اسرائیل اور ایران پھر آمنے سامنے ،عسکری اعتبار سے زیادہ طاقتور کون؟

ایران کے اسرائیل پر میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد اسرائیل کے ایران پر جوابی حملوں نے مشرقِ وسطیٰ میں پھر سے ایک بڑی جنگ کے خدشات کو جنم دے دیا ہے۔

خیال رہے کہ اسرائل نے جوابی کارروائی میں ایران کے دارالحکومت تہران سے 350کلومیٹر جنوب میں واقع تاریخی شہر اصفہان کو نشانہ بنایا ہے۔ جہاں اصفہان میں ایک بڑا فوجی ہوائی اڈہ موجود ہے وہیں اس صوبے میں کئی ایرانی جوہری تنصیبات بھی قائم ہیں جن میں نتنز شہر بھی شامل ہے جو کہ ایران کے یورینیم افزودگی کے پروگرام کا مرکز ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل ایران کی جانب سے دمشق میں ایرانی قدس فورس کے کمانڈرز کی ایک مبینہ اسرائیلی حملے میں ہلاکت کے بعد جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل کی جانب 300 سے زیادہ ڈرونز اور میزائل داغے تھے۔اسرائیلی فوجی ترجمان کے مطابق حملے میں 170 ڈرون اور 30 کروز میزائل شامل تھے، جن میں سے کوئی بھی اسرائیلی علاقے میں داخل نہیں ہوا اور 110 بیلسٹک میزائل جن میں سے بہت کم تعداد اسرائیل پہنچی۔تاہم اسرائیل، ایران کی طرف سے 200 سے زیادہ میزائل اور ڈرونز داغے جانے کے بعد بھی کوئی بڑا نقصان نہ اٹھانے پر اور ایران اپنے دیرینہ دشمن پر اتنا بڑا حملہ کرنے کے ذریعے، اپنی اپنی جگہ پر بظاہر یہ بتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ مضبوط ہیں۔تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایران اور اسرائیل میں سے عسکری اعتبار سے زیادہ طاقتور کون ہے؟

مبصرین کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان تقریباً 2152 کلومیٹر کا زمینی فاصلہ ہے اور ایران نے وہاں تک اپنے میزائل پہنچا کر یہ تو ثابت کر دیا ہے کہ جس میزائل پروگرام پر وہ کافی عرصے سے کام کر رہا ہے اس میں کافی ترقی ہوئی ہے۔ایران کے میزائل پروگرام کو مشرق وسطیٰ میں سب سے بڑا اور متنوع سمجھا جاتا ہے ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایران کے پاس ‘3000 سے زیادہ’ بیلسٹک میزائل ہیں۔

دوسری جانب اس بات کی کوئی حتمی تصدیق نہیں کہ اسرائیل کے پاس کتنے میزائل ہیں لیکن یہ بات واضح ہے کہ مشرق وسطیٰ میں اگر کسی ملک کے پاس جدید ترین میزائلوں کا ذخیرہ ہے تو وہ اسرائیل ہے۔ میزائلوں کا یہ ذخیرہ اس نے گذشتہ چھ دہائیوں میں امریکہ سمیت دیگر دوست ممالک کے ساتھ اپنے اشتراک یا اپنے طور پر ملک ہی میں تیار کیے ہیں۔ سی ایس آئی ایس میزائل ڈیفنس پراجیکٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیل کئی ملکوں کو میزائل برآمد بھی کرتا ہے۔

اسرائیل کے مشہور میزائیلوں میں ڈیلائلا، جبریئل، ہارپون، چریکو 1، جریکو 2، جریکو 3، لورا اور پوپیئی شامل ہیں۔ لیکن اسرائیل کے دفاع کی ریڑھ کی ہڈی اس کا آئرن ڈوم سسٹم ہے جو کہ کسی بھی قسم کے میزائل یا ڈرون حملے کو بروقت روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ غزہ سے حماس اور لبنان سے حزب اللہ کے راکٹوں کو متواتر فضا میں ہی تباہ کر کے وہ آج تک اپنا لوہا منواتا رہا ہے۔ آئرن ڈون کی طرح کا دنیا میں کوئی اور دفاعی نظام نہیں ہے اور یہ بہت کارآمد شارٹ رینج میزائل ڈیفنس سسٹم ہے۔

دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایران، اسرائیل سے بہت زیادہ بڑا ملک ہے اور اس کی آبادی اسرائیل سے دس گنا زیادہ ہے۔لیکن اس فرق سے یہ اندازہ لگانا قطعی درست نہیں ہو گا کہ ایران فوجی حساب سے اسرائیل سے زیادہ طاقتور ملک ہے۔اسرائیل ایران سے کہیں زیادہ رقم اپنے دفاعی بجٹ کی مد میں خرچ کرتا ہے اور اس کی سب سے بڑی طاقت بھی یہی ہے۔

اگر ایران کا دفاعی بجٹ 10 ارب ڈالر کے قریب ہے تو اس کے مقابلے میں اسرائیل کا بجٹ 24 ارب ڈالر سے ذرا زیادہ ہے۔جہاں ایران کی آبادی اسرائیل سے کہیں زیادہ ہے اسی طرح اس کے حاضر سروس فوجی بھی اسرائیل کے مقابلے میں تقریباً چھ گنا زیادہ ہے۔ ایران کے ایکٹیو فوجیوں کی تعداد چھ لاکھ دس ہزار جبکہ اسرائیل کے ایکٹیو فوجیوں کی تعداد ایک لاکھ ستر ہزار ہے۔

اسرائیل کے پاس جس چیز کی برتری ہے وہ اس کی ایڈوانس ٹیکنالوجی اور بہترین جدید طیاروں سے لیس ایئر پاور ہے۔ اس کے پاس 241 لڑاکا طیارے اور 48 تیز حملہ کرنے والے ہیلی کاپٹر ہیں۔ جبکہ ایران کے پاس فائٹر جیٹس کی تعداد 186 اور صرف 13 اٹیک ہیلی کاپٹر ہیں۔

دونوں ممالک نے ابھی تک اپنی بحری افواج کی زیادہ صلاحیتوں کا مظاہرہ تو نہیں کیا لیکن اگرچہ وہ جدید بنیادوں پر نہ بھی ہو، پھر بھی ایران کی بحری فوج کے پاس 101 جہاز جبکہ اسرائیل کے پاس 67 ہیں۔

ایران نے عراق کے ساتھ جنگ کے بعد سے اپنے میزائل سسٹم اور ڈرونز پر زیادہ کام کیا اور شارٹ اور لانگ رینج میزائل اور ڈرونز بنائے۔ جو مبینہ طور پر اس نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنے حریفوں کو بھی مہیا کیے ہیں۔حوثی باغیوں کی طرف سے سعودی عرب پر داغے میزائلوں کے تجزیے سے بھی یہ معلوم ہوا تھا کہ وہ ایرانی ساخت کے تھے۔

اگرچہ ایران نے سینکڑوں میزائل اسرائیل پر داغے ہیں لیکن دوسرے کے ملک میں جا کر گوریلہ آپریشن کرنے کا زیادہ تجربہ اسرائیل کا ہے اور وہ ہمیشہ ہی اس میں کامیاب ہوا ہے۔ لیکن جب بات ہوتی ہے دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ جنگ کی تو ایران کے رقبے اور فوج میں زیادہ تعداد کو دیکھتے ہوئے یہ صاف نظر آتا ہے کہ اسرائیل ایسا نہیں کرے گا۔

اس کی برتری فضائی طاقت، میزائل اور ڈرونز ہیں اور اگر اس نے ردِعمل ظاہر کیا تو ممکنہ طور پر ان ہی کے ذریعے ہی کرے گا۔ ویسے ماضی میں ایران کے ہائی پروفائل فوجی اور سویلین شخصیات بھی اسی طرح کے حملوں میں ہلاک کی گئی ہیں اگرچہ اسرائیل نے اکثر اوقات اس کا باقاعدہ اعتراف نہیں کیا لیکن اس سے انکار بھی نہیں کیا ہے۔

اس جنگ کا ایک اور پہلو سائبر اٹیک بھی ہو سکتا ہے اور اس جگہ اسرائیل کافی کمزورلگتا ہے۔ وجہ صاف ہے کہ ایران کا دفاعی نظام اسرائیل کے دفاعی نظام جتنا ایڈوانس نہیں ہے، اس لیے اسرائیل کے نظام پر سائبر حملہ زیادہ آسان ہے۔

Related Articles

Back to top button