خواجہ آصف کی مولانا فضل الرحمان پر تنقید، ماضی کے سیاسی کردار پر سوالات

 

 

 

وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں مولانا فضل الرحمان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کے ماضی کے سیاسی مؤقف، پرویز مشرف دور میں حکومتی نظام کا حصہ رہنے اور کشمیر کمیٹی کی سربراہی پر سوالات اٹھا دیے۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتےہوئے وفاقی وزیر خواجہ آصف نے کہا کہ تہران میں کوئی دفاعی معاہدہ نہیں ہورہا تھا اور نہ ہی پاکستان کے دفاع سے متعلق کوئی بات چیت جاری تھی،بلکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر خطے میں امن اور فریقین کے درمیان صلح کی راہ ہموار کرنےگئے تھے۔

وفاقی وزیر خواجہ آصف نے کہاکہ مولانا فضل الرحمان نے اس معاملے پر تبصرہ کرتےہوئے فیلڈ مارشل کے کردار پر بھی بات کی،جس کے جواب میں وہ ایوان کے سامنے صورت حال واضح کرنا چاہتے ہیں۔

خواجہ آصف کاکہنا تھاکہ مولانا فضل الرحمان کا ملک کی سیاسی تاریخ میں ایک مقام ہے اور ان کے والد بھی اہم سیاسی شخصیت تھے، تاہم سیاسی رہنماؤں کو اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کےلیے وسیع القلبی اور وقار کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

کار سرکار میں مداخلت کا کیس : ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو 10، 10 سال قید

وزیردفاع نے سوال اٹھایاکہ مولانا فضل الرحمان نے ایران میں مذاکرات کےلیے اپنی خدمات پیش کرنے کی پیشکش کس تناظر میں کی تھی؟کیا اس کے پیچھے اپنی سیاسی اہمیت بڑھانے کی کوشش کارفرما تھی؟

خواجہ آصف نے مولانا فضل الرحمان کےجنرل پرویز مشرف کے دور میں سیاسی نظام کا حصہ رہنے اور طویل عرصے تک کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہنے کا حوالہ دیتےہوئے سوال کیا کہ انہوں نے اس عہدے پر رہتےہوئے کشمیر کاز کےلیے کیا خدمات انجام دیں۔

ان کا کہنا تھاکہ کشمیر جیسے اہم قومی معاملے پر نمائندگی کرنےوالے شخص کی ساکھ اور کردار اہمیت رکھتےہیں۔

وزیر دفاع نے اپنے ماضی کا ذکر کرتےہوئے کہاکہ انہوں نے جنرل ضیا الحق کے دور حکومت کی حمایت کی تھی،تاہم بعد کے حالات کے تناظر میں اپنے مؤقف پر معذرت بھی کی۔

خواجہ آصف کےمطابق سیاسی رہنماؤں کو دوسروں پر تنقید کرتےہوئے اپنے سابقہ فیصلوں اور سیاسی وابستگیوں کو بھی یاد رکھناچاہیے۔

انہوں نے مزید کہاکہ مختلف سیاسی جماعتیں ماضی میں ایک دوسرے کے ساتھ حکومتوں میں شامل رہی ہیں اور سیاسی تعاون بھی کرتی رہی ہیں۔ موجودہ سیاسی صورت حال میں نئی صف بندیاں سامنے آ رہی ہیں، تاہم اختلافات کے باوجود قومی مفاد اور سیاسی وقار کو مقدم رکھنا چاہیے۔

 

Back to top button