مریم حکومت کے زیر سایہ پولیس مقابلوں میں تیزی کیوں ؟

 

 

 

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کہ ناقدین نے الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے قومی خزانے سے مہنگا جہاز خریدنے کا سکینڈل دبانے اور عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے پولیس مقابلوں کا سلسلہ تیز کروا دیا ہے، ناقدین کے مطابق یہی وجہ ہے کہ سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کو جعلی پولیس مقابلوں میں پار کیا جا رہا ہے جبکہ عام شہریوں پر تشدد کرنے والوں کو آن کیمرہ تھپڑ مروا کر عوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

 

تحریک انصاف کے سوشل میڈیا بریگیڈ کے سربراہ شہباز گل نے الزام عائد کیا ہے کہ مریم نواز کی جانب سے اربوں روپے مالیت کے جہاز کی خریداری پر ہونے والی تنقید اور حکومتی کارکردگی پر اٹھنے والے سوالات کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب کے طرزِ عمل میں غیر معمولی سختی نظر آرہی ہے، تاہم دوسری جانب پولیس مقابلوں کی حمایت اور انصاف کے لیے عوامی جذبات کو بنیاد بنانے کی حکمت عملی پر قانونی و آئینی سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔

 

حالیہ دنوں میں مریم نواز سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر عوام کو درپیش مشکلات، غریبوں اور مزدوروں کے استحصال اور دولت و طاقت کے بل بوتے پر خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے والے عناصر کے خلاف سخت بیانات جاری کرتی رہی ہیں۔ وزیراعلیٰ کا مؤقف ہے کہ کسی شہری کے ساتھ ناانصافی برداشت نہیں کی جائے گی اور بااثر افراد کو بھی قانون کے سامنے جواب دہ ہونا ہوگا، تاہم ناقدین کے مطابق ایسے بیانات کے ساتھ انصاف کی فراہمی کے لیے قانونی طریقہ کار اور پولیس کی جواب دہی کو بھی یقینی بنانا ضروری ہے۔

 

یاد رہے کہ مریم نواز نے 23 اکتوبر 2026ء کو لاہور کے علاقے جوبلی ٹاؤن میں ایک پٹرول پمپ کے ملازم پر تشدد کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے واقعے کی مذمت کی تھی۔ پٹرول پمپ کے ملازم کو سگریٹ نوشی سے منع کرنے پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ وزیراعلیٰ نے اس واقعے کو ان لوگوں کے لیے طمانچہ قرار دیا جو دولت اور طاقت کے بل پر غریبوں کو کمتر سمجھتے اور خود کو قانون سے بالاتر تصور کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ مظلوموں کے ساتھ کھڑی ہیں اور انصاف ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ بعد ازاں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں پٹرول پمپ پر تشدد کا نشانہ بننے والا ملازم تھپڑ مارنے والے کے منہ پر پولیس حراست میں ایک زوردار طمانچہ رسید کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

 

اس کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب نے ایک سکول میں استاد کی جانب سے بچے پر تشدد اور سکوٹی سوار لڑکی پر حملے کے واقعات پر بھی سخت ردعمل ظاہر کیا۔ سکوٹی سوار لڑکی سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز نے ملزم کو بھی اسی طرح تھپڑ مارنے کی انوکھی تجویز دی، تاہم لڑکی نے حکومتی تحفظ اور انصاف کی یقین دہانی کو اپنے لیے کافی قرار دیا ہے اور مزید کارروائی سے معذرت کر لی ہے۔ ان واقعات پر وزیر اعلیٰ کے فوری ردعمل کو بعض حلقے عام شہریوں کی حمایت قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ جرائم کے خاتمے کے لیے جذباتی بیانات کے بجائے قانون کی یکساں عمل داری اور ادارہ جاتی اصلاحات زیادہ اہم ہیں۔

 

سینیئر صحافی ماجد نظامی کے مطابق مریم نواز اپنی حکومت پر ہونے والی تنقید سے پریشان دکھائی دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت کو جہاز کی خریداری سمیت مختلف معاملات پر تنقید کا سامنا ہے اور حکومت کی ابلاغی حکمت عملی بھی توقعات کے مطابق کامیاب نہیں ہوئی۔ ماجد نظامی کے خیال میں ایسے حالات میں عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے فوری اور مقبول فیصلوں کو نمایاں کیا جا رہا ہے، جبکہ ان کے آئینی اور قانونی پہلوؤں پر بھی سنجیدہ سوالات موجود ہیں۔ ان کے مطابق اصلاحات کے بجائے ایسے اقدامات کو ترجیح دی جا رہی ہے جن کے فوری نتائج سامنے آئیں اور عوام میں پذیرائی حاصل ہو۔

 

سینیئر صحافی احمد ولید نے بھی وزیراعلیٰ کے حالیہ بیانات اور پولیس کارروائیوں سے متعلق طرزِ عمل پر تنقید کی ہے۔ ان کے مطابق جہاز کی خریداری پر ہونے والی تنقید کے بعد مریم نواز کے بیانات میں غیر معمولی سختی دکھائی دے رہی ہے، تاہم انہیں مؤثر قانون سازی اور اداروں کو مضبوط بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔ احمد ولید کا کہنا ہے کہ پولیس کی کارروائیوں اور مبینہ پولیس مقابلوں کی کھلی حمایت تشدد کے رجحان کو تقویت دے سکتی ہے اور اگر انصاف کے لیے قانونی نظام کے بجائے عوامی جذبات کے مطابق فیصلوں کو فروغ دیا گیا تو عدالتوں اور متعلقہ اداروں کی اہمیت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

مولانا فضل الرحمان اب آپ کو ریاست میں نوکری نہیں ملے گی : محسن نقوی

دوسری جانب سینیئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب وزیراعلیٰ کے مؤقف کی حمایت کرتی ہیں۔ ان کے مطابق پنجاب حکومت عوامی فلاح، صحت، صفائی، ماحولیاتی تحفظ اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے کام کر رہی ہے اور استحصال، بدعنوانی یا عوام پر ظلم کی کسی بھی صورت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور طاقتور عناصر کو جواب دہ بنانے کے ساتھ عام شہریوں کو انصاف فراہم کرنا بھی وزیراعلیٰ کے وژن کا حصہ ہے۔

 

سیاسی مبصرین کے مطابق مریم نواز کے حالیہ بیانات اور پولیس کارروائیوں کا جائزہ لیتے وقت عوامی ہمدردی، سیاسی حکمت عملی اور انصاف کے تقاضوں کو الگ الگ دیکھنا ضروری ہے۔ عام شہریوں پر تشدد کے واقعات کے خلاف حکومتی سربراہ کا فوری ردعمل متاثرین کو تحفظ کا احساس دلا سکتا ہے، لیکن ملزمان کے خلاف کارروائی شواہد اور قانونی طریقہ کار کے مطابق ہونا بھی ناگزیر ہے۔ مبصرین کے مطابق حکومت کی کارکردگی کا اصل پیمانہ صرف سخت بیانات یا فوری کارروائیاں نہیں بلکہ یہ ہے کہ جرائم کی روک تھام، پولیس کی جواب دہی اور منصفانہ عدالتی عمل کو کس حد تک مضبوط بنایا جاتا ہے، کیونکہ پولیس مقابلوں کو انصاف کا متبادل بنانے سے قانون کی بالادستی کے بجائے ماورائے عدالت کارروائیوں کی حوصلہ افزائی کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔

Back to top button