کیا چین میں گدھوں کی نسل ختم ہونے والی ہے؟

برصغیر میں چین واحد ملک ہے جہاں پر گدھوں کی مانگ بہت زیادہ ہے، کیونکہ گدھوں کی کھالوں کو مخصوص ادوایات کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے، ان ادویات کو دنیا بھر میں فروخت کیا جاتا ہے، چین میں تیار ہونے والی دوا ’’ای جیائو‘‘ کی تیاری کیلئے سالانہ 59 لاکھ گدھوں کی ضرورت پڑتی ہے۔خبر رساں ‘رائٹرز’ کی ایک حالیہ رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ گزشتہ برسوں میں چین نے مقامی سطح پر بڑھتی ہوئی گدھے کی کھال کی مانگ پوری کرنے کے لیے پاکستان اور افغانستان کا رُخ کر لیا تھا، اس سے قبل چین میں گدھوں کی کھال کی مانگ برِاعظم افریقہ سے پوری کی جا رہی تھی۔چین میں گدھے کی کھال کی مانگ بڑھنے کی وجہ ایک مقامی دوا میں اس کا استعمال ہے جسے ’ای جیاؤ‘ کہا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ہر سال یہ طلب پوری کرنے کے لیے دنیا میں لاکھوں گدھوں کو ذبح کر دیا جاتا ہے، ’’ای جیاؤ‘‘ بنیادی طور پر گدھے کی کھال سے تیار کیا جاتا ہے۔ یہ بیوٹی پراڈکٹس اور کئی ایسی دواؤں کا اہم ترین جز ہے جنھیں خون میں اضافے اور جسم کے مدافعتی نظام کے لیے مفید تصور کیا جاتا ہے۔روایتی طور پر ای جیاؤ ایک انتہائی مہنگی پراڈکٹ ہے، طلب میں اضافے کی وجہ سے ای جیاؤ کی قیمتوں میں 30 گنا اضافہ ہوا اور چین کے ریاستی میڈیا کے مطابق اس کی قیمت 420 ڈالر فی گرام تک پہنچ گئی ہے۔ رواں برس فروری میں حیوانات کے لیے امدادی کام کرنے والے برطانوی ادارے ’ڈنکی سینکچری‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ای جیاؤ صنعت کو اندازاً سالانہ 59 لاکھ گدھے کی کھالیں درکار ہوتی ہیں جس کی وجہ سے عالمی سطح پر ان کی آبادی کو شدید دباؤ کا سامنا ہے۔صرف افریقی ملک نائیجیریا میں ہر سال ہزاروں گدھے کھال کے لیے ذبح کر دیے جاتے ہیں اگرچہ نائیجیریا کی حکومت نے 2019 میں گدھوں کی برآمد پر پابندی لگا دی تھی لیکن تاحال انھیں ذبح کرنے کی اجازت ہے، نائیجیریا کے دارالحکومت ابوجا سے تعلق رکھنے والے حیوانات کے معالج ابراہیم ادو سہو کا کہنا ہے کہ زیادہ تر گدھے شمالی سرحد سے جنوبی علاقوں میں لا کر ذبح کیے جاتے ہیں اور پھر ان کی کھالیں چین برآمد کر دی جاتی ہیں۔افریقہ میں گدھوں کے تحفط کے لیے کام کرنے والی ماحولیات اور حیوانات سے متعلق تنظیموں نے افریقن یونین کے اقدام کو سراہا ہے تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پابندی پر عمل درآمد کرانا انتہائی مشکل ہوگا، افریقن یونین کے اس اقدام سے قبل برکینا فاسو اور بوٹسوانا نے گدھے کے کھال کی تجارت پر پابندی عائد کر دی تھی۔ 2022 میں تنزانیہ نے اس کی برآمد پر 10 سال کی پابندی عائد کی۔ ان پابندیوں کے باجود اسمگلنگ اور دیگر ذرائع سے چین کو گدھوں کی کھال کی برآمد جاری ہے۔ماہرینِ حیوانیات کے مطابق گائے، بکریوں اور سؤروں کے مقابلے میں گدھے کی افزائشِ نسل کی رفتار سست ہوتی ہے، دیگر مویشیوں کے مقابلے میں گدھی کے حمل کی مدت 11 سے ساڑھے 14 ماہ ہوتی ہے اور اکثر ایک حمل سے صرف ایک بچہ ہی پیدا ہوتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ چین میں گدھوں کی کھال کی سالانہ 59 لاکھ کی کھپت پوری کرنے کے لیے اگر فارمنگ کی جائے تو اس کے لیے کم از کم دو دہائیاں درکار ہوں گی۔

Related Articles

Back to top button