پاکستان میں ظالم اور مظلوم دونوں کو انصاف کی تلاش

معروف صحافی اور تجزیہ کار جاوید چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان میں انصاف ختم ہو چکا ہے، اسی لیے ریاست کو بھی ملزمان کو ماورائے عدالت قتل کرنا پڑتا ہے اور مظلوموں کو بھی انصاف کے حصول کے لیے پھانسی لینا پڑتی ہے۔
اپنے تازہ تجزیے میں جاوید چوہدری نے اسلام آباد کی مظلوم طالبہ لائبہ اعجاز کی خودکشی اور اس کے ساتھ ویزہ فراڈ کرنے والے نعمان کی جعلی پولیس مقابلے میں ہلاکت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جس ملک میں انصاف کے لیے ایک لڑکی کو درخت سے لٹک کر جان دینا پڑے اور ایک ملزم عدالت میں پیش ہونے سے پہلے پولیس مقابلے میں مار دیا جائے، وہاں نظامِ انصاف کے دفاع میں کیا دلیل باقی رہ جاتی ہے؟
جاوید چوہدری کے مطابق نعمان کا تعلق ایبٹ آباد کے علاقے منگال سے تھا اور وہ ایف آئی اے میں کلرک کی ملازمت سے برطرف ہونے کے بعد انسانی اسمگلنگ اور بیرونِ ملک تعلیم کے نام پر لوگوں کو دھوکا دینے کے کاروبار میں ملوث ہو گیا تھا۔ وہ کبھی خود کو ایف آئی اے کا ڈپٹی ڈائریکٹر، کبھی فوجی افسر اور کبھی خفیہ ادارے یا سپریم کورٹ کا اہلکار ظاہر کرتا، جبکہ بعد میں اس نے سٹڈی ویزا کنسلٹنٹ کے طور پر کام شروع کر دیا۔ سینئیر صحافی کے مطابق اس کا ایک بھتیجا بھی اس کام میں شریک تھا اور دونوں بیرونِ ملک جانے کے خواہش مند نوجوانوں کو اپنے جال میں پھنساتے تھے۔
اسی سلسلے میں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کی گریجویٹ لائبہ اعجاز بھی نعمان کے رابطے میں آئی، جس کا خواب امریکا سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا اور وہیں اپنا مستقبل بنانا تھا۔ نعمان نے اسے ہارورڈ یونیورسٹی میں داخلہ دلوانے کا یقین دلایا اور مختلف مراحل کے نام پر اس کے خاندان سے رقم وصول کرتا رہا۔ لائبہ کے والد دودھ فروخت کرکے گزر بسر کرتے تھے، جبکہ بیٹی کے مستقبل کی خاطر اس کی والدہ نے اپنے زیورات فروخت کر دیے اور والد نے اپنا پلاٹ بھی بیچ دیا۔ جاوید چوہدری کے مطابق اس فراڈ میں وصول کی گئی رقم 90 لاکھ روپے تھی جو وزیر داخلہ محسن نقوی نے نعمان کی پولیس مقابلے میں ہلاکت کے بعد لائبہ کے والد کو لوٹا دی یے۔
جاوید چوہدری کے مطابق نعمان نے بالآخر لائبہ کو ہارورڈ یونیورسٹی میں داخلے کا جعلی خط دے دیا، جس پر اس کا پورا خاندان خوشی سے سرشار تھا، تاہم امریکی ویزے کے حصول کا مرحلہ آیا تو ملزم مختلف تاریخیں دینے اور مزید رقم طلب کرنے لگا۔ لائبہ نے داخلے کے خط کی تصدیق کرائی تو وہ جعلی نکلا۔ اس نے اپنی رقم واپس لینے کی کوشش کی اور ان لڑکیوں کو بھی ساتھ لے کر نعمان کے پاس گئی جن کے ذریعے اس کا تعارف ہوا تھا، لیکن ملزم نے رقم واپس کرنے کے بجائے اسے اس کے والد اور بھائی کو اٹھوانے کی دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔ بالآخر اس نے لائبہ کا فون بلاک کر دیا اور خود بھی غائب ہو گیا۔
جاوید چوہدری کے مطابق لائبہ یہ صدمہ برداشت نہ کر سکی اور 9 اکتوبر کو اسلام آباد کے جی ٹین علاقے میں واقع اتوار بازار گئی، جہاں اس نے ایک درخت سے دوپٹہ باندھ کر خودکشی کر لی۔ اس واقعے کی خبر اور لائبہ کی تصویر سوشل میڈیا پر پھیلنے کے بعد معاملہ حکومت کی توجہ میں آیا، جس پر پولیس نے تحقیقات شروع کیں اور 11 اکتوبر کو نعمان کو گرفتار کر لیا۔ سینیئر صحافی کے مطابق پولیس نے ملزم سے فراڈ سے حاصل کی گئی رقم برآمد کر لی۔ ان کے بقول دورانِ تفتیش نعمان نے اعتراف کیا کہ اسے توقع تھی کہ لائبہ بھی دیگر متاثرین کی طرح کچھ عرصہ رونے دھونے کے بعد خاموش ہو جائے گی اور اگر ایسا نہ ہوا تو وہ کچھ رقم واپس کرکے معاملہ ختم کر لے گا۔
شہباز شریف کی پارلیمنٹ میں دلچسپی ختم کیوں ہو گئی؟
جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ نعمان کو یہ اعتماد بھی تھا کہ اگر وہ گرفتار ہو گیا تو پولیس کو رقم دے کر چھوٹ جائے گا۔ لیکن 20 اکتوبر کی رات ملزم مبینہ طور پر پولیس کی تحویل سے فرار ہونے کے بعد ایک مقابلے میں مارا گیا، تاہم انہوں نے اس مقابلے کے حقیقی یا جعلی ہونے کی بحث سے قطع نظر نظامِ انصاف کی خرابیوں کو بنیادی مسئلہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملزم کا پولیس کو رقم دے کر بچ نکلنے کا تصور عکاسی کرتا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدالتی نظام کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔
سینیئر صحافی کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ لائبہ کو انصاف کے لیے اپنی جان کیوں دینا پڑی اور اس کے خاندان کی جمع پونجی ڈوبنے سے پہلے متعلقہ ادارے حرکت میں کیوں نہ آئے۔ انکا کہنا یے کہ ایسے واقعات میں متاثرین تھانوں اور متعلقہ اداروں کے چکر لگاتے رہتے ہیں، جبکہ فراڈیے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو کر اپنا کام جاری رکھتے ہیں۔ انہوں نے اس صورتِ حال کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی اور شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے نظام کی ناکامی سے تعبیر کیا ہے۔
جاوید چوہدری نے اپنے تجزیے کے آخر میں حضرت علیؓ سے منسوب اس قول کا حوالہ بھی دیا ہے کہ کفر کا نظام چل سکتا ہے، لیکن ظلم کا نہیں۔ ان کے مطابق پاکستان میں انصاف کی عدم دستیابی نے شہریوں کو اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں انہیں اپنی فریاد حکام تک پہنچانے کے لیے غیر معمولی اور انتہائی قدم اٹھانا پڑتا ہے۔ انہوں نے وزیراعظم، آرمی چیف، چیف جسٹس اور دیگر حکام سے سوال کیا ہے کہ ملک بھر میں بے انصافی کی داستانیں سامنے آنے کے باوجود اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے مؤثر اقدامات کیوں نہیں کیے جاتے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر مظلوموں کو انصاف نہ ملے اور ریاستی ادارے بھی قانون کے مطابق کارروائی کرنے کے بجائے خود قانون سے ماورا راستے اختیار کریں تو معاشرے میں عدالتی نظام پر اعتماد کیسے برقرار رہ سکتا ہے؟
