مقصد امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ مذاکرات کے امکانات کا جائزہ لینا ہے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران یہ ایران کے ساتھ امریکا کی جانب سے اعلیٰ ترین سطح کا رابطہ قرار دیا جارہا ہے۔

یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہےجب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مڈٹرم انتخابات کےبعد ایران کےخلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے پر غور کررہے ہیں۔

رپورٹ کےمطابق نائب صدر جے ڈی وینس نے خود محسن رضائی کو خط بھیجنے کی تجویز دی تھی۔

خیال رہے کہ محسن رضائی ایران کے اہم ترین سکیورٹی حکام میں شمار ہوتے ہیں اور ان کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ براہ راست رابطے ہیں۔

امریکی اہلکار نے واقعات کی تصدیق کرتےہوئے بتایاکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ خط بھیجنے کے اقدام پر خاصے پرجوش تھے۔تاہم اہلکار نے یہ بتانےسے گریز کیاکہ خط کس تاریخ کو ارسال کیا گیا۔

دوسری جانب صحافیوں سے گفتگو کرتےہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ نائب صدر جے ڈی وینس کے خط کا مقصد ایران کو ضروری طبی سامان کی فراہمی میں مدد دیناہے۔

ٹرمپ کےمطابق، ’’بنیادی طور پر اس اقدام کا مقصد وہاں کے بیمار اور متاثرہ افراد تک امداد اور اشیائے ضروریہ پہنچانا ہے۔‘‘

 

Back to top button