عمران کو پنڈی سے اسلام آباد جیل شفٹ کرنے کا امکان

 

 

 

 

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار منیب فاروق نے دعویٰ کیا ہے کہ اڈیالہ جیل میں کرپشن مقدمات میں سزا کاٹنے والے بانی تحریک انصاف عمران خان کو بہت جلد اسلام آباد میں تعمیر کی جانے والی نئی ہائی سیکیورٹی جیل میں منتقل کر دیا جائے گا۔

 

منیب فاروق نے اپنے وی لاگ میں کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے اسلام آباد کی نئی تعمیر کردہ جیل میں عمران خان کی منتقلی کے حوالے سے سوال کیا گیا تو یہ تاثر ملا کہ قانونی ضوابط کے تحت اسلام آباد کے دائرہ اختیار میں آنے والے تمام قیدیوں کو نئی جیل منتقل کیا جائے گا۔ اس انتظام کے تحت عمران خان کو بھی اڈیالہ جیل سے نئی جیل منتقل کیے جانے کا امکان ہے، بتایا جا رہا ہے کہ اسلام آباد جیل کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے اور اسے فائنل ٹچز دیے جا رہے ہیں جس کے بعد عمران خان کو بھی وہاں شفٹ کر دیا جائے گا۔

تحریک انصاف کے موسمی پرندے نئی اڑانیں بھرنے کو تیار

منیب فاروق کے مطابق عمران خان کی جیل میں صحت اور روزمرہ معمولات بظاہر ٹھیک ہیں، البتہ وہ اپنی اہلیہ بشریٰ بی بی کی رہائی کے خواہش مند ہیں۔

منیب فاروق نے ان خدشات کو رد کیا کہ جیل میں عمران کی زندگی کو کوئی خطرات لاحق ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ عمران خان کی جان و مال کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہے اور وہ انہیں کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں پہنچنے دے گی۔ منیب فاروق نے کہا کہ عمران خان اب بھی سیاسی نظام میں ایک اہم فیکٹر گنے جاتے ہیں، اس لیے انہیں اندرونی طور پر نقصان پہنچائے جانے کا خدشہ درست معلوم نہیں ہوتا۔

 

منیب فاروق کے مطابق سابق وزیراعلی خیبر پختون خواہ سہیل آفریدی اور تحریک انصاف کے صوبائی صدر جنید اکبر خان بھی ان دنوں مشکلات اور دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں اور دونوں کی جانب سے بعض معاملات کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ ان کے بقول سہیل آفریدی کے بارے میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ انہیں بعض فیصلوں اور اقدامات پر احساس ہو رہا ہے کہ وہ غلط سمت میں چلے گئے تھے، چنانچہ اب غلط فہمیاں دور کرکے معافی تلافی کے ذریعے معاملات بہتر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

 

منیب نے کہا کہ بعض حلقوں کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ عمران خان کی بہن علیمہ خان کا سہیل آفریدی پر مختلف معاملات میں دباؤ تھا اور انہیں بعض کام کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے ہدایات دی جاتی تھیں۔ منیب فاروق کے مطابق سہیل آفریدی کا مؤقف بھی یہ سامنے آ رہا ہے کہ وہ بعض معاملات میں دباؤ کے تحت فیصلے کرنے پر مجبور تھے۔ انہوں نے جنید اکبر خان کے بارے میں بھی کہا کہ وہ مشکلات سے گزر رہے ہیں، تاہم ان دونوں شخصیات کی صورت حال اور ان سے متعلق دعوؤں کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

 

منیب فاروق نے کہا کہ اب یہ دیکھنا ہوگا کہ سہیل آفریدی اور جنید اکبر خان کی جانب سے معاملات سلجھانے اور معافی تلافی کے ذریعے اختلافات ختم کرنے کی کوششیں کہاں تک کامیاب ہوتی ہیں اور تحریک انصاف کے اندر جاری بحران کس سمت جاتا ہے۔ ان کے مطابق دونوں شخصیات ایک ہی وقت میں دباؤ کا سامنا کرتی دکھائی دے رہی ہیں، جبکہ پارٹی کے اندر اختلافات اور قیادت کے فیصلوں پر سوالات نے صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

 

دوسری جانب منیب فاروق نے بلوچستان کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی اور فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے درمیان تنازع کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق سرفراز بگٹی نے اسمبلی میں ایف ڈبلیو او کے کام کے معیار پر تحفظات کا اظہار کیا تھا، جس کے بعد سخت ردعمل سامنے آیا۔ اس ردعمل میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ بیکر روڈ کا 73 کلومیٹر طویل منصوبہ صوبائی حکومت کی جانب سے فنڈز کی عدم فراہمی اور لاگت میں اضافے کے باعث باہمی رضامندی سے منسوخ ہوا تھا، جبکہ بعد میں یہ ٹھیکہ صوبائی حکومت کے پسندیدہ ٹھیکیداروں کو دیا گیا، لیکن وہ کام مکمل نہ کر سکے۔ جھل جاہو، آواران روڈ کے بارے میں بھی کہا گیا کہ سرکاری ریکارڈ کے مطابق یہ منصوبہ ایف ڈبلیو او کے پاس نہیں تھا۔

 

منیب فاروق نے پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز کی سیاسی حکمت عملی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے اقدامات پر ہونے والی تنقید کے باوجود پراعتماد دکھائی دیتی ہیں اور صوبے میں مسلم لیگ (ن) کے سیاسی اثرورسوخ کو بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق سی سی ڈی کے اقدامات اور بعض حالیہ واقعات پر مریم نواز نے سخت مؤقف اپنایا ہے، تاہم ان کی کارکردگی کا اصل امتحان آنے والے انتخابات میں عوامی ووٹ ہوگا۔

Back to top button