آغاسورش کاشمیری کی ایک طوائف سے ٹکرانے کی کہانی

معروف ادیب اور لکھاری آغا شورش کاشمیری اپنی مشہور زمانہ کتاب ‘اس بازار میں’ ہیرا منڈی لاہور کی ایک طوائف سے انٹرویو کا حال بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ جب اسے معلوم ہوا کہ میں صحافی ہوں تو بولی: "اس بازار میں عورت، عورت نہیں بلکہ شام کا اخبار ہوتی ہے. اور جس کے پاس طاقت ہو وہ عورت کو خرید سکتا ہے.“
ہفت روزہ چٹان کے سابق مدیر شورش کاشمیری لکھتے ہیں کہ میں نے خاتون سے پوچھا کیا حکومت آپ کے لیے کچھ نہیں کرتی؟ جواب میں وہ ہنس پڑی اور بولی: ”آپ صحافی ہو کر انجان بنتے ہیں. حکومت کے لیے کرنے کے اور تھوڑے کام ہیں؟ یہ ایک اخلاقی مسئلہ ہے اور اس کا تعلق پورے معاشرے سے ہے.“
شورش نے کہا ، ”حکومت کے بھی تو کچھ فرائض ہوتے ہیں؟“ طوائف بولی، جی ہاں کیوں نہیں؟ وہ اپنے فرائض کو بڑی خوبی سے پُورا کرتی ہے. مثلاً شاہی قلعہ میں جب سابق وزیراعظم لیاقت علی خان نے سلامی لی تھی تو اسکی سیڑھیوں پر جو قالین بچھائے گئے تھے وہ ہمارے مکانوں سے ہی گئے تھے. جب کبھی قلعہ سے باہر یا قلعہ کے اندر کوئی سرکاری تقریب ہوتی ہے تو سارے قالین ہمارے ہاں سے ہی جاتے ہیں.
شورش کاشمیری بولے ”اوہو یہ تو ایک خبر ہے“۔ طوائف بولی ، ”خبر کیسی؟ راعی کا رعایا پر حق ہوتا ہے، ہمیں تو سرکاری دنگل دیکھنے کے لیے بھی سٹیڈیم کے ٹکٹ خریدنے پڑتے ہیں“۔ شورش سادگی سے بولے، “آپ لوگ انکار کیوں نہیں کر دیتے؟“ طوائف بولی، خوب ! آپ بھی ہوا میں گِرہ لگا رہے ہیں. ہمیں تو محلے کے تھانیداروں کے مہمانوں کے لیے بستر بھی بھیجنے پڑتے ہیں، اگر ایسا نہ کریں تو ہمارا کاروبار ایک دن میں ٹھپ ہو جائے. ہم لوگ عیبوں کی گٹھڑیاں ہیں، جو شخص بھی یہاں آتا ہے وہ اخلاقی چور ہوتا ہے. پولیس سے جھگڑا مول لے کر تو بھوکوں مرنے والی بات ہے، بلکہ قید ہونے والی بات ہے”۔
شورش بتاتے ہیں کہ طوائف کی غیر معمولی متاثر کن گفتگو سن کر دِل رنجیدہ ہو گیا۔ اس کی بھی ایک دکھ بھری کہانی تھی۔ قسمت اُسے اور اُس کے خاندان کو تقسیمِ ہند کے بعد شاکی محلہ لاہور کے کوٹھے پر لے آئی۔ اسکے والد پٹیالہ کے بڑے زمیندار تھے جن کے پاس تین سو بیگھے بارانی اور تین سو پینسٹھ بیگھے نہری زمین تھی. اسکی ماں نے ہجرت کے دوران مہاجر کیمپ میں دَم توڑا۔ اسکے والد کی عمر اَسی برس ہو چکی تھی۔ اُن پر یہ رَحم ہوا کہ بیچارے اُس وقت اندھے ہو گئے جب یہ کہانی جنم لے رہی تھی اور یوں اپنی بچیوں کی حالت زار دیکھنے سے بچ گے.
ایک سوال پر اس خاتون نے آغا شورش کاشمیری کو کہا کہ ہمیں پاکستان تو خدا لے کر آیا تھا لیکن اِس بازار میں ہمیں ہمارا پیٹ لے آیا. یہاں لانے کا انتظام تو لیاقت علی خان کی بدولت اسپیشل ٹرین کے ذریعے ہوا تھا. یہ سن کر شورش نے طوائف سے آخری سوال کیا کہ ”اگر تمہیں ملک کا وزیراعظم بنا دیا جائے تو تم کیا کرو گی؟“ وہ مسکرائی اور کہا ”میں سب سے پہلے تمام نشے بند کر ڈالوں گی، شراب، چرس، بھنگ، افیون۔ میں ایسا اس لیے نہیں کروں گی کہ نشہ شرعاً حرام ہے. ایسس کرنا اِس لیے ضرعری یے کہ ان نشوں کے استعمال سے جوان ، جوان نہیں رہتا۔
یہ سن کر شورش بے اختیار ہنس پڑے۔ اس پر طوائف بولی معاف کیجیے گا، ہر قوم کی عزت اُس کے جوان ہوتے ہیں. لیکن میں دعوے سے کہہ سکتی ہوں کہ ہمارے سو میں سے ستر جوان چہروں سے تو جوان لگتے ہیں لیکن اُن کی ہمتیں بُوڑھی ہو چکی ہیں۔
