سہیل وڑائچ نے PTI کو تنہا اور اکیلا کیوں قرار دے دیا؟

 

 

 

معروف تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ ناکام لانگ مارچ اور خیبر پختون خوا حکومت کے خاتمے کے بعد عمران خان کی پارٹی سیاسی طور پر تنہا اور اکیلی ہو گئی ہے، ان کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی سٹریٹ پاور تو کہیں نظر نہیں آتی لیکن اس کی عوامی مقبولیت اب بھی برقرار ہے۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی بھی تحریک انصاف کی کمزوری سے سیاسی فائدہ اٹھانے میں ناکام رہی ہیں، کیونکہ حکومت نہ کوئی مؤثر سیاسی بیانیہ دے پائی ہے اور نہ ہی معاشی محاذ پر عوام کو مطمئن کر پائی ہے۔

 

اپنے تازہ وی لاگ میں سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ تحریک انصاف پہلے خیبر پختونخوا حکومت کے ذریعے سیاسی نظام میں موجود تھی اور وفاقی حکومت اور فوج سے رابطے بھی رکھتی تھی، لیکن لانگ مارچ کی ناکامی اور بعد کی پیش رفت نے اسے سیاسی محاذ پر مزید تنہا کر دیا ہے۔ ان کے مطابق پارٹی کی تنظیمی کمزوری، اندرونی اختلافات اور کارکنوں کے درمیان رابطوں کے فقدان نے اس کی احتجاجی قوت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے ایک برس کے دوران عمران خان کی رہائی کے لیے لانگ مارچ کی جتنی بھی کالز دی گئیں وہ ناکام ثابت ہوئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ناکام لانگ مارچ کے نتیجے میں خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت ختم ہونے کے بعد بھی کوئی بڑی عوامی تحریک سامنے نہیں آئی۔

 

تاہم، سہیل وڑائچ کے مطابق تحریک انصاف کی سڑکوں پر کمزور ہوتی قوت کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی عوامی مقبولیت بھی ختم ہو گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی کمزوری کے باوجود مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط نہیں کر سکیں۔ شہباز شریف حکومت کی جانب سے مؤثر سیاسی مہم، متبادل بیانیے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے اقدامات کی کمی نے اسے سیاسی فائدہ اٹھانے سے محروم رکھا ہے۔ ان کے مطابق محض انتظامی اقدامات کے ذریعے مخالفین کو محدود کرنا کافی نہیں، بلکہ حکومت کو اپنی کارکردگی بھی ثابت کرنا ہو گی۔

 

انہوں نے خبردار کیا کہ عوام میں پائی جانے والی خاموش ناراضی مستقبل میں الیکشن کی سیاست پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ سینیئر صحافی کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں احتجاج کمزور ہونے کے باوجود عمران کی حمایت برقرار ہے، جو آئندہ انتخابات میں حکمران جماعتوں کے لیے چیلنج بن سکتی ہے۔

 

سہیل وڑائچ کے مطابق بلدیاتی انتخابات اور سیاسی سرگرمیوں کی بحالی کے حوالے سے بھی واضح پیش رفت دکھائی نہیں دے رہی۔

انہوں نے کہا کہ ایک مضبوط جمہوری نظام کے لیے ضروری ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں منظم اور عوامی حمایت کی حامل ہوں۔ کسی سیاسی مخالف کو مکمل طور پر غیر مؤثر کرنے سے بالآخر حکمران جماعت بھی کمزور ہوتی ہے، کیونکہ مؤثر سیاسی مقابلے اور جواب دہی کے بغیر نظام مضبوط نہیں ہو سکتا۔

 

سہیل وڑائچ کے مطابق تحریک انصاف کے پاس پارلیمان اور جمہوری جدوجہد کے ذریعے حکومت کو مؤثر چیلنج دینے کا موقع تھا، لیکن وہ اسے پوری طرح استعمال نہیں کر سکی۔ ان کا کہنا ہے کہ توشہ خانہ کرپشن کیس میں لمبی قید کی سزا بھگتنے والے عمران خان کو اپنے ماضی کی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے جمہوری حقوق، آزادیٔ اظہار اور آئینی جدوجہد کو اپنی سیاست کا بنیادی حصہ بنانا چاہیے تھا۔

کیا پی ٹی آئی کے اندر مائنس عمران خان ممکن ہے؟

انہوں نے موجودہ بحران کی وجہ حکومت اور اپوزیشن دونوں کی سیاسی کمزوری کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی مقبولیت اور حکمران جماعتوں کی عوامی قبولیت میں واضح تضاد موجود ہے۔ حکومت مہنگائی میں ریلیف اور معاشی بہتری کے حوالے سے بھی نمایاں نتائج نہیں دے سکی۔ ان کے مطابق جب تک سیاسی جماعتیں عوام سے رابطہ، مؤثر سیاسی سرگرمیاں اور معاشی بہتری یقینی نہیں بناتیں، ملک میں سیاسی استحکام اور مضبوط جمہوری نظام کی امید مشکل رہے گی۔

Back to top button