کیا عرب اتحاد نیتن یاہو کے اقتدار کا راستہ روک دے گا؟

اسرائیل میں عام انتخابات کے بعد وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی اقتدار میں واپسی کی راہ میں عرب اتحاد سب سے بڑی رکاوٹ بن کر سامنے آ گیا ہے، جس نے 19 نشستیں حاصل کرکے حکومت سازی کی کنجی اپنے ہاتھ میں لے لی ہے۔ 120 رکنی اسرائیلی پارلیمان میں نیتن یاہو کے حکمران اتحاد کو 53 جبکہ ان کے مخالف اپوزیشن رہنما گادی آئزن کوٹ کے اتحاد کو 48 نشستیں ملی ہیں، یوں دونوں دھڑے حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں کی سادہ اکثریت سے محروم ہیں۔ اب فیصلہ کن سوال یہ ہے کہ آیا عرب جماعتیں نیتن یاہو کو دوبارہ اقتدار میں آنے سے روکنے کے لیے ان کے مخالف اتحاد کا ساتھ دیں گی یا اپنے سیاسی مطالبات منوانے کے لیے دونوں فریقوں کو مذاکرات پر مجبور کریں گی۔

عرب اتحاد کی حمایت کے بغیر کسی بھی بڑے دھڑے کے لیے حکومت بنانا مشکل دکھائی دیتا ہے، تاہم اس کی حمایت کس کو ملے گی، اس کا فیصلہ اسرائیل کی آئندہ سیاست کا رخ متعین کر سکتا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق عرب اتحاد کی اہمیت اس لیے غیر معمولی ہو گئی ہے کہ دونوں بڑے سیاسی دھڑے واضح اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اگر عرب جماعتیں آئزن کوٹ کے اتحاد کی حمایت کرتی ہیں تو نیتن یاہو کی اقتدار میں واپسی روکنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، لیکن اگر وہ کسی بھی فریق کا ساتھ دینے سے انکار کر دیتی ہیں تو حکومت سازی کا عمل مزید پیچیدہ ہو جائے گا۔ ایسی صورت میں طویل اتحادی مذاکرات، سیاسی تعطل اور حتیٰ کہ دوبارہ انتخابات کا امکان بھی پیدا ہو سکتا ہے۔

تاہم عرب اتحاد کے لیے کسی ایک فریق کا ساتھ دینے کا فیصلہ آسان نہیں ہوگا۔ اسرائیلی سیاست میں عرب جماعتوں کو طویل عرصے سے حکومتی اتحادوں سے دور رکھنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے، جبکہ نیتن یاہو بھی ماضی میں عرب جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کے امکان پر سخت اعتراضات کرتے رہے ہیں۔ دوسری جانب یہودی اپوزیشن جماعتوں کے بعض رہنما بھی عرب قیادت والی جماعتوں کے ساتھ باقاعدہ حکومتی اتحاد بنانے سے گریز کرتے رہے ہیں۔ اب جب کہ دونوں بڑے دھڑے اکثریت سے محروم ہیں، انہیں اپنے سابقہ مؤقف پر نظرثانی کرنا پڑ سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق عرب جماعتیں محض نیتن یاہو کی مخالفت کی بنیاد پر کسی اتحاد کا حصہ بننے کے بجائے اپنے ووٹرز کے لیے عملی فوائد حاصل کرنے کو ترجیح دے سکتی ہیں۔ فلسطینی شہریوں کے حقوق، عرب آبادی والے علاقوں میں جرائم کی روک تھام، شہری سہولتوں کی فراہمی، معاشی عدم مساوات اور امتیازی سلوک کا خاتمہ ان کے اہم مطالبات میں شامل ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ کسی اتحاد کی حمایت کے بدلے وہ ان معاملات پر ٹھوس یقین دہانیاں اور عملی اقدامات کا مطالبہ کر سکتی ہیں، تاہم ان کی حتمی شرائط اور سیاسی ترجیحات واضح ہونے کے بعد ہی ان کے فیصلے کا اندازہ لگایا جا سکے گا۔

اسرائیل کی عرب آبادی ملک کے شہریوں کا تقریباً پانچواں حصہ ہے اور ان میں بڑی تعداد ان فلسطینی خاندانوں کی نسلوں پر مشتمل ہے جو 1948 کی جنگ کے دوران بے گھر ہونے والے لاکھوں فلسطینیوں کے برعکس اپنی سرزمین پر رہ گئے تھے۔ ان میں سے بہت سے شہری خود کو اسرائیل کے فلسطینی شہری قرار دیتے ہیں۔ عرب جماعتوں کی پارلیمانی قوت میں اضافے کو اس تناظر میں بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کہ ان کے ووٹرز کی انتخابی شرکت اور نمائندہ جماعتوں کی نشستیں اسرائیلی سیاست کے روایتی توازن کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

 

عرب جماعتیں اس سے پہلے بھی اسرائیل میں حکومت سازی کے عمل میں اہم کردار ادا کر چکی ہیں۔ 2021 میں ایک عرب جماعت پہلی مرتبہ حکومتی اتحاد میں شامل ہوئی تھی، جس سے اسرائیلی سیاست میں عرب نمائندگی کی اہمیت مزید نمایاں ہوئی۔ تاہم کسی سیاسی اتحاد کی حمایت کرنا اور اس کی حکومت میں باقاعدہ شامل ہونا دو الگ معاملات ہیں۔ موجودہ صورت حال میں عرب جماعتیں کابینہ کا حصہ بنے بغیر بھی پارلیمان میں اہم فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتی ہیں، کیونکہ ان کی حمایت یا مخالفت کسی فریق کے اقتدار تک پہنچنے کا راستہ بنا یا روک سکتی ہے۔

مبصرین کے مطابق عرب اتحاد کی 19 نشستیں اسے اسرائیلی پارلیمان میں ایک فیصلہ کن سیاسی قوت بناتی ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ لازماً آئزن کوٹ کے اتحاد کا ساتھ دے گا۔ عرب جماعتوں کے اندر سیاسی ترجیحات اور حکمت عملی کے اختلافات بھی ان کے فیصلے پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح یہ بھی ضروری نہیں کہ اپوزیشن کی حمایت کرنے والی تمام جماعتیں عرب اتحاد کے ساتھ مکمل حکومتی شراکت داری پر آمادہ ہو جائیں۔ اس لیے حکومت سازی کا معاملہ محض نشستوں کے حساب کتاب تک محدود نہیں رہے گا بلکہ سیاسی شرائط، باہمی اعتماد اور اتحادیوں کے درمیان مفاہمت بھی فیصلہ کن ہوگی۔

موجودہ صورت حال میں اصل امتحان عرب اتحاد کی سیاسی حکمت عملی کا ہے۔ اگر وہ نیتن یاہو کو اقتدار سے دور رکھنے کے لیے آئزن کوٹ کے اتحاد کی حمایت پر متفق ہو جاتا ہے اور دیگر ضروری ارکان کی حمایت بھی حاصل ہو جاتی ہے تو اسرائیل میں حکومت کی تبدیلی ممکن ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر عرب جماعتیں تقسیم رہتی ہیں، غیر جانب دار رہنے کا فیصلہ کرتی ہیں یا اپوزیشن مطلوبہ حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہتی ہے تو نیتن یاہو کے لیے اقتدار میں واپسی کی گنجائش برقرار رہے گی۔ یوں عرب اتحاد کنگ میکر تو بن چکا ہے، لیکن یہ دیکھنا باقی ہے کہ وہ اپنی 19 نشستوں کو نیتن یاہو کا راستہ روکنے کے لیے استعمال کرتا ہے یا اسرائیلی سیاست میں اپنے دیرینہ مطالبات منوانے کے لیے ایک قوت کے طور پر سامنے آتا ہے۔

 

 

Back to top button