وفاقی کابینہ نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی منظوری دے دی
وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت اجلاس میں آئینی اقدامات کی سفارش، سکیورٹی رپورٹس میں دہشتگردی کے واقعات میں 195 فیصد اضافے اور ڈرون حملوں میں تشویشناک بڑھوتری کی نشاندہی

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے خیبرپختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال اور دہشتگردی کے بڑھتے واقعات کے پیش نظر آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی منظوری دے دی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے کی سکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے بعد جاری اعلامیے کے مطابق کابینہ کو خیبرپختونخوا میں دہشتگردی اور امن و امان کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ سے خیبرپختونخوا حکومت کی دانستہ لاتعلقی کے تناظر میں کابینہ نے وزیراعظم کو سفارش کی کہ وہ صدر مملکت کو اپنے آئینی اختیارات استعمال کرتے ہوئے صوبے میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا مشورہ دیں۔ اس سلسلے میں وزیراعظم ہاؤس سے ایڈوائس ایوان صدر بھجوا دی گئی۔
ذرائع کے مطابق حساس اداروں کی رپورٹس کی روشنی میں اجلاس کے دوران مختلف تجاویز زیرِ غور آئیں۔ ان میں آرٹیکل 232 کے تحت پورے صوبے میں ایمرجنسی نافذ کرنے اور بدامنی سے متاثرہ 12 اضلاع کے انتظامی امور کا الگ سے جائزہ لینے کی تجویز بھی شامل تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق فاٹا کے آٹھ اضلاع کے علاوہ ڈیرہ اسماعیل خان، لکی مروت، کرک اور کوہاٹ کا انتظامی کنٹرول وفاق کے پاس رکھنے کی تجویز پیش کی گئی۔ اس کے ساتھ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کو صوبے کے چیف ایگزیکٹو کے اختیارات دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ کابینہ کی منظوری کے بعد گورنر کی جانب سے صوبے کا کنٹرول سنبھالے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا۔
خیبرپختونخوا پولیس اور حساس اداروں کی سکیورٹی رپورٹس
اجلاس میں خیبرپختونخوا پولیس اور حساس اداروں کی دو خصوصی سکیورٹی رپورٹس بھی پیش کی گئیں۔ رپورٹس کے مطابق گزشتہ دو برس کے دوران صوبے میں دہشتگرد حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا، جس سے سکیورٹی صورتحال ایک سنگین چیلنج بن گئی ہے۔
حساس اداروں کی رپورٹ میں افغانستان میں موجود دہشتگرد عناصر اور ان کے سہولت کاروں سے متعلق صوبائی حکومت کی پالیسی کو ناقص قرار دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس پالیسی اور دہشتگردوں کے لیے مبینہ نرم گوشے کے باعث خطرات میں اضافہ ہوا، جبکہ تیاری، توجہ اور مؤثر انسدادِ دہشتگردی اقدامات کی کمی نے دہشتگرد عناصر کو اپنی سرگرمیاں بڑھانے کا موقع دیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ یکم مارچ 2024ء سے 23 ستمبر 2026ء تک خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات میں 195 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ دہشتگرد نیٹ ورکس، سہولت کاری اور غیرقانونی سرگرمیوں کے باہمی روابط کو بھی سکیورٹی کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق 2026ء میں ہونے والے دہشتگرد حملوں میں سے 73 فیصد کا ہدف پولیس اور سکیورٹی ادارے بنے۔ صوبے میں دہشتگردوں کی جانب سے ڈرون استعمال کرنے کے واقعات میں بھی تشویشناک اضافہ سامنے آیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2024ء میں پولیس اور سکیورٹی اداروں پر کوئی ڈرون حملہ رپورٹ نہیں ہوا تھا، تاہم 2026ء میں ایسے حملوں کی تعداد 170 تک پہنچ گئی۔ رپورٹ میں ایک سال کے دوران دہشتگردوں کے ڈرون حملوں میں تقریباً 107 فیصد اضافے کی نشاندہی کی گئی۔
حساس اداروں کی رپورٹ کے مطابق دیسی ساختہ دھماکا خیز آلات (آئی ای ڈی) کے حملوں کی تعداد 2025ء میں بڑھ کر 181 ہوگئی، جبکہ 2026ء میں ستمبر تک 159 حملے ریکارڈ کیے جا چکے تھے۔
رپورٹ میں زور دیا گیا کہ دہشتگردی کے بدلتے طریقۂ کار کا مؤثر مقابلہ کرنے کے لیے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد میں اضافہ ناگزیر ہے۔ اس کے علاوہ بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا کے لیے سیف سٹی منصوبہ تاحال صرف پشاور تک محدود ہے۔
