عمران خان ایکس اکاؤنٹ ان کا کیا نقصان کرنے والا ہے؟

معروف اینکر اور تجزیہ کار جاوید چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ سے 1971ء کے سانحہ مشرقی پاکستان بارے کی گئی پوسٹ ان کے لیے سنگین سیاسی و قانونی مشکلات پیدا کرنے جا رہی یے کیونکہ اسٹیبلشمنٹ اس حساس معاملے پر فضولیات کو برداشت نہیں کرے گی۔
ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان ایک ایسے ٹریپ میں پھنس چکے ہیں جس میں انہیں ان کے اپنوں نے فریم کروایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس متنازع پوسٹ پر 2024ء میں ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ نے انکوائری شروع کی تھی، جبکہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے بعدازاں عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ سے متعلق دو الگ انکوائریز درج ہونے کی تصدیق اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اب اس کیس میں پیشرفت ہونے جا رہی ہے اور عمران خان کے علاوہ چار دیگر افراد کو بھی اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔
جاوید چوہدری نے عمران خان کے سیاسی فیصلوں کے انداز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اکثر مختلف معاملات میں فوری طور پر رضامندی ظاہر کر دیتے ہیں اور بعد میں پیدا ہونے والی مشکلات کو درست کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے مطابق، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سربراہی کے لیے مختلف رہنماؤں کے نام تجویز کیے جانے پر عمران خان کا فوری طور پر ہاں کر دینا ان کے اسی طرزعمل کی مثال ہے۔
انہوں نے 9 مئی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے سپریم کورٹ میں پیشی کے دوران یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ گرفتاری کے وقت اندر تھے اور انہیں معلوم نہیں کہ باہر کارکنوں نے کیا کچھ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بعدازاں بعض آڈیو ریکارڈنگز سامنے آئیں جن میں عمران خان کے اعظم سواتی سمیت دیگر افراد سے رابطوں اور ہدایات کا ذکر تھا۔ مزید ریکارڈنگز بھی متعلقہ اداروں کے پاس موجود ہیں جن میں مختلف مقامات پر جانے اور وہاں دہشت گردی کی کارروائیوں سے متعلق ہدایات دی گئی تھیں۔
جاوید چوہدری نے کہا کہ عمران جیل سے انٹرویوز اور پیغامات جاری کرتے رہے اور ریاستی ادارے خاموشی سے صورتحال کا جائزہ لیتے رہے، جس سے عمران خان کا اعتماد بڑھتا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو شاید یہ اندازہ نہیں تھا کہ ان کے رابطوں اور پیغامات کی نگرانی یا ریکارڈنگ بھی ہو سکتی ہے۔ جاوید چوہدری کے مطابق، اسی دوران عمران نے 1971ء کے سانحہ مشرقی پاکستان کا معاملہ چھیڑ دیا اور اسکی ذمہ داری پاک فوج پر ڈال دی۔ انکی اس حرکت کو جاوید موجودہ تنازعے کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 1971ء اور سقوطِ ڈھاکا پاکستان کی تاریخ کے انتہائی حساس موضوعات میں شامل ہیں اور جنرل یحییٰ خان کے کردار سمیت ان واقعات کی ذمہ داری کے تعین پر طویل عرصے سے بحث ہوتی رہی ہے۔ جاوید چوہدری کے مطابق، عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ سے حمود الرحمٰن کمیشن رپورٹ پڑھنے اور اس دور کی قیادت کے کردار پر سوال اٹھانے سے متعلق ویڈیو شیئر کی گئی، جس میں اس وقت کے واقعات کا موازنہ موجودہ سیاسی صورتحال سے بھی کیا گیا تھا۔ اس پوسٹ نے ایک ایسا تنازع کھڑا کیا جس کے عمران خان کے لیے سنگین سیاسی اور قانونی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
اس معاملے پر جون 2024ء میں سامنے آنے والی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ نے عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ سے ویڈیو پوسٹ کیے جانے کی تحقیقات شروع کی تھیں اور بیرسٹر گوہر خان، عمر ایوب اور رؤف حسن کو بھی پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا گیا تھا۔ عمران کے اکاؤنٹ سے پوسٹ کی گئی ویڈیو کے مواد اور اسے اپ لوڈ کرنے کے ذمہ دار افراد کے تعین کو بھی ایف آئی اے تحقیقات کا حصہ بتایا گیا تھا۔
دوسری جانب، جنوری 2026 میں این سی سی آئی اے نے عمران کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ میں رپورٹ جمع کرائی تھی۔ رپورٹ کے مطابق، عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ سے کی جانے والی ٹویٹس کے معاملے میں دو الگ انکوائریز 19 مئی اور 13 ستمبر 2024ء کو درج کی گئی تھیں اور وہ زیر تفتیش تھیں۔ این سی سی آئی اے کے مطابق، تفتیشی ٹیم متعدد مرتبہ اڈیالہ جیل گئی، لیکن اکاؤنٹ چلانے والے افراد کی شناخت اور دیگر سوالات کے جوابات حاصل نہیں ہو سکے۔ اس رپورٹ میں بھی ان دو انکوائریز کو باقاعدہ مقدمات قرار نہیں دیا گیا۔
جاوید چوہدری نے پارٹی رہنماؤں کے مؤقف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بیرسٹر گوہر خان پہلے ہی اس معاملے پر تحفظات ظاہر کر چکے ہیں، جبکہ عمر ایوب کا مؤقف بھی ان سے ملتا جلتا ہے۔ ان کے مطابق، رؤف حسن سے غلطی یہ ہوئی کہ انہوں نے ابتدا میں پریس کانفرنس کے دوران اس الزام کو قبول کیا، لیکن بعدازاں کہا کہ انہوں نے یہ ویڈیو دیکھی ہی نہیں تھی۔ جاوید نے اس صورتحال کو تحریک انصاف کی قیادت کے لیے ایک مشکل مرحلہ قرار دیا جو آگے مزید پیچیدہ ہونے جا رہا ہے۔
