کیا اس برس بسنت کا تہوار خیریت سے انجام پائے گا یا۔۔

پنجاب حکومت نے ایک مرتبہ پھر لاہور میں بسنت منانے کا اعلان کر دیا ہے، تاہم دیکھنا یہ ہے کہ اس برس یہ تہوار خیر خیریت سے ہو جاتا ہے یا نہیں کیونکہ گزشتہ برس بسنت کی بھرپور تیاریاں آخری لمحات میں ایک دہشت گرد حملے کی نذر ہو گئی تھیں اور اس رنگا رنگ تہوار کی تمام سرکاری تقریبات منسوخ کر دی گئی تھیں۔ اب حکومت نے 12، 13 اور 14 مارچ 2027 کو تین روزہ بسنت منانے کی تاریخیں مقرر کر دی ہیں، جس کے بعد لاہور میں ایک بار پھر پتنگ بازی کے اس روایتی تہوار کی تیاریاں زور پکڑنے لگی ہیں۔
یاد ریے کہ بسنت پر تقریباً 18 سال پابندی کے بعد اس تہوار کی بحالی کے دوسرے مرحلے میں اب سب کی نظریں اس بات پر لگی ہیں کہ آیا اس مرتبہ بسنت کی رونقیں بلا تعطل جاری رہیں گی یا پھر کوئی ناخوشگوار واقعہ ان خوشیوں کو ماند کر دے گا۔ سیکرٹری داخلہ پنجاب احمد جاوید قاضی کی زیر صدارت بسنت کے انتظامات سے متعلق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ لاہور میں 12، 13 اور 14 مارچ 2027 کو محفوظ بسنت منائی جائے گی۔ اجلاس میں تہوار کے دوران شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے حفاظتی انتظامات بروقت مکمل کرنے اور پتنگ بازی کے لیے محفوظ مقامات کی نشاندہی پر زور دیا گیا۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ بسنت کے انعقاد کے لیے مقررہ حفاظتی ضابطوں پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔
حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ شہر میں کسی غیر محفوظ چھت پر پتنگ بازی کی اجازت نہیں ہوگی اور متعلقہ عمارتوں کی چھتوں پر 31 دسمبر 2026 سے پہلے کم از کم ساڑھے تین فٹ اونچی حفاظتی دیوار تعمیر کرنا لازمی ہوگا۔ جن چھتوں پر پتنگ بازی کی اجازت دی جائے گی، ان کی ضروری مرمت بھی مقررہ مدت کے اندر مکمل کرنا ہوگی۔ ان اقدامات کا مقصد بسنت کے دوران چھتوں سے گرنے اور دیگر ممکنہ حادثات کی روک تھام ہے۔ سیکرٹری داخلہ نے ڈپٹی کمشنر لاہور کو ہدایت کی ہے کہ پرانی عمارتوں اور گھروں کی چھتوں کا مکمل معائنہ کروایا جائے اور ان کی مضبوطی کا جائزہ لیا جائے۔ جن عمارتوں کی حالت غیر تسلی بخش ہو، وہاں پتنگ بازی پر پابندی عائد کی جائے۔ پتنگ بازی کے لیے استعمال ہونے والی چھت کی مضبوطی اور حفاظت کی ذمہ داری مالک مکان پر ہوگی، جبکہ متعلقہ حکام اس حوالے سے ضابطوں پر عمل درآمد یقینی بنائیں گے۔
اجلاس میں بجلی کی تاروں سے لاحق خطرات پر بھی توجہ دی گئی۔ سیکرٹری داخلہ کے مطابق اگر بجلی کی تاریں کسی عمارت کی چھت کے قریب ہوں تو مالک عمارت انہیں محفوظ بنانے کے پابند ہوں گے۔ اس کے علاوہ ڈپٹی کمشنر مقررہ حدود اور ضابطوں کے مطابق پتنگوں اور ڈور کی تیاری، ترسیل اور فروخت کی نگرانی کریں گے تاکہ غیر محفوظ سامان کے استعمال کو روکا جا سکے۔ بسنت کے دوران حفاظتی اقدامات کی کامیابی کا انحصار ان ہدایات پر مؤثر عمل درآمد پر ہوگا۔
لاہور میں بسنت پر پابندی 2007 میں عائد کی گئی تھی، جس کے بعد تقریباً 18 برس تک شہر اس تہوار کی روایتی رونقوں سے محروم رہا۔ فروری 2026 میں طویل عرصے بعد بسنت کی واپسی ہوئی تو شہریوں نے پتنگ بازی، چھتوں پر میل جول اور تہوار سے وابستہ سرگرمیوں میں بھرپور دلچسپی لی۔
خیال ریے کہ گزشتہ برس بسنت کی بحالی کے لیے وسیع پیمانے پر تیاریاں کی گئی تھیں، تاہم اسلام آباد میں خودکش حملے کے بعد اس تہوار سے متعلق سرکاری تقریبات منسوخ کر دی گئی تھیں۔ اس پس منظر میں مارچ 2027 کی نئی تاریخوں کا اعلان بسنت کے تسلسل کے حوالے سے اہم پیش رفت ہے۔
بسنت کی واپسی کے بعد لاہور میں اس تہوار سے وابستہ کاروبار اور سرگرمیوں میں بھی دلچسپی بڑھنے کی توقع ہے۔ پتنگوں اور ڈور کی تیاری، فروخت اور ترسیل سے وابستہ کاروباری افراد کے لیے بھی حکومت کی جانب سے تاریخوں کا اعلان اہمیت رکھتا ہے، جبکہ شہریوں کی نظریں اس بات پر لگی ہیں کہ آئندہ بسنت کے لیے کن سرگرمیوں کی اجازت دی جائے گی اور سرکاری سطح پر کیا انتظامات کیے جائیں گے۔ شہریوں کو امید ہے کہ اس مرتبہ حکومت پنجاب بھی بسنت کے لیے خصوصی تقریبات کا اہتمام کرے گی اور تہوار کو زیادہ منظم انداز میں منانے کے انتظامات کیے جائیں گے۔
حکومت پنجاب کے لیے بسنت کی رونقیں بحال رکھنے کے ساتھ شہریوں کی حفاظت یقینی بنانا بنیادی چیلنج ہوگا۔ چھتوں کی مضبوطی، حفاظتی دیواروں کی تعمیر، بجلی کی تاروں سے بچاؤ اور پتنگ و ڈور کی تیاری و فروخت کی نگرانی جیسے اقدامات اسی مقصد کے تحت کیے جا رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ 12 سے 14 مارچ 2027 تک لاہور میں بسنت کا تہوار خوش اسلوبی سے منانے کے لیے کیے گئے انتظامات کس حد تک مؤثر ثابت ہوتے ہیں اور آیا شہری طویل انتظار کے بعد اس تہوار کی رونقوں سے بلاخوف لطف اندوز ہو سکیں گے۔
