غیر ملکی ایئر لائنز کے پاکستان میں آپریشنز بند ہونے کا خدشہ

نقد ادائیگیوں میں مسلسل رکاوٹ کی وجہ سے پاکستان میں انٹرنیشنل ائیرلائنز کے آپریشنز بند ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، عالمی ایئرلائنز کی تجارتی ایسوسی ایشن انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (ایاٹا) نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ صورتحال میں بہتری نہ آئی تو غیر ملکی ایئر لائنز پاکستان میں اپنا آپریشن بند کرسکتی ہیں۔
ایئرلائنز کے جاری نہ ہونے والے فنڈز کی تفصیلات سے متعلق ایاٹا کی جاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان ان ممالک کی فہرست میں چوتھے نمبر پر ہے جنہوں نے بڑی مد میں ادائیگیاں کرنی ہیں، رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ایئرلائنز کے 18 کروڑ 20 لاکھ ڈالرز کے فنڈز رکے ہوئے ہیں، نائجیریا میں 81 کروڑ 20 لاکھ ڈالرز، بنگلہ دیش میں 21 کروڑ 40 لاکھ ڈالز جبکہ الجیریا میں 19 کروڑ 60 لاکھ ڈالرز کے فنڈز پھنسے ہوئے ہیں۔
معاشی بحران کے شکار پاکستان کے زرِمبادلہ کے ذخائر لگ بھگ نو ارب ڈالر رہ گئے ہیں جس کی وجہ سے مرکزی بینک کو بیرونی ادائیگیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ایوی ایشن امور کی صحافت کرنے والے طاہر عمران کہتے ہیں کہ اگر حکومت نے ادائیگیوں میں تاخیر کا مسئلہ حل نہ کیا یا کوئی متبادل نظام وضع نہیں کیا تو انٹرنیشنل ایئر لائنز پاکستان میں اپنے آپریشن کو محدود کرسکتی ہیں۔
انہوں نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے اندر فروخت ہونے والے ایئر ٹکٹس کی ادائیگی مقامی طور پر کی جاتی ہیں جوکہ بعد ازاں دو سے چار ہفتوں کے اندر متعلقہ ایئر لائن کو منتقل کی جانی ہوتی ہے تاہم حکومت کے پاس غیر ملکی زرِمبادلہ کے محدود ہونے کی وجہ سے یہ ادائیگیاں رکی ہوئی ہیں۔
اگر سول ایوی ایشن ایئر لائنز کو ڈالر میں ادائیگی نہیں کرسکتی تو اس کا کوئی متبادل سامنے لایا جانا چاہئے جیسے کچھ ایئرلائنز کے ساتھ بارٹر کا نظام ہو سکتا ہے، طاہر عمران کہتے ہیں کہ حکومت حالیہ عرصے میں ایئرلائنز کی ادائیگیوں میں بہتری لائی ہے لیکن اس معاملے کے حل میں ابھی وقت درکار ہوگا۔
ٹریول ایجنٹس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے وائس چیئرمین محمد رضا نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ایئر لائن کی ادائیگیاں رکنے کا معاملہ گزشتہ سال فروری سے شروع ہوا تھا اور رواں سال کے آغاز میں یہ ادائیگیاں 29 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی تھیں۔
وہ کہتے ہیں کہ حکومت کے ساتھ بات چیت کے نتیجے میں کافی پیش رفت ہوئی ہے اور اب تک 10 کروڑ ڈالرز کی ادائیگی کی جا چکی ہے۔ حکومت کی جانب سے چند ماہ قبل جب ادائیگیاں نہیں کی جارہی تھیں تو ایئرلائنز نے مقامی ٹکٹنگ ایجنٹس کو مہنگے ٹکٹس دینا شروع کر دیئے تھے جب کہ بیرون ملک سے ٹکٹ کی فروخت کو ترجیح دی جا رہی تھی جو انڈسٹری کے لیے بڑا دھچکا تھا۔
محمد رضا نے کہا کہ ایئر لائنز کے پاکستان میں آپریشن محدود کرنے کا کوئی خطرہ نہیں ہے اور رکی ہوئی ادائیگیوں کے آغاز کے بعد اگر ایسا کوئی خطرہ تھا بھی تو وہ ٹل گیا ہے، ان کے بقول جس طرح ایئر لائنز کو ان کی موجودہ ادائیگیاں بروقت کی جا رہی ہیں اور پچھلی ادائیگیاں بھی ہو رہی ہیں تو امکان ہے کہ آئندہ چند ماہ میں پاکستان کی طرف یہ بوجھ بہت کم رہ جائے گا۔
خیال رہے کہ پاکستان میں حالیہ عرصے میں ورجن اٹلانٹک ایئرویز اور برٹش ایئر ویز نے پروازیں معطل کی ہیں تاہم ایتھوپیا اور ابوظبی کی ایئرلائنز نے اپنے آپریشن کا آغازبھی کیا ہے۔انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ حکومتوں کو اس صورتِ حال کے حل کے لیے انڈسٹری کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے کیوںکہ بروقت فنڈز ملنے سے ایئرلائنز اپنی سروسز جاری رکھ سکیں گی۔
ایاٹا کے مطابق رکے ہوئے فنڈز نے ایئرلائنز کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے اور طویل وقت کے لیے فنڈز رکے رہنا ائیرلائنز کے بزنس کے لیے خطرہ ہے۔ایاٹا نے بتایا کہ ایئرلائنز انڈسٹری کے دنیا بھر میں بلاک شدہ فنڈز اپریل 2023 میں47 فی صد اضافے سے دو ارب 27 کروڑ ڈالرز ہوگئے تھے جبکہ
عوام کیلئے عیدالاضحیٰ پر قربانی چیلنج کیوں بن گئی؟
گزشتہ سال اپریل تک یہ فنڈز ایک ارب 55 کروڑ ڈالرز تھے۔
