اماراتی کرکٹرعثمان خان کو پاکستان کیلئے کھیلنا مہنگا پڑگیا

اماراتی کرکٹر عثمان خان کو پاکستان میں پی ایس ایل کھیلنا مہنگا پڑ گیا، قومی ٹیم کے تربیتی کیمپ کو جوائن کرنے پر یو اے ای بورڈ نے عثمان خان پر 5 سال کیلئے پابندی عائد کر دی ہے۔ان پر یہ پابندی اپنی وفاداری بدلنے کے الزام پر عائد ہوئی۔ امارات کرکٹ بورڈ کے مطابق اس کو اپنی تحقیقات میں پتا چلا ہے کہ عثمان خان نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے قومی تربیتی کیمپ میں شرکت کی ہے اور اس طرح انھوں نے امارات کرکٹ بورث سے ‘اپنی واجب الادا ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ پاکستان میں پیدا ہونے والے بلے باز رواں سال پی ایس ایل کا حصہ تھے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے انھیں کاکول میں فوج کے زیرِ انتظام فٹنس کیمپ کیلئے دیگر 28 پاکستانی کرکٹرز کے ہمراہ منتخب کیا تھا۔پاکستان میں ہونے والی ٹریننگ میں مدعو کیے جانے سے پہلے عثمان خان متحدہ عرب امارات کے لیے بین الاقوامی کرکٹ کھیلنے والے تھے۔ اس کے لیے انھوں نے متحدہ عرب امارات کے مقامی کھلاڑی کے طور پر آئی ایل ٹی-20 کی دوسرے سیزن سمیت متحدہ عرب امارات کی دیگر لیگز میں بھی شرکت کی تھی۔بورڈ کی جانب سے گذشتہ روز 5 اپریل کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا گيا کہ ’تفصیلی تحقیقات کے بعد ای سی بی کے سامنے یہ بات آئی کہ عثمان نے متحدہ عرب امارات کی ٹیم کے لیے کھیلنے کے اپنے فیصلے کے بارے میں امارات کرکٹ بورڈ کے ساتھ غلط بیانی کی اور ای سی بی کی طرف سے فراہم کردہ مواقع اور ترقی کا استعمال دوسرے امکانات تلاش کرنے کے لیے کیا اور یہ واضح ہے کہ وہ اب ای سی بی کیلئے نہیں کھیلنا چاہتے اور اب وہ نہ ہی اس کی اہلیت پر پورا اُترتے ہیں۔ای سی بی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’عثمان نے ای سی بی کے ساتھ ایک سال کی مدت کے لیے روزگار کا معاہدہ بھی کیا تھا۔ یہ معاہدہ اسے تحفظ فراہم کرنے اور اس کی اہلیت کے معیار کو پورا کرنے لیکن ای سی بی کے مطابق ’عثمان نے امارات کرکٹ بورڈ کی جانب سے واجب الادا اپنی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کی ہے۔بہر حال عثمان خان نے پی ایس ایل کے 11 میچز میں سے صرف سات میں شرکت کی تھی تاہم وہ مجموعی طور پر سب سے زیادہ رنز بنانے والوں میں بابر اعظم کے بعد دوسرے نمبر پر تھے جبکہ پی ایس ایل کے حالیہ سیزن میں جو چار سنچریاں سکور کی گئیں ان میں سے دو سنچریاں عثمان خان نے ہی بنائی تھیں۔اس پابندی کے بعد یہ واضح نہیں کہ آیا ان کا متحدہ عرب امارات میں کام کرنے کا پرمٹ بھی منسوخ ہو گیا ہے؟سپورٹس صحافی ارفع فیروز ذکی نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ’عثمان تجھے سلام۔ عثمان خان نے متحدہ عرب امارات میں اپنے طے شدہ کریئر اور بھاری رقم کے معاہدے کو پاکستان کے لیے قربان کر دیا۔ صحافی شاہد ہاشمی نے لکھا کہ عثمان کے کیریئر کا بڑا موڑ ہے اور انھوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کے لیے کھیلنے کا ان کا فیصلہ ان کیلئے سودمند ثابت ہو۔ سیف الرمان نامی ایک صارف نے عثمان خان کی تصویر ڈالتے ہوئے لکھا کہ ‘اس شخص کی تعریف کی جانی چاہئے کیونکہ اس نے پاکستان کے لیے اپنا مستحکم کیریئر چھوڑ دیا۔ اب امید کرتے ہیں کہ پاکستان ملک کیلئے اس کی قربانی کا خیال رکھے گا۔اس کے متعلق سپورٹس صحافی سلیم خالق نے لکھا: ’فخر زمان اگر واقعی ان فٹ ہیں تو انھیں ضرور آرام دیں لیکن صرف عثمان خان سے کمٹمنٹ پوری کرنے کیلئے زبردستی ریسٹ دینا درست نہ ہوگا، ویسے کیمپ میں تو وہ فٹ ہی لگ رہے ہیں، فخر پاکستان کے اہم بیٹر ہیں، وہ ورلڈکپ سے قبل جتنے میچز کھیلیں گے اتنا ہی اچھا ہوگا۔ سپورٹس صحافی اقدس رحمان نے ٹویٹ کیا: ’عثمان خان کا متحدہ عرب امارات کے بجائے پاکستان کیلئے کھیلنے کا انتخاب ایک جانی پہچانی کہانی ہے۔ عثمان قادر کی طرح اب انھیں بھی پی ایس ایل کی کامیابی کے بعد غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔

Back to top button