بلاول بھٹو کی اپوزیشن کو پارلیمانی کمیٹیوں میں واپسی کی دعوت

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اپوزیشن کو پارلیمانی کمیٹیوں میں واپس آنے کا مشورہ دیدیا۔
قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر پارلیمان کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں تو اپنے ارکان کو کمیٹی میں بٹھائیں۔حکومت کو اپنی ذمے داریاں پوری کرنی چاہئیں لیکن اپوزیشن کو بھی فعال کردار کی ذمے داری اٹھانا پڑے گی، آپ کے فنانس کمیٹی میں نہ بیٹھنے سے پارلیمان کمزور ہوا ، پارلیمان طاقتور ہے تو ہم سب طاقتور ہیں۔
چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ کہ اپوزیشن سے درخواست ہے آپ کے پاس جو طاقت ہے آپ اسےاستعمال کرنا شروع کریں، الیکٹرول ریفارمز پر کمیٹی بناتے ہیں لیکن اپوزیشن شریک نہ ہو تو پھر کیا فائدہ ؟
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے دیے گئے اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے اپوزیشن اراکین کو پارلیمانی کمیٹیوں میں شرکت کی ہدایت کریں۔
انہوں نے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جو لوگ اس ایوان کو غیر فعال دیکھنا چاہتے ہیں اور نہیں چاہتے کہ عوام کو اس سے کوئی فائدہ پہنچے، وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو چکے ہیں اور اس حوالے سے انہوں نے طنزیہ انداز میں اپوزیشن کو مبارکباد بھی دی۔
بلاول بھٹو نے کمیٹیوں کے بائیکاٹ کے فیصلے کو پارلیمنٹ کو کمزور کرنے کی ایک کڑی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اپنی پارٹی، عوام اور حلقوں کی نمائندگی کرنا اپوزیشن کی ذمہ داری ہے، لیکن وہ متعلقہ پلیٹ فارمز پر عوامی جذبات اور مسائل اجاگر کرنے سے گریزاں ہیں۔
پی پی پی چیئرمین نے انکشاف کیا کہ پارلیمنٹ نے پیپلز پارٹی کی تحریک پر انتخابی اصلاحات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے اپوزیشن لیڈر سے کہا کہ وہ اس کمیٹی کے لیے اپنا نمائندہ نامزد کر کے سپیکر کے دفتر کو نام ارسال کریں۔

انہوں نے یاد دلایا کہ اپوزیشن نے انتخابی دھاندلی کو ہمیشہ اپنا بنیادی مسئلہ قرار دیا ہے، لہٰذا اگر اپوزیشن چاہتی ہے کہ آئندہ عام انتخابات، بلدیاتی انتخابات یا ضمنی انتخابات سے قبل اس مسئلے کا حل نکالا جائے تو اسے کمیٹی کی کارروائی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہوگا۔

Back to top button