عمران خان کی جماعت ہائی جیک کرنے والے کون لوگ ہیں؟

خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت معطل ہونے کے بعد بظاہر ایسا نظر آتا ہے کہ عمران خان کی پارٹی کو ہائی جیک کر لیا گیا ہے اور فیصلہ سازی سے انہیں اور ان کے خاندان کے افراد کو مکمل طور پر مائنس کر دیا گیا ہے۔ اس تاثر کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ماضی میں اسٹیبلشمنٹ سے رابطوں کے الزام پر وزارت اعلی سے فارغ کیے جانے والے علی مین گنڈاپور کو پارٹی کی دوسرے درجے کی قیادت نے اسٹیبلشمنٹ سے رابطوں کی ذمہ داری سونپ دی ہے تاکہ دونوں فریقین کے مابین معاملات کو بہتر کیا جا سکے۔

تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کے اختیارات کی نئی تقسیم نے پارٹی کے اندر قیادت اور فیصلہ سازی کے اختیار پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ محمود خان اچکزئی اور علامہ راجا ناصر عباس کو مذاکراتی ذمہ داریاں سونپنے کے بعد علی امین گنڈاپور کو بھی یہی اختیار دینے سے یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا تحریک انصاف کی جیل سے باہر موجود دوسرے درجے کی قیادت نے اپنے بانی کو ہی عمران خان کو فیصلہ سازی کے عمل سے مائنس کر دیا ہے؟

یاد رہے کہ تحریک انصاف کی قیادت مختلف مواقع پر یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بنانے اور علامہ راجا ناصر عباس کو اہم سیاسی و پارلیمانی ذمہ داریاں دینے کے فیصلے عمران خان کی ہدایت پر کیے گئے تھے۔ مذاکرات کے معاملے میں بھی ان دونوں رہنماؤں کو اختیار دینے کے لیے بانی چیئرمین کی منظوری کا حوالہ دیا جاتا رہا ہے، تاہم اب مذاکراتی ذمہ داریوں کی نئی تقسیم نے پارٹی کے اندر اختیارات کی اصل صورت حال کو بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔ پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے 20 اکتوبر 2026 کو کہا تھا کہ عمران خان کو محمود خان اچکزئی پر مکمل اعتماد ہے اور پارٹی ان کے فیصلے کے مطابق آگے بڑھے گی۔ انہوں نے اچکزئی کو عہدے سے ہٹانے کے امکان کو بھی مسترد کیا تھا، لیکن اب پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں علی امین گنڈاپور کو وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کا اختیار دینے کی اطلاع نے یہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ کیا محمود خان اچکزئی اور علامہ راجا ناصر عباس کا کردار محدود کیا جا رہا ہے یا گنڈاپور کو اضافی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

علی امین گنڈاپور کو مذاکراتی اختیار دینے کے حق میں یہ دلیل سامنے آئی ہے کہ ان کے محسن نقوی اور مقتدر حلقوں کے ساتھ اچھے رابطے ہیں، جنہیں سیاسی مذاکرات کے ذریعہ عمران خان کے لیے ریلیف لینے کی خاطر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ خیبر پختونخوا اور وفاقی حکومت کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں ان رابطوں کو اہم قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ایک ہی جماعت میں متعدد رہنماؤں کو مذاکرات کے اختیارات ملنے سے یہ سوال بھی اہم ہو گیا ہے کہ مذاکرات کی حتمی حکمت عملی کون طے کرے گا اور مختلف رہنماؤں کے درمیان اختلاف کی صورت میں کس کا فیصلہ تسلیم کیا جائے گا۔

تحریک انصاف ہی قیادت مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ پارٹی کے بڑے سیاسی فیصلے عمران خان کی ہدایات کے مطابق کیے جاتے ہیں اور ان کی منظوری بنیادی حیثیت رکھتی ہے، لیکن بانی چیئرمین کی طویل عرصے سے قیادت کے دیگر ارکان سے براہ راست ملاقاتیں نہ ہونے کے باعث پارٹی کے اندر فیصلہ سازی کا طریقۂ کار تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ دوسرا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ عمران خان کی تینوں بہنیں بھی اس وقت زیر حراست ہیں لہذا نہ تو فیصلہ سازی میں عمران شامل ہے اور نہ ہی ان کے خاندان کا کوئی فرد شامل ہے۔

ایسے میں کچھ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اگر مذاکراتی اختیارات کی نئی تقسیم عمران خان کی منظوری سے ہوئی ہے تو پارٹی کو اس کی وضاحت کرنی چاہیے، لیکن اگر یہ فیصلہ موجودہ قیادت نے خود کیا ہے تو پھر یہ واضح کرنا بھی ضروری ہے کہ بانی چیئرمین کی ہدایات پر عمل درآمد کی ذمہ داری کس کے پاس ہے۔ پی ٹی آئی رہنما مشال یوسفزئی نے بھی کہا ہے کہ عمران خان سے ملاقات نہ ہونے کے باعث احتجاج اور دیگر معاملات سے متعلق فیصلے بیرسٹر گوہر علی خان، سلمان اکرم راجا، اسد قیصر، سہیل آفریدی، شفیع جان اور دوسرے رہنما کرتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق اب یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ مستقبل میں پارٹی کے فیصلے پارلیمانی پارٹی میں ووٹنگ کے ذریعے کیے جائیں گے۔

اگر اس طریقۂ کار پر عمل درآمد ہوتا ہے تو یہ تحریک انصاف کی فیصلہ سازی میں ایک بڑی تبدیلی ہوگی، کیونکہ اس صورت میں انفرادی ہدایات کے بجائے پارلیمانی اکثریت کی بنیاد پر فیصلے کرنے کا راستہ اختیار کیا جائے گا۔ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کی معطلی کے بعد پارٹی کے اندر قیادت، مذاکرات اور سیاسی حکمت عملی سے متعلق اختلافات نے اس بحث کو مزید تقویت دی ہے کہ آیا عمران خان کے قریبی ساتھی اب ان کی براہ راست ہدایات کے بجائے اجتماعی فیصلوں کے ذریعے پارٹی چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس صورت حال میں عمران خان کے خاندان کے افراد کا فیصلہ سازی میں کردار بھی اہم سوال بن کر سامنے آیا ہے، کیونکہ پارٹی کے موجودہ سیاسی فیصلوں میں ان کی شمولیت یا عدم شمولیت کے بارے میں واضح صورت حال سامنے نہیں آئی۔

تحریک انصاف کی موجودہ صورت حال میں بنیادی سوال یہی ہے کہ کیا مذاکراتی اختیارات کی نئی تقسیم عمران خان کی ہدایات کا تسلسل ہے یا پارٹی کی قیادت نے ان کی عدم موجودگی میں فیصلہ سازی کا نیا نظام قائم کر لیا ہے۔

Back to top button