سہیل آفریدی کی حفاظتی حراست سے باقاعدہ گرفتاری کا امکان

ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے بعد اب یہ امکان پیدا ہو گیا ہے کہ انہیں موجودہ حفاظتی حراست ہی میں باقاعدہ گرفتار کرکے ان کا ٹرائل شروع کر دیا جائے گا۔ پشاور کی انسداد دہشتگردی عدالت نے 9 مئی 2023 کے اس کیس میں سہیل آفریدی سمیت تحریک انصاف کے پانچ رہنماؤں کے وارنٹ جاری کیے تھے جبکہ پراسیکیوشن چالان بھی عدالت میں جمع کرا چکی ہے۔
دوسری جانب خیبر پختونخوا حکومت کی مشیر اطلاعات ثمر ہارون بلور نے واضح کیا ہے کہ سہیل آفریدی ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں نہیں بچ سکیں گے۔ اس پیش رفت نے گورنر راج کے نفاذ کے بعد حفاظتی تحویل میں موجود سابق وزیراعلیٰ کے قانونی اور سیاسی مستقبل کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔ انسداد دہشت گردی عدالت پشاور نے سہیل آفریدی کے علاوہ کامران بنگش، تیمور جھگڑا، عرفان سلیم اور عامر خان کے بھی وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔ عدالت کے تحریری حکم کے مطابق مقدمے میں نو ملزمان تاحال مفرور ہیں، جن کے خلاف ضابطہ فوجداری کی دفعہ 204 کے تحت وارنٹ جاری کیے گئے ہیں۔ عدالت نے مزید سماعت 4 نومبر تک ملتوی کر دی ہے۔
چالان جمع ہونے کے بعد مقدمے میں آئندہ قانونی کارروائی اہمیت اختیار کر گئی ہے، تاہم سہیل آفریدی کی باقاعدہ گرفتاری اور ٹرائل کے آغاز کے بارے میں حتمی پیش رفت سامنے آنا باقی ہے۔ سہیل آفریدی خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد سے حفاظتی حراست میں ہیں۔ ان کے خلاف 9 مئی 2023 کو پشاور میں ریڈیو پاکستان کی عمارت پر حملے کا مقدمہ درج ہے، جسے اب تیزی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ 25 ستمبر 2026 کو پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی اور نادرا کی رپورٹس کی روشنی میں تفتیشی افسر نے انسداد دہشت گردی عدالت میں سہیل آفریدی اور چار سابق صوبائی وزرا کو ملزم نامزد کرنے کی تصدیق کی تھی۔ ویڈیوز اور تصاویر کے جائزے کے علاوہ ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر کی جانب سے بھی حملہ آوروں کی شناخت کر لی گئی جس کے بعد عدالت نے تفتیشی افسر کو ضمنی چالان جمع کرانے کی ہدایت کی تھی۔
اس مقدمے میں سہیل آفریدی کی نامزدگی کا معاملہ پہلے بھی قانونی اختلافات کا شکار رہا۔ مارچ 2026 میں سرکاری سپیشل پراسیکیوٹر نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ دستیاب ویڈیو شواہد انہیں ملزم نامزد کرنے کے لیے کافی نہیں، تاہم ستمبر میں فرانزک مواد کی بنیاد پر تفتیش آگے بڑھائی گئی۔ دسمبر 2025 میں سہیل آفریدی کی زیرصدارت صوبائی کابینہ نے ان کیسز کی واپسی کا فیصلہ کیا تھا جنہیں حکومت سیاسی بنیادوں پر قائم قرار دیتی تھی، جبکہ ریڈیو پاکستان حملہ کیس کی تحقیقات صوبائی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کے سپرد کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا تھا۔ تاہم اپریل 2026 میں وفاقی آئینی عدالت کے حکم امتناع کے باعث مقدمہ ختم نہ ہو سکا، اور اب وارنٹ گرفتاری جاری ہونے سے اس میں مزید کارروائی کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔
مشیر اطلاعات خیبر پختون خوا ثمر ہارون بلور نے سہیل آفریدی کے وارنٹ گرفتاری پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر وارنٹ جاری ہوئے ہیں تو سب کچھ قانون کے مطابق ہوگا۔ نجی ٹی وی سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی حفاظتی تحویل میں ہیں، لیکن وہ ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں نہیں بچ سکیں گے۔ انہوں نے مینا خان کا نام لیتے ہوئے بھی کہا کہ وہ اس مقدمے میں نہیں بچ سکیں گے۔ ثمر ہارون بلور نے ضلع خیبر میں نادرا دفتر میں توڑ پھوڑ اور پولیس اہلکاروں کو زدوکوب کرنے کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ بعض ملزمان گرفتار کیے جا چکے ہیں، جبکہ دیگر کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں۔
لیکن سہیل آفریدی کی مشکلات صرف ریڈیو پاکستان حملہ کیس تک محدود نہیں۔ حالیہ لانگ مارچ کے دوران ریاست مخالف تقاریر پر بھی ان کے خلاف مقدمات درج کرنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ ان کی بطور وزیراعلیٰ تقرری کو چیلنج کرنے والی درخواست بھی زیرسماعت ہے۔ تحریک انصاف کے منحرف رہنما شیر افضل مروت نے وفاقی آئینی عدالت میں درخواست دائر کرکے علی امین گنڈاپور کے استعفے اور اس کے بعد سہیل آفریدی کے انتخاب کے قانونی طریقۂ کار پر سوال اٹھائے ہیں۔ درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ ان کی نامزدگی اور انتخاب میں قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔ اس درخواست کا فیصلہ سہیل آفریدی کی وزارت اعلیٰ کی قانونی حیثیت کے لیے اہم ہو سکتا ہے، تاہم حتمی فیصلہ عدالت ہی کرے گی۔
دوسری جانب سہیل آفریدی اور تحریک انصاف کے دیگر رہنماؤں نے مختلف مقدمات میں حفاظتی ضمانت کے لیے پشاور ہائی کورٹ سے بھی رجوع کر رکھا ہے۔ عدالت نے 10 اکتوبر کو ان کے وکلا کو دلائل دینے کا آخری موقع دیتے ہوئے اگلی سماعت کے لیے 20 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی تھی۔ ایک الگ معاملے میں ہری پور کے ضمنی انتخاب کی مہم کے دوران ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزیوں پر الیکشن کمیشن کی کارروائی کو چیلنج کرنے والی سہیل آفریدی کی درخواست بھی مسترد ہو چکی ہے۔ ان مقدمات اور عدالتی کارروائیوں نے ان کی سیاسی سرگرمیوں اور صوبائی اقتدار میں واپسی کو قانونی فیصلوں سے مشروط کر دیا ہے۔
ادھر وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج چھ ماہ بعد بھی جاری رہ سکتا ہے، تاہم حکومت کی کوشش ہے کہ اس مدت کے اندر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کی جائے۔ ان کے مطابق سابق صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں تعاون نہیں کر رہی تھی اور سہیل آفریدی آپریشنز کی مخالفت کرتے رہے تھے۔ گی۔
