موبائل فون بچوں کی ذہنی صحت کو کیسے متاثر کر رہا ہے؟

موبائل فون کو دور جدید کی اہم ایجاد قرار دیا جاتا ہے جس نے دنیا کو کوزے میں سمیٹ دیا ہے، ہزاروں میل کے فاصلے کو ایک سکرین تک محدود کر دیا ہے، لیکن موبائل فون کو بچوں کیلئے فائدہ مند قرار نہیں دیا جاتا ہے، کیونکہ موبائل فون بچوں کی ذہنی صحت کو بُری طرح متاثر کرتے ہیں۔سماجی ماہر نفسیات جوناتھن ہیڈٹ کے مطابق اہم تشویش صرف یہ نہیں ہے کہ نو عمر اور نوجوان کلاس میں اچھی طرح سے توجہ نہیں دے رہے بلکہ موبائل فون کا بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی صحت پر کہیں زیادہ خوفناک اثر پڑتا ہے، میری بہن، جو ایک سپیشلسٹ کالج میں کام کرتی ہیں، حال ہی میں مجھے بتا رہی تھیں کہ موبائل فون سب سے بڑا مسئلہ ہے، جس سے وہ اور ان کے ساتھی نبرد آزما ہیں۔ میرے خیال میں بٹنوں والے بغیر انٹرنیٹ کے ’اینالاگ‘ فونز سے سمارٹ فونز پر منتقلی اورکرونا وبا میں لاک ڈاؤن کے دوران ڈیجیٹل زندگی میں اضافے کی وجہ سے 46 فیصد نوعمر تقریباً مسلسل‘ آن لائن رہے، آف کام کے اعداد و شمار کے مطابق 12 سال کی عمر تک 97 فیصد بچوں کے پاس سمارٹ فون ہوتا ہے۔سیکریٹری تعلیم گیلین کیگن نے بی بی سی ریڈیو فور کے پروگرام ٹو ڈے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ سکول لوگوں سے بات چیت کرنے، میل جول رکھنے کے لیے جاتے ہیں، آپ تعلیم حاصل کرنے جاتے ہیں۔ آپ اپنا موبائل فون استعمال کرنے یا پیغامات بھیجنے کے لیے نہیں جاتے جبکہ آپ کسی سے براہ راست بھی بات کرسکتے ہیں۔2010 اور 2015 کے درمیان، 10 سے 14 سال کی لڑکیوں اور لڑکوں میں خودکشی کی شرح میں بالترتیب 167 اور 92 فیصد اضافہ ہوا۔ برطانیہ میں نوعمر لڑکیوں میں خود کو نقصان پہنچانے کی شرح میں 78 فیصد اضافہ ہوا ہے۔وہ جن کی عمر 18 سے 25 سال ہے، ان میں اضطراب کی تشخیص میں 92 فیصد اضافہ ہوا۔لڑکیوں کو سب سے بڑا نقصان سوشل میڈیا کی وجہ سے ہوا جبکہ لڑکوں پر، ویڈیو گیمز اور فحش ویب سائٹس نے سب سے زیادہ خوفناک اثرات مرتب کیے۔ہیڈٹ کے مطابق: ’فون کے ساتھ گزرنے والے بچپن‘ کی وجہ سے چار بنیادی ’نقصانات‘ پیدا ہوتے ہیں۔ سماجی محرومی، نیند کی کمی، منقسم توجہ اور نشے کی لت۔امریکہ میں 17 سے 18 سال کی عمر کے ان بچوں کی تعداد میں 2009 کے مقابلے میں ڈرامائی طور پر کمی واقع ہوئی ہے جو کہتے ہیں کہ وہ ’تقریباً ہر روز‘ اپنے دوستوں کے ساتھ گھومتے ہیں۔رضاکارانہ رابطہ کاری یہاں ایک کارآمد ٹول ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، سکول جانے والے بچوں کے والدین کا ایک گروپ اجتماعی طور پر یہ فیصلہ کرے کہ ان کے بچوں میں سے کسی کو بھی ایک خاص عمر تک فون استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اس فیصلے کا مطلب ہے کہ بچے بھی تنہا محسوس نہیں کریں گے اگر لوگوں کی ایک خاص تعداد اس تک پہنچ جائے تو فون کا نہ ہونا بھی معمول بن جاتا ہے۔ہیڈٹ تکنیکی حل پر بھی روشنی ڈالتے ہیں، جیساکہ بچوں کو سمارٹ فون دینے سے بچنے کے لیے بہتر ہے ’بنیادی‘ فونز کا تعارف، فون کے لیے لاک ایبل پاؤچز اور عمر کی تصدیق کے تیز اور آسان طریقے۔ آخر میں حکومتوں کو بھی مداخلت کرنے کی ضرورت ہے۔ قوانین، جیساکہ تمام سوشل میڈیا کمپنیوں سے نئے صارفین کی عمروں کی تصدیق کرنے کا مطالبہ کرنا، اور سکولوں کے دوران ’فونز اِن لاکرز‘ کے اصول کو نافذ کرنے کا مطالبہ کرنے کی پالیسیاں، بڑا اثر ڈال سکتی ہیں۔ہیڈٹ کے بقول اہم بات یہ ہے کہ تبدیلی لانے میں ابھی زیادہ دیر نہیں ہوئی۔ ’جب نئی مصنوعات صارف خاص طور پر بچوں کے لیے خطرناک پائی جاتی ہیں، تو ہم انہیں واپس کر دیتے ہیں اور جب تک مینوفیکچرر ڈیزائن کو درست نہیں کر دیتا، مارکیٹ سے دور رکھتے ہیں۔ 2010 میں، نوعمر، والدین، سکولوں اور یہاں تک کہ ٹیک کمپنیوں کو بھی معلوم نہیں تھا کہ سمارٹ فونز اور سوشل میڈیا کے اتنے نقصان دہ اثرات ہیں۔ اب ہم جانتے ہیں۔‘

Related Articles

Back to top button