خواتین کو تاڑنے والے پاکستانی مردوں کی تربیت ضروری کیوں؟

پاکستانی مردوں کی جانب سے خواتین کو گھورنا، اور تاڑنے کا سلسلہ کوئی نیا نہیں ہے، مردوں کی اکثریت اس کا ذمہ دار خواتین کی چال ڈھال، میک اپ، لباس کو قرار دیتی ہے جبکہ خواتین مردوں کی نیت پر غصہ اتارتے ہوئے ان کو سیدھا کرنے کی بات کرتی ہیں، موجودہ دور میں بھی خواتین کی اکثریت مردوں کی اخلاقی تربیت پر بات کرتی دکھائی دیتی ہیں، اب کہا جائے گا ’ناٹ آل مین‘۔ جی ہاں، تمام مرد ایسا نہیں کرتے ہوں گے لیکن تمام عورتیں اسے برداشت ضرور کرتی ہیں۔ سو ’یس آل ویمن‘۔بی بی سی اردو کی صحافی نازش ظفر کہتی ہیں کہ آپ اپنے ارد گرد کتنی خواتین کو ذاتی حیثیت میں یا کسی بھی واسطے سے جانتے ہیں؟ یقیناً اُن کی تعداد درجنوں میں تو ہوگی۔ ان میں سے چند ایک ضرور ایسی ہوں گی جن سے آپ کا فوری رابطہ ممکن ہوگا۔ ممکن ہے آپ کے ساتھ ہی بیٹھی ہوں۔ آج اُن سے ایک ایک کر کے پوچھیے کہ پاکستان میں عوامی مقامات پر مردوں کا رویہ اُن کے ساتھ کیسا ہوتا ہے۔ اور کیا انھیں بلاوجہ گھورا جاتا ہے؟ اور پھر جواب سُنتے جائیے۔ شاید ہی کوئی خاتون ہو جو کہے کہ اسے اس مسئلے کا سامنا نہیں ہے۔حال ہی میں اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی صحافی ابصا کومل نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ اُن کے مشاہدے کے مطابق اسلام آباد میں ایسے مردوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جو بلاوجہ خواتین کو گھورتے ہیں۔بہت سے مرد و خواتین نے البتہ اُن کی تائید کی اور یہ بھی کہا کہ اسلام آباد ہی نہیں، چھوٹے بڑے ہر شہر میں ہی گھورنے کا یہ مسئلہ بڑھ رہا ہے۔بی بی سی اُردو کے لیے جن خواتین سے بھی اس موضوع پر بات کے لیے رابطہ کیا گیا، انھوں نے یک زبان ہو کر یہی شکایت کی کہ مردوں کا انھیں گھورنا ایسا مسئلہ ہے جس کے ساتھ ہی وہ بڑی ہوئی ہیں۔مشا محمود ایک نوجوان فری لانسر اور بلاگر ہیں اور اُن کا تعلق لاہور سے ہے۔ اس سے پہلے وہ ایک دفتر میں کام کرتی تھیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مردوں کا گھورنا پبلک مقامات کے علاوہ بند عمارتوں میں، یعنی کام کی جگہوں پر بھی، بہت غیر محفوظ محسوس ہوتا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے آپ نے کچھ غلط کر دیا ہے۔جوشوا دانش عطااللہ یونیورسٹی کے طالب علم ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’یہ یقیناً ایک مسئلہ ہے، کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ ایسا کچھ نہیں ہوتا۔میرے خیال میں اپنی ذاتی حیثیت میں عورت کچھ نہیں کر سکتی، سوائے اس کے کہ اسے نظر انداز کر دے۔ جویریہ وسیم ایک نوجوان فلم میکر ہیں، فرانس میں فلم کی تعلیم کے دوران انھیں یہی تجربہ رہا۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انھیں احساس ہوتا ہے کہ کیسے پاکستان میں ان کے مرد کولیگز اور ساتھی اس خوف سے خالی زندگی گزارتے ہیں۔میں گھر کے باہر ہی واک کر رہی ہوں تو مرد کھڑے ہو کر گھورنے لگتے ہیں۔تعزیرات پاکستان کے سیکشن 509 میں کسی حد تک مردوں کے لیے سزا اور جرمانہ مقرر کیا گیا ہے۔ اگر وہ عوامی مقام پر زبانی یا عملاً ایسے پیغام یا حرکت کے مرتکب ہوں جو خاتون کے لیے تنگی اور تکلیف کا باعث ہو لیکن عملاً یہ قانون یا ہراسمنٹ کا کوئی بھی قانون گھورنے کے خلاف کوئی تحفظ نہیں دے سکتا۔خاتون وکیل فاطمہ بٹ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس سیکشن میں گھورنے کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا۔ ایسا کوئی عمل یا اشارہ ہے جس سے خاتون محسوس کرے کہ اس کی عزت کم کی گئی ہے یا وہ بے چینی محسوس کرتی ہے تو ان کے پاس یہ حق ہے کہ وہ شکایت کرے۔جویریہ وسیم نے بی بی سی کی اس بحث میں شامل ہوتے ہوئے اس موقع پر کہا کہ فرانس میں ایسے ہی محض گھورنے کے ایک واقعے پر انھوں نے پولیس کو شکایت درج کروائی۔ اس وقت کیس درج نہیں کیا گیا کیونکہ ثبوت موجود نہیں تھا لیکن پولیس نے ہراساں کرنے والے شخص کا نام ایک رجسٹری میں شامل کر لیا جس کے مطابق آئندہ اس طرح کی کوئی شکایت ریکارڈ میں آنے کے بعد کارروائی خود بخود ضروری سمجھی جائے گی۔تھانہ کلچر سے پہلے اپنا کلچر درست کرنا ہوگا اور سب سے بڑھ کر وکٹم (متاثرہ) کی تربیت سے زیادہ مرد کی تربیت پر توجہ کرنا ہوگی یا پھر ابصا کومل کی تجویز کے مطابق واقعی بورڈ لگانا ہوں گے کہ ’آپ گھورتے ہوئے بالکل بندر لگ رہے ہیں اگرچہ اس پیغام میں بندر بلاوجہ بدنام ہو رہا ہے۔

Related Articles

Back to top button