آن لائن ’’لون ایپس‘‘ عام افراد کو کیسے چونا لگا رہی ہیں؟

ایف آئی اے نے عام افراد کو چونا لگانے والی ’’آن لائن لون ایپس‘‘ کے خلاف کریک ڈائون کا آغاز کر دیا ہے، راولپنڈی اور اسلام آباد میں کمپنیوں کے دفاتر پر چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران کمپیوٹر اور دیگر مواد قبضے میں لے لیا گیا۔
قرض پر شرح سود میں اضافے اور خفیہ شرائط کی وجہ سے رقم واپس کرنے والا فرد کئی گنا رقم ادا کرنے کے باوجود بھی مقروض ہی رہتا ہے، پلے سٹور پر موجود ان کمپنیوں میں سے کونسی کمپنی لائسنس یافتہ ہے اور کون سی نہیں، اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔
ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر سائبر کرائم راولپنڈی عبدالرؤف چوہدری نے بتایا کہ غیر قانونی ایپس سے رقوم لینے والے اکثر شرائط پڑھے بغیر انہیں اپنی کانٹیکٹ لسٹ، پکچر گیلری اور دیگر مواد تک رسائی دے دیتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ کئی کیسز میں یہ دیکھا گیا کہ قرض لینے والے کو واپسی کے لیے 90 دن کا وقت دیا گیا تھا لیکن کمپنی نے محض ایک سے دو ہفتوں کے بعد ہی رقم واپسی کے مطالبات شروع کر دیئے، ان کے بقول کئی لوگوں کو قرض کی مدت میں توسیع کے لیے کچھ رقم کا کہا جاتا ہے اور ایکسٹینشن منی کا کہہ کر مزید مطالبہ کیا جاتا ہے۔
عبدالرؤف چوہدری نے کہا کہ ہمارے پاس اس وقت اس سلسلے میں کافی شکایات موصول ہوئی ہیں جن کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ راول پنڈی میں ہونے والی خودکشی کی بھی تحقیقات کررہے ہیں، ان ایپس کا اس طرح آزادانہ طور پر کام کرنا درست نہیں، ان کی باقاعدہ سیکیورٹی کلیئرنس ہونے کے بعد انہیں گوگل پلے سٹور پر آنے کی اجازت ہونی چاہئے۔
ایسے کیسز دیکھنے میں بھی آئے ہیں جس میں کسی شخص کے صرف ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے سے خودبخود اس کا قرضہ اپلائی ہو گیا اور چند دن بعد اسے کالز آنا شروع ہوگئیں کہ آپ نے قرضہ لیا ہے، اسے واپس کریں۔
اس کے بعد گالم گلوچ کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے اور جب وہ شخص نمبر بلاک کرتا ہے تو اس کے تمام عزیز رشتہ داروں اور دفتر والوں کو کالز جانا شروع ہو جاتی ہیں، ان ایپس کے سلسلے میں یہ تحقیقات ہونا ضروری ہیں کہ ان کے پاس سرمایہ کہاں سے آ رہا ہے۔ لائسنس یافتہ اور غیرقانونی کمپنیوں نے 112 ارب روپے کے قرض دے رکھے ہیں۔
ان ایپس سے متاثرہ ایک شخص نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان ایپس کمپنیوں نے وصولی کے لیے ایسے افراد کو ملازم رکھا ہوا ہے جن کا کام ہی رقم نکلوانا ہے۔وصولی کرنے والوں کا ایک اور ہتھیار دباؤ ڈالنا اور بدتمیزی کرنا ہے۔ 42 سالہ مسعود نامی شخص نے مبینہ طور پر دھمکیوں کے باعث خودکشی کر لی۔
مسعود کے کیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق مسعود نےایک آن لائن کمپنی سے قرض لیا جس پر سود زیادہ ہونے کے بعد اتارنے کے لیے ایک اور ایپ سے قرض لیا جس کے بعد وہ اس قرض میں مزید دھنستا چلا گیا۔
اس بارے میں ایس ای سی پی کے ترجمان ساجد گوندل کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اس وقت مائیکرو فنانس کے لیے صرف 11 کمپنیوں کو لائسنس جاری کیا گیا ہے لیکن اس وقت بڑی تعداد میں غیرقانونی کمپنیاں بھی کام کر رہی ہیں جن کے بارے میں ہم نے اپنی ویب سائیٹ پر عوام کو آگاہ کررکھا ہے۔
ساجد گوندل کا کہنا تھا کہ جو کمپنیاں ایس ای سی پی کے ساتھ لائسنس یافتہ ہیں وہ اپنے کسٹمرز کو جو بھی کال کرتے ہیں اس کا مکمل ریکارڈ رکھا جاتا ہے۔ساجد گوندل کا کہنا تھا اس بارے میں عوام کے لیے ضروری ہے کہ وہ صرف لائسنس یافتہ کمپنیوں کی سہولت کو ہی استعمال کریں۔
اسرار راجپوت کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں ان کمپنیوں کا جال بچھا ہوا ہے اور ان کی وجہ سے غریب اور متوسط طبقے کے سینکڑوں افراد مشکل میں پھنس چکے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے ایک نوجوان کا بتایا کہ ایک شخص نے 43 ہزار روپے قرض لیا اور 6 لاکھ روپے ادا کرنے کے بعد بھی قرض موجود ہے۔ یہ کس طرح اور کن شرائط پر سود اور مختلف اقسام کے چارجز لگاتے ہیں کسی کی سمجھ میں نہیں آتا۔
اسرار راجپوت کا کہنا تھا کہ کئی کیسز میں یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ ان کمپنیوں نے پولیس کی معاونت بھی حاصل کررکھی ہوتی ہے اور رقم کی ادائیگی میں تاخیر ہونے پر کئی افراد کو تھانوں سے بھی کالز موصول ہوئیں۔ان ایپس کے بارے میں آن لائن لون کمپنیوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کی

ہر پاکستانی حکومت IMFکے پاؤں کیوں پکڑتی ہے؟

گئی لیکن کئی کمپنیوں سے رابطہ ہونے کے باوجود اس بارے میں بات کرنے سے

معذرت کر لی گئی۔

Back to top button