تحریک انصاف کے موسمی پرندے نئی اڑانیں بھرنے کو تیار

 

 

 

خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے اور ایمرجنسی و گورنر راج کے نفاذ کے بعد تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے موسمی پرندوں نے اپنی وفاداریاں تبدیل کرکے دیگر جماعتوں کے گھونسلوں میں پناہ لینے کی تیاریاں تیز کر دی ہیں۔ ذرائع کے مطابق صوبے میں پارٹی کارکنوں کی مایوسی اور بے چینی بڑھنے لگی ہے اور بعض افراد نے ممکنہ بلدیاتی انتخابات میں ٹکٹ حاصل کرنے، اپنے علاقوں میں ترقیاتی کام کرانے اور سیاسی مستقبل محفوظ بنانے کے لیے  مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور جمیعت علمائے اسلام سے رابطوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔

 

ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت کی محدود سیاسی سرگرمیوں اور احتجاجی حکمت عملی کے خاطرخواہ نتائج سامنے نہ آنے کے باعث کارکنوں میں بے یقینی بڑھ رہی ہے۔ بعض کارکنوں کا شکوہ ہے کہ پارٹی رہنما عملی سیاسی میدان میں متحرک ہونے کے بجائے میڈیا پر بیانات اور ٹاک شوز تک محدود ہیں، جس کے باعث انہیں اپنے سیاسی مستقبل کے حوالے سے واضح سمت دکھائی نہیں دے رہی۔ ایسے حالات میں بعض مقامی کارکن اور سیاسی شخصیات تحریک انصاف سے الگ ہوکر دوسری جماعتوں میں جگہ بنانے کے امکانات تلاش کر رہی ہیں۔

 

سیاسی مبصرین کے مطابق جمعیت علمائے اسلام (ف)، پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی خیبر ہختونخواہ میں بڑھتی ہوئی سیاسی سرگرمیاں تحریک انصاف کے مایوس کارکنوں کے لیے متبادل راستے فراہم کر سکتی ہیں۔ گزشتہ بلدیاتی انتخابات میں جمعیت علمائے اسلام نے خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں نمایاں کامیابی حاصل کی تھی، جبکہ پشاور کے میئر حاجی زبیر علی کا تعلق بھی اسی جماعت سے ہے۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے صوبائی صدر امیر مقام کی جانب سے سوات میں بڑے جلسے کا انعقاد صوبے میں پارٹی کو دوبارہ متحرک کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

 

ذرائع کے مطابق وفاق میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت اور صوبے میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کی سیاسی موجودگی بھی تحریک انصاف کے بعض کارکنوں کو اپنی سیاسی حکمت عملی تبدیل کرنے پر آمادہ کر سکتی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی اقتدار میں رہنے والی جماعتوں سے وابستہ بعض مقامی رہنما اور کارکن حالات بدلنے کے ساتھ اپنی سیاسی وفاداریاں تبدیل کرتے رہے ہیں، جبکہ اس بار خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد ایسے امکانات پر بحث تیز ہو گئی ہے۔

 

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پشاور کے علاوہ چارسدہ، نوشہرہ، مردان، صوابی، ایبٹ آباد، مانسہرہ، ڈیرہ اسماعیل خان اور مالاکنڈ ڈویژن میں بھی تحریک انصاف کے بعض کارکنوں میں مایوسی پائی جاتی ہے۔ ان علاقوں میں گزشتہ انتخابات کے دوران پی ٹی آئی کو نمایاں عوامی حمایت حاصل ہوئی تھی، تاہم موجودہ سیاسی صورت حال کے بعد بعض مقامات پر کارکنوں کی سرگرمیوں میں کمی کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ مقامی حلقوں میں تحریک انصاف کے جھنڈوں، بیجز، عمران خان کے نام کی ٹوپیوں اور قیدی نمبر 804 کی شرٹس کی مانگ میں کمی کو بھی پارٹی کی سرگرمیوں میں ممکنہ تبدیلی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

 

ذرائع کے مطابق پشاور میں سیاسی اختلافات کے باعث تلخ کلامی اور جھگڑوں کے واقعات بھی سامنے آنے کی اطلاعات ہیں۔ بعض افراد گزشتہ لانگ مارچ کی ناکامی پر تحریک انصاف کے کارکنوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پشاور کے بعض قہوہ خانوں، دکانوں اور مارکیٹوں میں سیاسی بحث سے گریز کرنے کی ہدایت پر مبنی بینرز بھی آویزاں کیے گئے ہیں تاکہ سیاسی اختلافات کو ذاتی تلخیوں اور جھگڑوں میں تبدیل ہونے سے روکا جا سکے۔

خواجہ آصف کی مولانا فضل الرحمان پر تنقید، ماضی کے سیاسی کردار پر سوالات

سیاسی مبصرین کے مطابق تحریک انصاف کو درپیش موجودہ صورت حال میں سب سے بڑا چیلنج صرف خیبرپختونخوا میں اقتدار سے محرومی نہیں بلکہ اپنے کارکنوں کا اعتماد برقرار رکھنا بھی ہے۔ صوبے میں پارٹی کی حکومت کے خاتمے، احتجاجی سیاست کے محدود نتائج اور مستقبل کے سیاسی لائحہ عمل کے بارے میں غیر یقینی صورت حال نے مقامی سطح پر تنظیمی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ اگر قیادت کارکنوں کے تحفظات دور کرنے اور انہیں متحرک رکھنے کے لیے واضح حکمت عملی سامنے نہیں لاتی تو دوسری جماعتوں کی جانب ان کی ممکنہ پیش قدمی پارٹی کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق تحریک انصاف سے وابستہ بعض موسمی سیاسی کارکنوں کی جانب سے دوسری جماعتوں میں شمولیت کے امکانات کا جائزہ لینا اس بات کی علامت ہے کہ خیبرپختونخوا میں بدلتی ہوئی سیاسی صورت حال پارٹی کی مقامی تنظیموں اور کارکنوں کی وابستگی کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔

Back to top button