ثانیہ مرزا نے اپنی فٹنس کا راز بتا دیا

سابق بھارتی ٹینس سٹار ثانیہ مرزا نے شادی کے بعد بھی اپنی فٹنس برقرار رکھنے کے حوالے سے راز افشاں کیا کہ وہ بیسن کی روٹی کھاتی ہیں جس کی وجہ سے اب تک فٹنس سے بھرپور زندگی گزار رہی ہیں۔بھارتی جریدے سے انٹرویو میں ٹینس اسٹار کا کہنا تھا کہ کھلاڑیوں کو اپنے کیریئر میں اپنی فٹنس پر بہت دھیان دینا پڑتا ہے، کیونکہ کھیل کے دوران کھلاڑی کی چستی اور سٹیمنا اس کی فتوحات میں مددگار ثابت ہوتے ہیں، کھلاڑی بہت سے ڈائیٹ پلان اور پروٹینز وغیرہ کا سہارا لیتے ہیں مگر میں نے زندگی میں گندم کے بجائے صرف بیسن کی روٹی کو فوقیت دی اور یہی میری فٹنس کا راز ہے۔ماہرین غذائیت کہتے ہیں کہ بیسن میں پائے جانے والے حل پذیر فائبر کی وجہ سے دل کی صحت میں بہتری آتی ہے کیوںکہ اس فائبر کی وجہ سے کولیسٹرول کی سطح نارمل رہتی ہے،کچھ لوگوں کو گندم میں پائے جانے والی گلوٹین سے الرجی ہوتی ہے، اس لیے وہ گندم سے بنی ہوئی روٹی استعمال نہیں کر سکتے۔ ایسے لوگوں کیلئے بیسن بہترین متبادل ہے۔خوبصورتی میں اضافے کے لیے بیسن کا استعمال نہایت مفید ہے جس کو باقاعدگی کے ساتھ استعمال کرنے سے جسم میں وٹامنز اور منرلز کی کمی دور ہوتی ہے۔ بیسن آئرن سے بھرپور ہوتا ہے جس سے بنی ہوئی روٹی دن میں کم از کم ایک بار کھانے سے خون کی کمی دور ہوتی ہے، طبی ماہرین کے مطابق بیسن سے بنی ہوئی اشیا اور خاص طور پر روٹی کو بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اگر ہائی بلڈ پریشر کے مریض نہار منہ بیسن کی روٹی استعمال کریں تو سارا دن بلڈ پریشر کنٹرول میں رہتا ہے۔بیسن میں پائے جانے والے زنک کو ایکنی کی وجہ بننے والے انفیکشن سے لڑنے میں مدد فراہم کرتا ہے، اس کے علاوہ فائبر کی وجہ سے بلڈ شوگر لیول رہتا ہے، بلڈ شوگر غیر متوازن ہونے سے جِلد کے ہارمونز دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے کیل مہاسوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔بیسن کینسر کے خطرات میں کمی لانے کے لیے بھی مفید سمجھا جاتا ہے، ایک طبی تحقیق کے مطابق بیسن کے استعمال سے بڑی آنت کے کینسر سے بچاؤ میں مدد ملتی ہے، بیسن جسم میں پائے جانے والے ایسے کمپاؤنڈ کی افزائش کو روکتا ہے جو کولن کینسر کی وجہ بنتے ہیں۔بیسن میں پائے جانے والے فائبر کی وجہ سے ہاضمہ کے نظام میں بہتری آتی ہے، کیوںکہ معدے کو یہ فائدہ مند فائبر حاصل ہونے سے قبض اور معدے کے دوسرے مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ اس کے علاوہ بیسن کے استعمال سے معدے کی کارکردگی بھی بہتر ہوتی ہے۔ اس لیے بیسن کو قبض کا بہترین علاج سمجھا جاتا ہے۔ایک طبی تحقیق کے مطابق بیسن میں کیلشیم کافی مقدار میں پایا جاتا ہے اور اس کے علاوہ میگنیشیم کی مقدار بھی بھرپور ہوتی ہے، یہ دونوں منرلز ہڈیوں کی مضبوطی میں اضافہ کرنے کے لیے مفید سمجھے جاتے ہیں۔ بیسن میں پائے جانے والی میگنیشیم کی وجہ سے دماغ کے ایسے کیمیکلز میں اضافہ ہوتا ہے جو خوشی کا باعث بنتے ہیں، اس کے علاوہ میگنشیم کی وجہ سے خون کی شریانیں بھی نہیں سکڑتیں جس کی وجہ سے دماغ کو خون کی فراوانی متاثر نہیں ہوتی۔طبی تحقیقات کے مطابق بیسن میں سوزش کم کرنے والی خصوصیات پائی جاتی ہیں، اس میں بیوٹیریٹ نامی فیٹی ایسڈز پائے جاتے ہیں جو بڑی آنت کی سوزش کو کم کرتے ہیں۔ بیسن وٹامن بی6 حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے جو مدافعتی نظام کو مضبوط بناتا ہے، مدافعتی نظام مضبوط ہونے سے الرجی کے خلاف لڑنے میں مدد ملتی ہے۔ق
