علی وزیر کو قومی اسمبلی میں آنے سے کون روک رہا ہے؟

مخلوط حکومت کی دونوں بڑی اتحادی جماعتیں نواز لیگ اور پیپلزپارٹی، پشتون تحفظ موومنٹ کے رکن قومی اسمبلی اور حکومتی اتحادی علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر جاری کروانے میں مسلسل ناکام ہیں جس کی بنیادی وجہ اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت بتائی جا رہی ہے۔

شہباز شریف حکومت نے اب تک کون سی بڑی غلطیاں کی ہیں؟

پشتوں تحفظ موومنٹ کے رہنما علی وزیر کو سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف پیش کی جانے والی تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے موقع پر قومی اسمبلی کے اجلاس میں خصوصی شرکت کے لیے سپیکر کے پروڈکشن آرڈرز پر جیل سے بلا لیا گیا تھا۔ تاہم قومی اسمبلی کے حالیہ بجٹ اجلاس میں ان کی شرکت کو یقینی بنانے کے لیے تاحال پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کیے جا سکے ،خالانکہ سپیکر کا عہدہ پیپلزپارٹی کے راجہ پرویز اشرف کے پاس ہے۔ یاد رہے کہ جیل میں موجود کسی بھی پارلیمان کے ممبر کی اسمبلی اجلاس میں شرکت یقینی بنانے کے لیے سپیکر آفس سے پروڈکشن آرڈرز جاری کیے جاتے ہیں۔ ماضی قریب میں پشتون تحفظ موومنٹ کی حمایت میں بڑھ چڑھ کر بیانات دینے والی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما راجہ پرویز اشرف آج کل قومی اسمبلی میں سپیکر کے عہدے کی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ علی وزیر کراچی جیل میں قید ہیں اور اُن پر سکیورٹی اداروں پر تنقید اور اشتعال انگیز تقاریر کر کے عوام کو اُکسانے کا الزام عائد ہے۔

پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے مطالبہ کیا ہے کہ علی وزیر کے بجٹ اجلاس میں شرکت کے لیے پروڈکشن آرڈر جاری کیے جائیں، لیکن دوسری جانب پیپلز پارٹی کے سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف اس حوالے سے خاموشی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے ان پر دباؤ ہے کہ علی وزیر کو اسمبلی اجلاس میں نہ بلایا جائے چونکہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پاس ہونے کے بعد ایوان سے خطاب میں انہوں نے پھر سے اسٹیبلشمنٹ کا رگڑا نکال دیا تھا۔ رضا ربانی نے علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے اسمبلی یا سینیٹ کے اجلاس میں شرکت کرنا ہر رکن کا بنیادی اور آئینی حق ہے اور کسی رکن کو اس سے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔

پیپلز پارٹی سمیت پی ڈی ایم میں شامل بیشتر جماعتوں کے رہنما اپوزیشن میں ہوتے ہوئے ایوان میں اور ایوان سے باہر بھی علی وزیر کی قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں شرکت کے حق میں تقاریر کرتے رہے ہیں ماضی میں تحریک انصاف کی حکومت سے فلور آف دی ہاؤس یہ مطالبات بھی کرتے ہیں کہ علی وزیر کی موجودگی کو اسمبلی میں یقینی بنایا جائے۔

ان قائدین میں پیپلز پارٹی کے رہنما اور وفاقی وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نمایاں رہے ہیں۔ اس بارے میں پیپلز پارٹی کے رہنما اور وزیر اعظم شہباز شریف کے مشیر قمر زمان کائرہ سے رابطہ کیا گیا تو اُن کا کہنا تھا کہ علی وزیر سمیت تمام اراکین اسمبلی کا حق ہے کہ وہ اس اہم اجلاس میں شریک ہوں تاکہ وہ اپنے اپنے علاقوں کی نمائندگی کر سکیں۔ جب ان سے جب پوچھا گیا کہ بلاول بھٹو زرداری علی وزیر کے حق میں ماضی میں بڑی بڑی تقریریں کر چکے ہیں لیکن اب وہ خاموش ہیں تو ان کا یہی کہنا تھا کہ وہ سپیکر راجہ پرویز اشرف سے اس بارے میں بات کریں گے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی فیصل کریم کنڈی نے اس معاملے پر کہا کہ یہ ہر رہنما کا جمہوری حق ہے کہ وہ اسمبلی اجلاس میں شریک ہو اور اپنے حلقے کی نمائندگی کرے اور اس بارے میں وہ سپیکر سے بات کریں گے۔ یاد رہے کہ علی وزیر اور محسن داوڑ دونوں اراکین اسمبلی کا تعلق جنوبی اور شمالی وزیرستان سے ہے اور دونوں رہنما پشتون تحفظ موومنٹ کے سرگرم رکن رہے ہیں۔محسن داوڑ نے تحریک انصاف کے دور میں علی وزیر کو ایوان میں پیش کرنے اور ان کی گرفتاری کے خلاف ہمیشہ آواز اٹھائی ہے۔ محسن داوڑ نے بتایا کہ ’یہ ایک المیہ ہے اور اس سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان میں پارلیمان اور عدلیہ کتنی بااختیار ہے۔‘ اُن کا کہنا تھا کہ انھوں نے بجٹ اجلاس شروع ہونے سے پہلے سپیکر کو درخواست دی تھی کہ علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس درخواست کی ضرورت نہیں تھی بلکہ سپیکر کا اپنا صوابدیدی اختیار ہوتا ہے لیکن سابق سپیکر اسد قیصر نے اس بارے میں درخواست جمع کرانے کا کہا تھا جس وجہ سے انھوں نے درخواست جمع کروا دی تھی۔

محسن داوڑ نے بتایا کہ ’سپیکر راجہ پرویز اشرف نے اب تک نہ تو انکار کیا ہے اور نہ ہی اب تک انھوں نے علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں ان کی کوششیں جاری رہیں گی اور وہ آواز ضرور اٹھائیں گے۔

جب ان سے پوچھا کہ تحریک انصاف کے دور میں جب سپیکر اسد قیصر نے علی وزیر کے پروڈکشن آرڈ جاری نہیں کیے تھے تو تب بلاول بھٹو نے بھی آواز اٹھائی تھی لیکن اب وہ خاموش ہیں تو محسن داوڑ نے کہا کہ اس کا بہتر جواب تو وہ خود دے سکتے ہیں اور اگر انھیں کوئی مجبوری ہے تو اس مجبوری کا بھی وہی بتا سکیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں سخت مخالف اراکین کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے جاتے رہے ہیں اور علی وزیر تو مخلوظ حکومت کا حصہ ہیں ان کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ ہونا بہت بڑا المیہ ہے۔

یاد رہے کہ علی وزیر کی پی ٹی ایم پارلیمانی سیاست کے حق میں نہیں ہے لیکن اس تحریک سے جڑے لوگ قومی اور صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں حصہ ضرور لیتے ہیں اور ان میں کچھ کو کامیابی بھی حاصل ہوئی ہے۔

تحریک میں شامل بیشتر رہنما علی وزیر کی گرفتاری کو ’ظلم اور غیرقانونی‘ قرار دیتے ہیں اور اُن کا کہنا ہے کہ علی وزیر نے اپنے علاقے اپنی قوم اور مظلوم اقوام کے حق کی بات کی تھی اور علاقے میں بد امنی پر آواز اٹھائی جو کہ اُن کا حق تھا۔ خیبر پختونخوا اسمبلی میں رکن صوبائی اسمبلی میر کلام وزیر نے بتایا کہ موجودہ حکومت میں شامل جماعتیں ماضی میں تحریک انصاف کو غیر جمہوری جماعت اور ایسی جماعت قرار دیتے تھےجو جمہوری اقدار کو پامال کر رہی تھی لیکن اب وہی جماعتیں برسر اقتدار ہیں اور وہ علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے پر خاموش ہیں۔ میر کلام وزیر نے کہا کہ جب عدم اعتماد کے ووٹ کے لیے علی وزیر کی ضرورت تھی تو ان کے پروڈکشن آرڈر جاری کر دیے گئے تھے اور علی وزیر نے وزیر اعظم شہباز شریف کو ووٹ اس لیے دیا تھا کہ ان کی رہائی عمل میں لائی جائے گی لیکن رہائی تو دور کی بات ان کو اجلاس میں شرکت کے لیے بھی اجازت نہیں دی جا رہی جو کہ علی وزیر کا آئینی اور قانونی حق ہے۔

یاد رہے کہ علی وزیر کو دسمبر 2020 میں پشاور سے گرفتار کیا گیا تھا۔ اُن کے خلاف کراچی کے تھانہ سہراب گوٹھ میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ ان پر پی ٹی ایم کی ایک ریلی کے دوران ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیز اور تضحیک آمیز تقریر کرنے جیسے الزامات عائد ہیں جس پر انھیں گرفتار کیا گیا تھا۔

نومبر 2021 میں سپریم کورٹ نے ان کی درخواست ضمانت منظور کر لی تھی لیکن ان کے خلاف شاہ لطیف تھانے میں بھی ایک ایف آئی درج تھی جس کی بنیاد پر انھیں رہائی نہیں مل سکی تھی۔ شاہ لطیف تھانے میں درج ایف آئی آر کے لیے اُن کی ضمانت کی درخواست چند روز پہلے مسترد کی گئی ہے۔یعنی علی وزیر کی ایک مقدمے میں ضمانت منظور ہوتی ہے تو دوسری ایف آئی آر درج کر کے گرفتاری کر لی جاتی ہے۔ لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ راجہ پرویز اشرف علی وزیر کی اسمبلی اجلاس میں شرکت کے لیے پروڈکشن آرڈر جاری کرتے ہیں یا نہیں؟

Back to top button