ڈیانا ریپ: مریم نواز نے کس جج پر رشوت کا الزام لگایا؟

 

 

 

لاہور میں آذربائیجانی خاتون سے اجتماعی زیادتی کا کیس سنگین تنازع میں تبدیل ہو گیا ہے، ایک جانب ڈیانا نے ویڈیو بیان میں ملزم احمد تنویر کو بے قصور قرار دیا ہے تو دوسری جانب وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے الزام عائد کیا ہے کہ خاتون کو مقدمہ واپس لینے کے لیے ڈیڑھ سے دو کروڑ روپے کی پیشکش کی گئی جبکہ ملزم کی ضمانت منظور کرنے والے جج کو بھی رشوت دی گئی۔ ایسے میں مریم نواز نے اعلان کیا ہے کہ پنجاب حکومت خود اس کیس کی پیروی کرے گی اور اپنے اثر رسوخ کے ذریعے انصاف کا راستہ روکنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لائے گی۔

 

یاد رہے کہ آذربائیجانی لڑکی ستمبر کے آخری ہفتے میں پاکستان آئی تھی۔ لاہور میں انکی شکایت پر ڈیفنس تھانے میں تین افراد کے خلاف اجتماعی زیادتی کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ خاتون نے الزام عائد کیا تھا کہ دو خواتین انہیں ایک کیفے میں لے گئیں، جہاں تین مرد بھی موجود تھے۔ بعدازاں انہیں ڈیفنس کے ایک فلیٹ میں لے جایا گیا، جہاں انہیں نشہ آور مشروب پلانے کے بعد ان کے ساتھ زیادتی کی گئی۔ خاتون کے مطابق ملزمان ان کا موبائل فون اور دیگر سامان ساتھ لے گئے جبکہ انہیں ایک سنسان مقام پر چھوڑ گئے۔

 

مقدمے کی تفتیش کے دوران خاتون کا بیان مجسٹریٹ کے روبرو ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیا گیا، جس میں انہوں نے تین افراد پر زیادتی کا الزام عائد کیا تھا۔ پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزمان کے خلاف کارروائی شروع کی اور خاتون کے طبی معائنے سمیت دیگر شواہد کو تحقیقات کا حصہ بنایا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ خاتون کا پہلے سے ریکارڈ شدہ عدالتی بیان اور دیگر شواہد مقدمے میں اہمیت رکھتے ہیں اور تفتیش قانون کے مطابق مکمل کی جائے گی۔

 

تاہم اپنے تازہ ویڈیو بیان میں ڈیانا نے احمد تنویر کو بے قصور قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے نہ ان کے ساتھ زیادتی کی اور نہ ہی ان کا موبائل فون چھینا، بلکہ ان کا سامان واپس کردیا تھا۔ خاتون نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے پہلے دباؤ میں آکر الزامات عائد کیے تھے اور اب مقدمہ آگے نہیں بڑھانا چاہتیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ عدالت میں پیش ہوکر اپنا مؤقف بیان کرنا چاہتی تھیں، لیکن انہیں جان کو خطرہ ہونے کے بارے میں بتایا گیا اور پاکستان سے روانہ کردیا گیا۔

سہیل وڑائچ نے PTI کو تنہا اور اکیلا کیوں قرار دے دیا؟

خاتون کے نئے بیان کے باوجود پولیس نے مقدمے کی تفتیش جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ اسی دوران احمد تنویر کی عبوری ضمانت میں 27 اکتوبر تک توسیع کیے جانے کے بعد پولیس نے 23 اکتوبر کو انہیں عدالت کے احاطے سے حراست میں لے لیا۔ ملزم کے وکیل نے اس کارروائی پر اعتراض کرتے ہوئے خاتون کے تازہ بیان کا حوالہ دیا، جس میں انہوں نے احمد تنویر کو بے قصور قرار دیا ہے۔ تاہم قانونی طور پر خاتون کے بعد کے بیان سے پہلے ریکارڈ شدہ عدالتی بیان اور دیگر شواہد کی اہمیت خودبخود ختم نہیں ہوجاتی۔

 

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اس معاملے پر کہا ہے کہ ملزم کے امیر خاندان نے متاثرہ خاتون کو الزامات واپس لینے کے لیے ڈیڑھ سے دو کروڑ روپے کی پیشکش کی۔ انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ ملزم کی ضمانت منظور کرنے والے جج کو رشوت دی گئی۔ مریم نواز نے اس معاملے کو نظام انصاف کی شفافیت کے لیے سنگین قرار دیتے ہوئے کہا کہ دولت اور اثرورسوخ کے ذریعے انصاف کا راستہ روکنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ تاہم مالی پیشکش اور جج کو رشوت دینے کے الزامات کی آزادانہ تصدیق یا عدالتی طور پر ثابت ہونے کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔

اس کیس میں ڈیانا کی پاکستان سے آزربائیجان روانگی بھی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ ڈیانا 4 اکتوبر کو پولیس اہلکاروں کی نگرانی میں آذربائیجان روانہ ہوگئی تھیں۔ بعدازاں ان کے پہلے عدالتی بیان اور تازہ ویڈیو بیان میں تضاد سامنے آیا، جس کے بعد یہ سوالات اٹھے کہ آیا ان پر کسی جانب سے دباؤ ڈالا گیا ہے؟

مریم نواز کی جانب سے پنجاب حکومت کے مقدمے کی پیروی کے اعلان کے بعد اب اس کیس میں خاتون کے متضاد بیانات، مالی دباؤ اور جج کو رشوت دینے کے الزام کی غیر جانب دارانہ تحقیقات بنیادی اہمیت اختیار کرگئی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس وقت ضروری ہے کہ خاتون کے ابتدائی عدالتی بیان، تازہ ویڈیو بیان، طبی و فرانزک شواہد اور ملزمان کے مؤقف کا قانونی جائزہ لیا جائے اور کسی بھی فریق کے الزام کو تحقیقات کے بغیر حتمی حقیقت تسلیم نہ کیا جائے۔ انکا کہنا تھا کہ مقدمے کا فیصلہ شواہد کی بنیاد پر عدالت ہی کرے گی۔

Back to top button