اندھیرا اُجالا کے ڈی ایس پی قوی خان کی زندگی کی کہانی

معروف فنکار، ہدایتکار، سٹیج اداکار محمد قوی خان نے پاکستانی شوبز انڈسٹری میں ایک عہدساز فنکار کا درجہ حاصل کیا، وہ 13 نومبر 1942 کو شاہجہاں پور (غیرمنقسم ہندوستان) میں پیدا ہوئے، ان کے والد محمد نقی خان پولیس کے محکمے سے وابستہ تھے، قیام پاکستان کے وقت انہوں نے ہجرت کی تو والدین نے پشاور کو اپنا مسکن بنایا اور وہیں قوی خان نے گورنمنٹ ہائی سکول سے اور پھر ایڈورڈ کالج سے تعلیمی سفر مکمل کیا اور اپنے اندر کے فنکار کا تعاقب بھی کرتے رہے۔
قوی خان کی شادی 1968ء میں ناہید قوی سے ہوئی تھی۔ ان کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں، سب بیرون ملک مقیم ہیں، ان کے دونوں بیٹوں عدنان قوی اور مہران قوی نے بھی شوبز میں قسمت آزمائی کی لیکن خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ کرسکے۔
معروف اداکار کا آبائی گھر پشاور کی مشہور اور تاریخی مسجد مہابت خان کے قریب تھا پھر آپ لاہور منتقل ہوگئے یہاں پہنچ کر بھی ریڈیو سے تعلق برقرار رکھا اور اسٹیج تھیٹر سے بھی وابستہ ہوگئے، آپ پاکستان ٹیلی وژن پر نشر ہونے والے پہلے ڈرامے کے ہیرو تھے۔
محمد قوی خان کی شہرت کا پہلا زینہ ریڈیو تھا، انہوں نے ریڈیو پاکستان پشاور سے بطور چائلڈ ایکٹر اپنے کام کی ابتدا کی۔ انہوں نے وہاں اس وقت کی تمام بڑی شخصیات کو قریب سے دیکھا اور زبان و بیان، تلفظ، گفتگو کا طور طریقہ، صداکاری کا فن سیکھ کر کامل ہوئے۔پاکستان میں 26 نومبر 1964ء وہ یادگار تاریخ ہے جب ٹیلی وژن کا قیام عمل میں آیا۔ اس تاریخ کے ٹھیک 2 دن بعد پاکستان ٹیلی وژن سے پہلا ڈراما نشر ہونا تھا جس کے ہیرو محمد قوی خان تھے، قوی خان اس وقت سے لے کر تادمِ مرگ ٹیلی وژن ڈراما صنعت میں کام کرتے رہے، یہ عرصہ لگ بھگ 7 دہائیوں پر مشتمل ہے۔ اس میڈیم میں ان کو سب سے زیادہ شہرت 1980ء کی دہائی میں پاکستان ٹیلی وژن سے نشر ہونے والے ڈرامے ’اندھیرا اجالا‘ سے ملی۔ انہوں نے 1990ء کی دہائی میں ایک ڈرامے کے لیے مرزا غالب کا کردار بھی نبھایا اوراس کردار کو بھی امر کر دیا۔
ان کے چند دیگر مقبول ڈراموں میں لاکھوں میں تین، دہلیز، الف نون، فشار، مرزا اینڈ سنز، انگار وادی، آشیانہ، ریزہ ریزہ اور اڑان وغیرہ شامل ہیں۔ ماضی قریب کے ڈراموں میں داستان، دل موم کا دیا، خانی، صدقے تمہارے، میرا قاتل میرا دلدار وغیرہ شامل ہیں۔ ان کے علاوہ بہت سارے طویل اور مختصر دورانیے کے کھیلوں میں بھی انہوں نے اپنے فن کا جادو جگایا۔ گزشتہ برس 2022ء میں ان کے دو ڈرامے ’پہچان‘ اور ’میری شہزادی‘ آن ایئر تھے۔
پاکستانی فلمی صنعت میں محمد قوی خان نے 1960ء کی دہائی میں قدم رکھا۔ انہوں نے دلجیت مرزا کی فلم ’رواج‘ میں پہلی مرتبہ بطور اداکار ہی کام نہیں کیا بلکہ وہ اس فلم کے نائب ہدایت کار بھی تھے۔ یہ فلم 1965ء میں ریلیز ہوئی تھی۔ ان کی ابتدائی فلموں میں ’بہورانی‘ وہ فلم تھی جس سے ان کو فلمی دنیا میں مقبولیت ملنا شروع ہوئی۔
فلمی صنعت میں بھی ان کے کام کرنے کا عرصہ تقریباً سات دہائیوں پر مشتمل ہے جس میں انہوں نے 200 فلموں میں کام کیا، محمد قوی خان کا فلم سے وابستگی کا عالم یہ تھا کہ انہوں نے صرف اداکاری سے تسکین حاصل نہیں کی بلکہ درجن بھر فلمیں پروڈیوس بھی کیں اور 1975ء میں ریلیز ہونے والی ایک فلم ’روشنی‘ کی ہدایت کاری کے فرائض بھی انجام دیئے۔ انہوں نے جن فلموں کو بطور پروڈیوسر بنایا ان میں پہلی فلم ان کی مادری زبان پشتو میں تھی۔ اس فلم کا نام ’مہ جبینے‘ تھا اور اس کی ریلیز کا سال 1972ء ہے۔ اس فلم میں ان کے ساتھ آصف خان بھی ہیرو تھے۔ ان کی بنائی ہوئی دیگر فلموں میں مسٹر بدھو، بے ایمان (1973ء)، منجی کتھے ڈاہواں، نیلام (1974ء)، روشنی (1975ء)، جوانی دیوانی (1977ء)، چوری چوری (1979ء) پاسبان (1982ء)، گرفتاری (1986ء) اور ماں بنی دلہن (1988ء) شامل ہیں۔
انہوں نے ماضی میں جن فلموں میں اداکاری کی ان میں سے چند معروف فلموں میں محبت زندگی ہے، ٹائیگر گینگ، سوسائٹی گرل، سرفروش، کالے چور، آج اور کل، صائمہ، بیگم جان، ناگ منی، رانگ نمبر، انٹرنیشنل لٹیرے، سر کٹا انسان، پری، قائداعظم زندہ باد اور دیگر شامل ہیں۔ ان کی زندگی کی آخری مختصر فلم ’نانو اور میں‘ نے بھی کئی بین الاقوامی فلمی میلوں میں توجہ حاصل کی، اس میں انہوں نے کمال اداکاری کا مظاہرہ کیا تھا۔ ابھی ان کا کیا ہوا کافی کام نمائش پذیر ہونا باقی ہے۔
محمد قوی خان اس حوالے سے خوش نصیب رہے کہ ان کے کام کا اعتراف ان کی زندگی میں بارہا کیا جاتا رہا۔ وہ پاکستان ٹیلی وژن کے پہلے فنکار تھے جن کو صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی ملا، پھر ستارہ امتیاز بھی وصول کیا۔ انہوں نے ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی وژن کے لائیف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈز بھی ملے۔ انہوں نے پاکستانی فلمی صنعت میں آسکر ایوارڈز جیسی اہمیت رکھنے والے نگار ایوارڈ بھی 3 بار حاصل کیا۔پاکستانی میڈیا میں بھی ان کی خدمات کااعتراف بارہا کیا جاتا رہا۔
دہائیوں تک اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کا لوہا منوانے والا ‘اندھیرا اجالا’ کا یہ ڈی ایس پی 80 برس کی عمر میں 5 مارچ 2023 کو کینیڈا میں قیام کے دوران جہان فانی سے کوچ کر گیا، قوی خان کو کینیڈا میں ہی سپرد خاک کیا گیا۔
