جسٹس کیانی کا استعفی: ضمیر ایک برس بعد کیوں جاگا؟

 

 

 

 

تحریک انصاف کے ہمدرد سمجھے جانے والے جسٹس محسن اختر کیانی نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے لاہور ہائی کورٹ ٹرانسفر ہونے کے 6 ماہ بعد بالآخر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ جسٹس کیانی نے اپنے استعفے کی وجہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے ذریعے عدلیہ کی آزادی چھینے جانے کو قرار دیا ہے، حالانکہ 27ویں ترمیم ایک برس پہلے نومبر 2025 میں کی گئی تھی۔ یعنی جج صاحب کا ضمیر جاگنے میں ایک برس لگ گیا۔

 

یاد رہے کہ 27ویں آئینی ترمیم 13 نومبر 2025ء کو صدرِ آصف علی زرداری کی منظوری کے بعد قانون بن گئی تھی۔ قومی اسمبلی نے اسے 12 نومبر 2025ء کو منظور کیا تھا، جبکہ سینیٹ نے حتمی منظوری 13 نومبر کو دی۔ جسٹس محسن اختر کیانی سمیت اسلام اباد ہائی کورٹ کے تین عمرانڈو ججز کے دیگر ہائی کورٹس میں تبادلوں کی منظوری اپریل 2026ء میں دی گئی۔

 

اب صدرِ مملکت کو 28 اکتوبر 2026ء کو بھجوائے گئے استعفے میں جسٹس محسن اختر کیانی نے ذاتی وجوہات، حالیہ سرجری کے بعد صحت کے مسائل اور ضمیر کی آواز کو بھی اپنے فیصلے کی بنیاد قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ میں خدمات انجام دینا ان کے لیے اعزاز رہا اور انھوں نے اپنے عدالتی کیریئر کے دوران 23 ہزار سے زیادہ مقدمات نمٹائے، جبکہ ہمیشہ آئین کی بالادستی، بنیادی حقوق کے تحفظ اور بلا خوف و امتیاز انصاف کی فراہمی کی کوشش کی۔

 

جسٹس محسن اختر کیانی نے اپنے استعفے میں مؤقف اختیار کیا کہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے ذریعے متعارف کرائی گئی تبدیلیوں نے ہائی کورٹس کی خودمختاری اور ادارہ جاتی سالمیت کو متاثر کیا ہے۔ ان کے مطابق عدلیہ پر انتظامیہ کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ ججوں کی تقرریوں اور تبادلوں تک پھیل چکا ہے، جس سے عدلیہ کی آزادی اور عدالتی عمل کی غیر جانب داری پر عوام کا اعتماد شدید متاثر ہوا ہے اور انصاف کی فراہمی کے نظام پر لوگوں کا یقین متزلزل ہو گیا ہے۔

 

جسٹس کیانی نے عام سائلین کی مشکلات میں اضافے پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نظامِ انصاف کے اصل فریق عام شہری ہیں، لیکن ان کی مشکلات مسلسل بڑھ رہی ہیں، جبکہ انصاف کی فراہمی کے لیے قائم نظام کے ثمرات دوسرے حلقوں کو حاصل ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں ان کا ضمیر انھیں عدالتی منصب پر برقرار رہنے کی اجازت نہیں دیتا۔ انھوں نے اس فیصلے کو تکلیف دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی عہدہ آئین سے وفاداری اور انسانی وقار کے تحفظ سے الگ نہیں ہو سکتا۔

 

یاد رہے کہ جسٹس محسن اختر کیانی کا نام گزشتہ چند برسوں کے دوران عدلیہ کی آزادی، ججوں کے تبادلوں اور عدالتی امور میں مداخلت کے حوالے سے خبروں میں نمایاں رہا ہے۔ مارچ 2024ء میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججوں نے سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھ کر اپنے رشتہ داروں کے اغوا، تشدد اور گھروں میں خفیہ نگرانی کے ذریعے دباؤ ڈالنے کی کوششوں کی شکایت کی تھی۔ جسٹس کیانی بھی اس خط پر دستخط کرنے والوں میں شامل تھے، جس کے بعد سپریم کورٹ نے معاملے کا ازخود نوٹس لیا تھا۔

 

فروری 2025ء میں جسٹس محسن اختر کیانی ان پانچ ججوں میں شامل تھے جنھوں نے دیگر ہائی کورٹس سے ججوں کے اسلام آباد ہائی کورٹ تبادلوں اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سنیارٹی کے تنازع کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ تاہم جون 2025ء میں سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے اکثریتی فیصلے میں قرار دیا کہ آئین کے آرٹیکل 200 کے تحت ججوں کا تبادلہ آئینی اور قانونی ہے اور اسے نئی تقرری نہیں سمجھا جا سکتا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں سنیارٹی کی ترتیب تبدیل ہوئی اور جسٹس کیانی کی پوزیشن بھی متاثر ہوئی۔

مقبولیت کے دعوے بے نقاب،PTIعوام کو سڑکوں پر لانے میں یکسر ناکام کیوں؟

جسٹس کیانی اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینئر ترین ججوں میں شمار ہوتے تھے اور جسٹس عامر فاروق کے سپریم کورٹ جانے کے بعد ان کے اسلام آباد ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بننے کے امکانات روشن ہوگئے تھے، لیکن بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس سرفراز ڈوگر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کر دیا گیا۔ اپریل 2026ء میں جوڈیشل کمیشن نے 27ویں آئینی ترمیم کے بعد حاصل اختیارات استعمال کرتے ہوئے جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس بابر ستار اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز کے دیگر ہائی کورٹس میں تبادلوں کی منظوری دی۔ بعض قانونی حلقوں نے ان تبادلوں کو متعلقہ ججوں کے خلاف کارروائی قرار دیا، تاہم حکومت نے اس تاثر کو مسترد کر دیا تھا۔

 

جسٹس محسن اختر کیانی نے اب وکالت کے شعبے میں واپس جانے کا اعلان کیا ہے، جہاں ان کے بقول وہ عوامی حقوق کے تحفظ اور قانونی آگاہی کے فروغ کے لیے اپنی خدمات جاری رکھیں گے۔ انھیں 2032ء میں ریٹائر ہونا تھا، جبکہ لاہور ہائی کورٹ کے جاری کردہ روسٹر کے مطابق انھوں نے دو نومبر سے راولپنڈی بینچ میں مقدمات کی سماعت کرنا تھی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں تعیناتی کے دوران وہ جبری گمشدگیوں سے متعلق مقدمات کی سماعت کرنے والے لارجر بینچ کی سربراہی بھی کرتے رہے، جس نے فوجی خفیہ اداروں کے متعدد افسران کو طلب کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔

Back to top button