شہباز شریف کی پارلیمنٹ میں دلچسپی ختم کیوں ہو گئی؟

نامور تجزیہ کار رؤف کلاسرا نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف جیسے سیاست دان صرف مارشل لا ادوار میں ہی جمہوریت پسند بنتے ہیں۔ ان جیسے سیاستدانوں کو جس دن اقتدار مل جاتا ہے، اسی دن پارلیمنٹ سے ان کی دلچسپی ختم ہو جاتی ہے اور ’’ٹھنڈ پروگرام‘‘ شروع ہو جاتا ہے، جیسا کہ آج کل قومی اسمبلی میں دکھائی دے رہا ہے جہاں وزیراعظم سمیت ارکان اسمبلی کی عدم موجودگی کے باعث 75 فیصد سے زائد نشستیں خالی پڑی ہوتی ہیں۔
رؤف کلاسرا نے اپنے تجزیے میں موجودہ پارلیمانی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس جاری ہیں، لیکن ایوانوں میں ارکان کی غیر حاضری اور خالی کرسیاں نمایاں ہیں۔ ان کے مطابق ملک میں اہم قومی اور عوامی مسائل موجود ہونے کے باوجود پارلیمنٹ میں ان پر مؤثر بحث ہوتی دکھائی نہیں دیتی، جس سے منتخب ایوانوں کی کارکردگی اور عوامی نمائندگی کے کردار پر سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کی غیر فعالیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی گزشتہ ایک سال سے چیئرمین کے بغیر چل رہی ہے۔ یہ کمیٹی سرکاری اخراجات اور آڈٹ اعتراضات کی جانچ پڑتال کے ذریعے حکومتی مالی معاملات کی نگرانی کرتی ہے، لیکن اس کی سربراہی کا طویل عرصے تک خالی رہنا پارلیمانی احتساب کے نظام میں کمزوری کی نشاندہی کرتا ہے۔ ان کے مطابق عوامی ٹیکس کے پیسے کے استعمال پر مؤثر نگرانی پارلیمنٹ کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔
رؤف کلاسرا کے مطابق وزیر اعظم اور وزرا کی پارلیمنٹ میں عدم دلچسپی بھی موجودہ صورت حال کا اہم پہلو ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ وزیراعظم شہباز شریف بھی طویل عرصے تک ایوان میں دکھائی نہیں دیے، جبکہ وقفہ سوالات کے دوران وزرا اپنی ذمہ داریاں پارلیمانی سیکرٹریز کے سپرد کرکے خود ایوان سے باہر مصروف رہتے ہیں۔ ان کے بقول اس طرز عمل سے منتخب نمائندوں کے سامنے حکومتی جواب دہی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے پارلیمانی نگرانی کا عمل متاثر ہوتا ہے۔
انہوں نے ماضی کی پارلیمانی صورت حال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2002ء سے 2007ء کے دوران پرویز مشرف کے دور میں قومی اسمبلی زیادہ فعال دکھائی دیتی تھی اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس بھی میڈیا کے لیے کھولے گئے تھے۔ رؤف کلاسرا کے مطابق اس دور میں پارلیمنٹ کے فعال ہونے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف ملک سے باہر تھے اور وہ پرویز مشرف پر دباؤ بڑھانے کے لیے پارلیمنٹ کو متحرک رکھنے میں دلچسپی رکھتے تھے۔
کلاسرا کا کہنا ہے کہ آج ہمیں بیوروکریسی کی حالت دیکھ کر یقین نہیں آتا کہ سرکاری ملازمتوں میں قابلیت اور پیشہ ورانہ معیار اس قدر نیچے گر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ماضی میں ایسے افسر بھی موجود تھے جو حکمرانوں کے دباؤ کے باوجود غلط کام کرنے سے انکار کر دیتے تھے، لیکن اب اصولوں پر ڈٹ جانے اور حکومتی دباؤ برداشت کرنے والے افسروں کی مثالیں کم دکھائی دیتی ہیں۔ انہوں نے وزیر دفاع خواجہ آصف کے پرتگال میں بیوروکریٹس کی جائیدادوں سے متعلق بیان اور محمود خان اچکزئی کے 32 ہزار بیوروکریٹس کے بیرون ملک شہریتیں حاصل کرنے کے دعوے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری افسران کی ترجیحات پر سنجیدہ سوالات اٹھتے ہیں۔
تحریک انصاف کے موسمی پرندے نئی اڑانیں بھرنے کو تیار
انہوں نے سابق سیکرٹری زراعت ڈاکٹر ظفر الطاف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے حکومتی دباؤ کے باوجود ایک کنٹریکٹ دینے سے انکار کیا تھا، کیونکہ ان کے نزدیک سرکاری افسر کی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ ایسے فیصلوں سے گریز کرے جن کے باعث مستقبل میں وزیراعظم یا متعلقہ وزیر کو مقدمات کا سامنا کرنا پڑے۔ رؤف کلاسرا کے مطابق آج ایسے افسروں کی ضرورت ہے جو ذاتی مفادات اور عہدے کے تحفظ کے بجائے قانون اور قومی مفاد کو ترجیح دیں۔
رؤف کلاسرا نے بیوروکریسی اور پارلیمنٹ کی موجودہ صورت حال کو ادارہ جاتی زوال کے تناظر میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ جب سرکاری افسر حکمرانوں کے سامنے اصولی مؤقف اختیار کرنے سے گریز کریں اور وزرا و ارکان پارلیمنٹ اپنے فرائض میں دلچسپی نہ لیں تو حکومتی احتساب اور قانون کی عمل داری کا نظام کمزور پڑ جاتا ہے۔ ان کے مطابق سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ بیوروکریسی میں میرٹ اور اصول پسندی کو اہمیت دی جائے اور پارلیمنٹ کو محض اجلاس منعقد کرنے کے بجائے عوامی مسائل پر مؤثر بحث اور حکومتی نگرانی کا فعال فورم بنایا جائے۔

One Comment