لاہور جم خانہ کی مالیت 200 ارب لیکن سالانہ کرایہ 5 ہزار

 

 

 

پنجاب کی ٹاپ بیوروکریسی کی عیاشیوں کے لیے 218 ارب روپے مالیت کی اراضی پر قائم لاہور جم خانہ کلب کا کرایہ صرف 4 ہزار روپے سالانہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

 

یاد رہے کہ 17 ایکڑ قیمتی سرکاری اراضی پر قائم لاہور جمخانہ کی محتاط ترین مالیت 218 ارب روپے بتائی جاتی ہے، لیکن  جمخانہ کلب کی انتظامیہ کی جانب سے پنجاب حکومت کو سالانہ صرف 5 ہزار روپے کرایہ ادا کیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اربوں کی زمین اتنے معمولی کرایے پر کیوں دی گئی؟ اور اس غیر معمولی رعایت پر برسوں تک کسی نے مؤثر کارروائی کیوں نہیں کی؟

 

یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ کلب کے انتظامی ڈھانچے میں اعلیٰ سرکاری افسران نمایاں ہیں، جبکہ یہی بیوروکریسی صوبے کے اہم فیصلوں میں کردار ادا کرتی ہے۔ اب پنجاب اسمبلی کی خصوصی کمیٹی نے معاملے کا ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔

 

دراصل مئی 2024 میں پنجاب اسمبلی میں تحریک التوا پیش ہونے کے بعد یہ معاملہ سامنے آیا کہ لاہور جم خانہ محض 417 روپے ماہانہ کرایہ ادا کرتا ہے۔ سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان کی ہدایت پر تحقیقات کے لیے خصوصی کمیٹی نمبر 6 قائم ہوئی، جبکہ حکومت اور اپوزیشن کے ارکان نے بھی کرایے پر نظرثانی اور واجبات کی وصولی کا مطالبہ کیا۔

 

20 اور 21 اکتوبر 2026 کو رکن اسمبلی سمیع اللہ خان کی زیر صدارت اجلاسوں میں سوال اٹھایا گیا کہ بورڈ آف ریونیو نے اتنی قیمتی اراضی کا سالانہ کرایہ صرف 5 ہزار روپے کس بنیاد پر مقرر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ شرح سے فی ایکڑ سالانہ کرایہ تقریباً 44 روپے بنتا ہے۔ کمیٹی نے کرایے کی نئی شرح مقرر کرنے اور لیز کی شرائط کا ازسرنو جائزہ لینے پر غور کیا۔ جم خانہ کلب کے چیئرمین سلمان صدیق نے بھی تسلیم کیا کہ موجودہ کرایہ ناکافی ہے۔ ان کے مطابق کلب نے رواں سال 19 کروڑ روپے ٹیکس ادا کیا اور کرایہ بڑھانے کا فیصلہ ہوا تو کلب اضافی رقم دینے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کلب کو کم از کم ایک کروڑ روپے سالانہ کرایہ ادا کرنا چاہیے۔

 

اس حوالے سے کمیٹی ارکان نے سوال اٹھایا کہ ایک طرف چھوٹے دکانداروں سے سرکاری زمین واگزار کرائی جاتی ہے، تو دوسری جانب اربوں روپے مالیت کی اراضی ایک بڑے کلب کو معمولی کرایے پر کیوں حاصل ہے؟ بورڈ آف ریونیو، لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی، ایف بی آر اور دیگر متعلقہ اداروں سے ریکارڈ طلب کر لیا گیا ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ سال 2023 کی نئی جم خانہ پالیسی کے تحت دیگر کلبوں سے مارکیٹ ریٹ کے 10 فیصد کے برابر کرایہ وصول کیا جاتا ہے، لیکن لاہور جم خانہ کو پرانی لیز کی بنیاد پر استثنا حاصل ہے۔ لیکن کمیٹی اس رعایت کی قانونی حیثیت کا جائزہ لے رہی ہے۔

 

ادھر باغ جناح میں 6 ایکڑ کے کرکٹ گراؤنڈ پر سالانہ 900 روپے کرایے پر طویل مدتی لیز بھی سوالات کی زد میں ہے۔تحقیقات میں کلب کی رکنیت، عوامی سہولیات کی فراہمی، ٹیکس، آڈٹ، تعمیرات اور سرکاری گرانٹس کا معاملہ بھی شامل ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کی سربراہی میں قائم حقائق معلوم کرنے والی کمیٹی کو 10 دن میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ارکان نے اس اراضی کو عوامی پارک یا فلاحی منصوبوں کے لیے استعمال کرنے کی تجاویز بھی دی ہیں۔

سہیل آفریدی نیب کے ریڈار پر آگئے

اب اصل سوال یہ ہے کہ اربوں روپے مالیت کی سرکاری زمین کا کرایہ دہائیوں تک چند ہزار روپے سالانہ کیوں رہا؟ اس رعایت کی منظوری کس نے دی، نگرانی کے ذمہ دار ادارے خاموش کیوں رہے اور سرکاری خزانے کو کتنا نقصان پہنچا؟ ان سوالات کے جواب تحقیقات اور ریکارڈ کی جانچ کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔

Back to top button