معروف ادیبہ عصمت چغتائی کوکیوں جلایاگیا؟

ہندوستان کے مسلم گھرانے میں پید اہونے والی بے باک ادیبہ عصمت چغتائی کو بعد از مرگ دفن کرنے کی بجائے نذر آتش کیا گیا جس پر آج بھی تنقید کی جاتی ہے، تاہم عصمت کے رفقا کا کہنا ہے کہ ایسا انکی وصیت کے مطابق کیا گیا کیوں کہ انہیں قبر کی تاریکی سے بے انتہا خوف آتا تھا۔ عصمت کے ہم عصر کہتے ہیں کہ مذہب کے بارے میں عصمت کے خیالات انتہائی گنجلک تھے، انہیں دوبارہ پیدا ہونے کے نظریے یعنی آواگون پر بھی پورا یقین تھا۔
24 اکتوبر 1991 کو اس خبر نے پوری اُردو دنیا کو اداس کر دیا تھا کہ اُردو کی بے باک اور صاحب طرز ادیبہ عصمت چغتائی ممبئی میں وفات پا گئی ہیں۔ اس خبر کے ساتھ ہی ایک اور اطلاع بھی آئی جس نے عصمت چغتائی سے محبت کرنے والوں کو مزید دکھ میں مبتلا کیا اور وہ یہ کہ ان کی میت کو اُن کی وصیت کے مطابق سپرد خاک کرنے کی بجائے نذرِآتش کر دیا گیا ہے۔ اس بارے جگدیش چندر ودھاون نے لکھا ہے کہ ‘عصمت چغتائی موت کے بعد بھی ایک ہنگامے کا موجب بن گئیں اور ایک شدید قسم کی بحث چھڑ گئی۔ یہ ایک جذباتی قسم کی بحث تھی جس کی شدت و حدت آج بھی محسوس ہوتی ہے۔ عصمت چغتائی کی موت کے دو ماہ بعد جنوری 1992 میں دہلی سے شائع ہونے والے مشہور ادبی جریدے ‘بیسویں صدی‘ نے عصمت چغتائی کی یاد میں ایک خصوصی گوشہ شائع کیا جس میں ان کی وفات پر اردو کے صف اول کے ادیبوں کے تاثرات شامل کیے گئے۔ ان تمام ادیبوں نے عصمت چغتائی کی لاش کو جلائے جانے پر مختلف آرا کااظہار کیا۔ مجروح سلطان پوری نے کہا کہ ‘یہ ایک بہت ہی احمقانہ خواہش تھی، یہ کیسا سیکولر ازم ہے، دفنانے کے بجائے جلا دینا، کلچرل ویلیوز کو توڑنے کے لیے، نہ وہاں پر کوئی پوجا تھی نہ نماز، میں ان کی نعش سوزی پر نہیں گیا۔ سلمیٰ صدیقی نے جو عصمت کی جگری دوست تھیں اپنے جذبات یوں پیش کیے۔ میں اس بات سے اتفاق نہیں کرتی، کیونکہ میں سوچتی ہوں کہ انسان کا اپنی روایات سے جڑا رہنا ہی بہتر ہوتا ہے۔ جب بھی ان سے مذہب کے متعلق بات کی تو انھوں نے یہی کہا کہ وہ جل جانا پسند کریں گی۔ دراصل مذہب کے بارے میں خاص طور پر موت کے بعد کی زندگی کے بارے ان کے خیالات بہت گنجلک تھے۔عصمت کی بیٹی سیما ساہنی نے ان کے فیصلے کے پس پشت کارفرما جذبے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ’انھیں مرنے کے بعد دوبارہ پیدا ہونے کے نظریے یعنی آواگون پر پورا یقین تھا، انکا خود کو نہ دفنانے کا فیصلہ اسلام کی بےحرمتی کرنا نہیں تھا۔
معروف ادیبہ قرۃ العین حیدر نے اپنی کتاب ’دامان باغباں‘ میں عصمت چغتائی کی لاش کو جلائے جانے کا تقابل معرود ادیب ن م راشد کی لاش کے جلائے جانے سے کیا اور لکھا کہ ‘لندن میں ان کی وفات کے بعد ان کی انگریز بیوی نے ان بیچارے کو آگ میں جلوا دیا۔ اس معاملہ میں نہ عصمت آپا قصووار ہیں نہ راشد صاحب۔ یہ مردہ بدست زندہ کی دوالمناک مثالیں تھیں۔
یاد رہے کہ عصمت چغتائی 21 اگست 1915 کو اتر پردیش کے قصبہ بدایوں کے ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد مرزا قسیم بیگ چغتائی ڈپٹی کلکٹر کے عہدے پر فائز تھے۔ وہ اپنے دس بہن بھائیوں میں نویں نمبر پر تھیں۔ عصمت نے ہوش سنبھالا تو ان کے بڑے بھائی عظیم بیگ چغتائی ادب کے میدان میں جھنڈے گاڑ چکے تھے۔ چنانچہ جب انھوں نے لکھنا لکھانا شروع کیا تو اپنے ادبی پس منظر کی وجہ سے قدم جمانے میں زیادہ دیر نہیں لگی۔جس وقت عصمت چغتائی نے ادبی دنیا میں قدم رکھا وہ اُردو کی ترقی پسند ادبی تحریک کا نقطہ آغاز تھا۔ پریم چند رخصت ہو چکے تھے اور منٹو، کرشن چندر، بیدی، غلام عباس، خواجہ احمد عباس اور کئی دوسرے اپنی نگارشات سے اردو ادب کو مالامال کر رہے تھے۔عصمت چغتائی کے گھرانے میں لڑکیوں کو اعلیٰ تعلیم دلوانے کا کوئی رجحان نہ تھا مگر عصمت کی ضد اور تعلیم میں ان کی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے ان کے والد نے انھیں علی گڑھ اور بعدازاں لکھنؤ سے تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دے دی۔ یہی وہ زمانہ تھا جب انکی تحریریں ادبی جریدوں میں شائع ہونا شروع ہوئیں۔عصمت چغتائی سے پہلے کئی خواتین ادبی دنیا میں قدم رکھ چکی تھیں مگر عصمت کے بے باک قلم نے بہت جلد پوری ادبی دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی۔ عصمت چغتائی کو زبان و بیان پر غیر معمولی دسترس تھی۔ انھوں نے نثر کی ہر صنف میں اپنے نقوش ثبت کیے جن میں افسانہ، ناول، ڈرامہ، خاکہ، مضامین، سفرنامہ، آپ بیتی اور رپورتاژ شامل ہیں۔ عصمت چغتائی اردو کی ترقی پسند ادبی تحریک کے ہراول دستے میں شامل تھیں۔
عصمت غالباً اُردو کی پہلی ادیبہ تھیں جن کی کسی تحریر پر پابندی عائد ہوئی اور ان پر فحاشی کے الزام میں باقاعدہ مقدمہ چلا۔ یہ افسانہ ’لحاف‘ تھا جو بقول عصمت چغتائی کے ایک سچے واقعے پر مشتمل تھا۔ عصمت چغتائی نے اس مقدمے کا سامنا کیا اور عدالت نے انھیں باعزت بری کیا۔ یہ عصمت چغتائی کی ابتدا تھی۔ اس کے بعد انھوں نے سینکڑوں افسانے، ڈرامے اور چند ناول اور ناولٹ تحریر کیے۔ ان کی خود نوشت سوانح عمری بھی ’کاغذی ہےپیرہن‘ کے عنوان سے منظرعام پر آئی۔ زندگی تو زندگی عصمت چغتائی اپنی موت کے بعد بھی دنیا کو چونکانے سے باز نہ آ سکیں اور ان کی وفات کے بعد انھیں سپرد خاک کرنے کی بجائے سپرد آتش کرنے کا فیصلہ ادبی دنیا میں موضوع بحث بن گیا۔ مشہور ادیبہ قرۃ العین حیدر کے مطابق یہ کہنا کہ ‘عصمت آپا کو ان کی وصیت کے مطابق نذر آتش کیا گیا، بالکل غلط ہے۔ جب ان کی بھتیجی مدحت پاکستان سے بھارت آئی تھیں تو فاتحہ خوانی کے لیے انہیں عصمت آپا بڑی بہن کی قبر پر لے گئی تھیں۔ عصمت آپا نے ایک طرف اشارہ کر کے ان سے کہا تھا، دیکھو یہ جگہ میں نے اپنے لیے محفوظ کر لی ہے۔ اصل واقعہ یہ تھا کہ ان کی بیٹی سیما نے ایک ہندو نوجوان سے سول میرج کر لی تھی۔ اسکا بیٹا عصمت آپا کو بےحد عزیز تھا اور وہ بھی اپنی نانی سے بہت محبت کرتا تھا۔ وہ لڑکا خود کو اپنے باپ کے سماج کا ایک فرد گردانتا تھا چنانچہ جب عصمت آپا کا انتقال ہوا تو اس نے ان کو شمشان گھر پہنچا دیا لیکن یہ ان کی بدقسمتی ہے کہ وہ زندگی میں بھی کچھ لوگوں کی طرف سے ملامت کا شکار رہیں اور مرنے کے بعد بھی۔ جگدیش چندر ودھاون نے اپنی کتاب ‘عصمت چغتائی، شخصیت اور فن’ میں لکھا ہے کہ ‘جنازے میں شامل ہونے والوں میں ان کی بیٹیوں اور نواسے کے علاوہ ڈاکٹر دھرم ویر بھارتی، پدما سچدیو کے شوہر سریندر سنگھ، نوٹیال اور وشوناتھ سچدیو تھے اور بس۔ عصمت کی وصیت کے مطابق گیٹ وے آف انڈیا میں ذرا دور گہرے سمندر میں ان کی بیٹی سیما نے ایک کشتی پر ان کے پھول رکھے اور ان کے نواسے نے انھیں سمندر کی نذر کر دیا۔معروف لکھاری عصمت چغتائی کی لاش جلائی کیوں گئی؟
ہندوستان کے مسلم گھرانے میں پید اہونے والی بے باک ادیبہ عصمت چغتائی کو بعد از مرگ دفن کرنے کی بجائے نذر آتش کیا گیا جس پر آج بھی تنقید کی جاتی ہے، تاہم عصمت کے رفقا کا کہنا ہے کہ ایسا انکی وصیت کے مطابق کیا گیا کیوں کہ انہیں قبر کی تاریکی سے بے انتہا خوف آتا تھا۔ عصمت کے ہم عصر کہتے ہیں کہ مذہب کے بارے میں عصمت کے خیالات انتہائی گنجلک تھے، انہیں دوبارہ پیدا ہونے کے نظریے یعنی آواگون پر بھی پورا یقین تھا۔
24 اکتوبر 1991 کو اس خبر نے پوری اُردو دنیا کو اداس کر دیا تھا کہ اُردو کی بے باک اور صاحب طرز ادیبہ عصمت چغتائی ممبئی میں وفات پا گئی ہیں۔ اس خبر کے ساتھ ہی ایک اور اطلاع بھی آئی جس نے عصمت چغتائی سے محبت کرنے والوں کو مزید دکھ میں مبتلا کیا اور وہ یہ کہ ان کی میت کو اُن کی وصیت کے مطابق سپرد خاک کرنے کی بجائے نذرِآتش کر دیا گیا ہے۔ اس بارے جگدیش چندر ودھاون نے لکھا ہے کہ ‘عصمت چغتائی موت کے بعد بھی ایک ہنگامے کا موجب بن گئیں اور ایک شدید قسم کی بحث چھڑ گئی۔ یہ ایک جذباتی قسم کی بحث تھی جس کی شدت و حدت آج بھی محسوس ہوتی ہے۔ عصمت چغتائی کی موت کے دو ماہ بعد جنوری 1992 میں دہلی سے شائع ہونے والے مشہور ادبی جریدے ‘بیسویں صدی‘ نے عصمت چغتائی کی یاد میں ایک خصوصی گوشہ شائع کیا جس میں ان کی وفات پر اردو کے صف اول کے ادیبوں کے تاثرات شامل کیے گئے۔ ان تمام ادیبوں نے عصمت چغتائی کی لاش کو جلائے جانے پر مختلف آرا کااظہار کیا۔ مجروح سلطان پوری نے کہا کہ ‘یہ ایک بہت ہی احمقانہ خواہش تھی، یہ کیسا سیکولر ازم ہے، دفنانے کے بجائے جلا دینا، کلچرل ویلیوز کو توڑنے کے لیے، نہ وہاں پر کوئی پوجا تھی نہ نماز، میں ان کی نعش سوزی پر نہیں گیا۔ سلمیٰ صدیقی نے جو عصمت کی جگری دوست تھیں اپنے جذبات یوں پیش کیے۔ میں اس بات سے اتفاق نہیں کرتی، کیونکہ میں سوچتی ہوں کہ انسان کا اپنی روایات سے جڑا رہنا ہی بہتر ہوتا ہے۔ جب بھی ان سے مذہب کے متعلق بات کی تو انھوں نے یہی کہا کہ وہ جل جانا پسند کریں گی۔ دراصل مذہب کے بارے میں خاص طور پر موت کے بعد کی زندگی کے بارے ان کے خیالات بہت گنجلک تھے۔عصمت کی بیٹی سیما ساہنی نے ان کے فیصلے کے پس پشت کارفرما جذبے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ’انھیں مرنے کے بعد دوبارہ پیدا ہونے کے نظریے یعنی آواگون پر پورا یقین تھا، انکا خود کو نہ دفنانے کا فیصلہ اسلام کی بےحرمتی کرنا نہیں تھا۔
معروف ادیبہ قرۃ العین حیدر نے اپنی کتاب ’دامان باغباں‘ میں عصمت چغتائی کی لاش کو جلائے جانے کا تقابل معرود ادیب ن م راشد کی لاش کے جلائے جانے سے کیا اور لکھا کہ ‘لندن میں ان کی وفات کے بعد ان کی انگریز بیوی نے ان بیچارے کو آگ میں جلوا دیا۔ اس معاملہ میں نہ عصمت آپا قصووار ہیں نہ راشد صاحب۔ یہ مردہ بدست زندہ کی دوالمناک مثالیں تھیں۔
یاد رہے کہ عصمت چغتائی 21 اگست 1915 کو اتر پردیش کے قصبہ بدایوں کے ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد مرزا قسیم بیگ چغتائی ڈپٹی کلکٹر کے عہدے پر فائز تھے۔ وہ اپنے دس بہن بھائیوں میں نویں نمبر پر تھیں۔ عصمت نے ہوش سنبھالا تو ان کے بڑے بھائی عظیم بیگ چغتائی ادب کے میدان میں جھنڈے گاڑ چکے تھے۔ چنانچہ جب انھوں نے لکھنا لکھانا شروع کیا تو اپنے ادبی پس منظر کی وجہ سے قدم جمانے میں زیادہ دیر نہیں لگی۔جس وقت عصمت چغتائی نے ادبی دنیا میں قدم رکھا وہ اُردو کی ترقی پسند ادبی تحریک کا نقطہ آغاز تھا۔ پریم چند رخصت ہو چکے تھے اور منٹو، کرشن چندر، بیدی، غلام عباس، خواجہ احمد عباس اور کئی دوسرے اپنی نگارشات سے اردو ادب کو مالامال کر رہے تھے۔عصمت چغتائی کے گھرانے میں لڑکیوں کو اعلیٰ تعلیم دلوانے کا کوئی رجحان نہ تھا مگر عصمت کی ضد اور تعلیم میں ان کی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے ان کے والد نے انھیں علی گڑھ اور بعدازاں لکھنؤ سے تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دے دی۔ یہی وہ زمانہ تھا جب انکی تحریریں ادبی جریدوں میں شائع ہونا شروع ہوئیں۔عصمت چغتائی سے پہلے کئی خواتین ادبی دنیا میں قدم رکھ چکی تھیں مگر عصمت کے بے باک قلم نے بہت جلد پوری ادبی دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی۔ عصمت چغتائی کو زبان و بیان پر غیر معمولی دسترس تھی۔ انھوں نے نثر کی ہر صنف میں اپنے نقوش ثبت کیے جن میں افسانہ، ناول، ڈرامہ، خاکہ، مضامین، سفرنامہ، آپ بیتی اور رپورتاژ شامل ہیں۔ عصمت چغتائی اردو کی ترقی پسند ادبی تحریک کے ہراول دستے میں شامل تھیں۔
عصمت غالباً اُردو کی پہلی ادیبہ تھیں جن کی کسی تحریر پر پابندی عائد ہوئی اور ان پر فحاشی کے الزام میں باقاعدہ مقدمہ چلا۔ یہ افسانہ ’لحاف‘ تھا جو بقول عصمت چغتائی کے ایک سچے واقعے پر مشتمل تھا۔ عصمت چغتائی نے اس مقدمے کا سامنا کیا اور عدالت نے انھیں باعزت بری کیا۔ یہ عصمت چغتائی کی ابتدا تھی۔ اس کے بعد انھوں نے سینکڑوں افسانے، ڈرامے اور چند ناول اور ناولٹ تحریر کیے۔ ان کی خود نوشت سوانح عمری بھی ’کاغذی ہےپیرہن‘ کے عنوان سے منظرعام پر آئی۔ زندگی تو زندگی عصمت چغتائی اپنی موت کے بعد بھی دنیا کو چونکانے سے باز نہ آ سکیں اور ان کی وفات کے بعد انھیں سپرد خاک کرنے کی بجائے سپرد آتش کرنے کا فیصلہ ادبی دنیا میں موضوع بحث بن گیا۔ مشہور ادیبہ قرۃ العین حیدر کے مطابق یہ کہنا کہ ‘عصمت آپا کو ان کی وصیت کے مطابق نذر آتش کیا گیا، بالکل غلط ہے۔ جب ان کی بھتیجی مدحت پاکستان سے بھارت آئی تھیں تو فاتحہ خوانی کے لیے انہیں عصمت آپا بڑی بہن کی قبر پر لے گئی تھیں۔ عصمت آپا نے ایک طرف اشارہ کر کے ان سے کہا تھا، دیکھو یہ جگہ میں نے اپنے لیے محفوظ کر لی ہے۔ اصل واقعہ یہ تھا کہ ان کی بیٹی سیما نے ایک ہندو نوجوان سے سول میرج کر لی تھی۔ اسکا بیٹا عصمت آپا کو بےحد عزیز تھا اور وہ بھی اپنی نانی سے بہت محبت کرتا تھا۔ وہ لڑکا خود کو اپنے باپ کے سماج کا ایک فرد گردانتا تھا چنانچہ جب عصمت آپا کا انتقال ہوا تو اس نے ان کو شمشان گھر پہنچا دیا لیکن یہ ان کی بدقسمتی ہے کہ وہ زندگی میں بھی کچھ لوگوں کی طرف سے ملامت کا شکار رہیں اور مرنے کے بعد بھی۔ جگدیش چندر ودھاون نے اپنی کتاب ‘عصمت چغتائی، شخصیت اور فن’ میں لکھا ہے کہ ‘جنازے میں شامل ہونے والوں میں ان کی بیٹیوں اور نواسے کے علاوہ ڈاکٹر دھرم ویر بھارتی، پدما سچدیو کے شوہر سریندر سنگھ، نوٹیال اور وشوناتھ سچدیو تھے اور بس۔ عصمت کی وصیت کے مطابق گیٹ وے آف انڈیا میں ذرا دور گہرے سمندر میں ان کی بیٹی سیما نے ایک کشتی پر ان کے پھول رکھے اور ان کے نواسے نے انھیں سمندر کی نذر کر دیا۔
