مریم نواز اور حسینہ واجد کے میڈیا دشمن قوانین ایک جیسے نکلے

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت نے حال ہی میں سوشل میڈیا اور مین سٹریم میڈیا کو غلامی کی زنجیریں ڈالنے کے لیے ہتک عزت کا جو قانون پنجاب اسمبلی سے پاس کروایا ہے، ایسا ہی ایک قانون 2018 میں بنگلہ دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے بھی پاس کروایا تھا، لیکن ان کا انجام ہم سب کے سامنے ہے۔ اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں حامد میر کہتے ہیں کہ حسینہ واجد کی حکومت نے قانون سازی کے ذریعے وزیر اعظم پر تنقید کو بھی جُرم بنا دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں مریم نواز کی حکومت سے لایا گیا ایک ایسا ہی میڈیا دشمن قانون صحافتی تنظیموں نے عدالتوں میں چیلنج کر دیا ہے لیکن دوسری جانب حکومت عدالتی فیصلوں کو مسترد کرنے کی روایت مضبوط کر رہی ہے، ایسے میں سوال یہ ہے کہ پاکستانی صحافی انصاف کے حصول کے لیے کدھر جائینگے؟
جسٹس منصور شاہ اپنی تقریر کے بعد لیگیوں کے نشانے پر کیوں آ گئے؟
حامد میر بتاتے ہیں کہ حال ہی میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات کے سربراہ سینیٹر علی ظفر نے مجھے، ناصر زیدی اور محمد مالک سمیت کچھ دیگر صحافیوں کو پنجاب اسمبلی سے منظور کئے جانے والے ہتک عزت کے قانون پر گفتگو کیلئے دعوت دی۔ سینیٹ سیکرٹریٹ سے جاری دعوت نامے میں واضح طور پر لکھا تھا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پنجاب اسمبلی سے منظور کئے جانے والے ہتک عزت کے قانون کا آئین پاکستان کے ساتھ تقابلی جائزہ لیا جائے گا اور اس قانون میں ترامیم کیلئے سفارشات پیش کی جائیں گی۔ سینیٹ اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کے اجلاسوں میں صحافیوں اور ان کی تنظیموں کے عہدیداران کو بلانے کی روایت بہت پرانی ہے۔ عمران خان کے دور حکومت میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات کی سربراہی مسلم لیگ (ن) کے میاں جاوید لطیف کے پاس تھی اور انہوں نے کئی مرتبہ مجھے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں گفتگو کیلئے مدعو کیا۔ 6 اگست 2024 کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات کے اجلاس میں سینیٹر علی ظفر نے پنجاب اسمبلی میں منظور کردہ ہتک عزت کے قانون پر بحث کا آغاز کیا تو مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر عرفان صدیقی نے اعتراض کیا کہ ایک صوبائی اسمبلی کے منظور کردہ قانون پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی بحث نہیں کر سکتی۔ یہ صوبے کے معاملات میں مداخلت ہے۔ سینیٹر طلال چوہدری نے کہا کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی اٹھارہویں ترمیم کے تحت صوبوں کو دیئے گئے حقوق کی خلاف ورزی نہ کرے۔ میں نے عرض کیا کہ اگر صوبائی اسمبلی ایسا قانون بنائے جو آئین سے متصادم ہو اور وفاقی قوانین سے مطابقت نہ رکھتا ہو تو پھر اُس پر بحث میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن سینیٹر پرویز رشید نے قدرے تلخ لہجے میں میری طرف اشارہ کرکے کہا کہ وفاق اور ایک صوبے میں محاذ آرائی پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ محمد مالک نے کہا کہ صوبے کو ایک قانون منظور کر کے ڈکٹیٹر شپ قائم کرنے کا حق نہیں دیا جاسکتا۔ ناصر زیدی نے مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر صاحبان کو جمہوریت کے لئے اُن کی خدمات یاد دلائیں اور اُنہیں التماس کی کہ خدا کے واسطے ایسے قوانین کا دفاع نہ کریں جو کل کو آپ کے خلاف بھی استعمال ہوں گے ۔ لیکن مسلم لیگ (ن) کے تینوں سینیٹر صاحبان صحافیوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن گئے اور انہوں نے بار بار یہی موقف دہرایا کہ سینیٹ کی طرف سے صوبے کے معاملات میں مداخلت نہیں کی جا سکتی۔ پیپلز پارٹی کے سینیٹر سرمد علی نے بھی اس دلیل کی تائید کی۔
حامد میر کہتے ہیں کہ قائمہ کمیٹی میں صوبے کے معاملات میں مداخلت کے نام پر پنجاب اسمبلی کے منظور کردہ ایک ایسے بل پر گفتگو سے مکمل پرہیز کا مشورہ دیا گیا جسے پاکستان کی تمام صحافتی تنظیمیں اور انسانی حقوق کی تنظیمیں مسترد کر چکی ہیں۔ یہ سوال بہت اہم ہے کہ مسلم لیگ (ن) صرف پنجاب میں نہیں بلکہ وفاق میںبھی برسر اقتدار ہے۔ مسلم لیگ (ن) نے قومی اسمبلی سے ہتک عزت کا یہ قانون منظور نہیں کرایا لیکن پنجاب اسمبلی میں یہ قانون منظور کرانے کی اتنی جلدی کیا تھی؟ کچھ شکی مزاج اور گستاخ دوستوں کا کہنا ہے کہ دو بڑی جماعتوں میں تابعداری کا مقابلہ چل رہا ہے۔ پنجاب حکومت نے میڈیا کو لگام ڈالنے کیلئے ہتک عزت کا قانون منظور کرانے میں جلدی اس لئے دکھائی تا کہ اصل فیصلہ سازوں کو تاثر دیا جا سکے کہ پنجاب کی وزیراعلیٰ مستقبل میں اسٹیبلشمنٹ کے لیے بڑی کارآمد وزیراعظم ثابت ہو سکتی ہیں۔ اس قانون کا مقصد اگر واقعی فیک نیوز کا خاتمہ ہوتا تو ہم اس قانون کی ضرور حمایت کرتے لیکن اس قانون کے ذریعہ نہ صرف آئین پاکستان کی خلاف ورزی کی گئی ہے بلکہ ایک متوازی عدالتی نظام قائم کیا جا رہا ہے۔ تخت لاہور نے اس قانون کے ذریعہ جبر کے ایسے تالے اور زنجیریں متعارف کرائی ہیں جو پنجاب میں استعمال کرنے کے بعد سب پاکستانیوں کو پہنانے کی کوشش کی جائے گی۔ پنجاب اسمبلی کے منظور کردہ ہتک عزت کے قانون میں صحافی کی تعریف کو بدل دیا گیا ہے۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور کردہ پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ میڈیا پروفیشنلز ایکٹ 2021ء میں صحافی کی تعریف اور ہے اور اس صوبائی قانون میں کچھ اور ہے۔ اس صوبائی قانون کے سیکشن تین کے تحت آپ بغیر ثبوت کے کسی کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائر کر سکتے ہیں اور دعوے کی سماعت کرنے والا ٹربیونل کارروائی کے آغاز سے قبل ہی آپ کو 30 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دے سکتا ہے۔ آپ جرمانہ پہلے ادا کریں گے اور اپنا دفاع بعد میں کریں گے ۔یہ آئین پاکستان کی دفعہ 10 اے کی خلاف ورزی ہے جو ہر شہری کو فیئر ٹرائل کا حق دیتا ہے۔ اسکے علاوہ صوبائی قانون کے تحت خصوصی عدالتیں بنائی جائیں گی جن کے ججوں کی تقرری صوبائی حکومت کرے گی۔ صوبائی قانون میں ججوں کی تقرری کا طریقہ کار آئین پاکستان کی دفعہ 175 کے خلاف ہے جس میں ججوں کی تقرری کا ایک پروسیجر موجود ہے۔ اس نئے قانون کے تحت وزیراعظم، سپیکر قومی اسمبلی، وزیراعلیٰ، گورنر، اسپیکر صوبائی اسمبلی، چیف الیکشن کمشنر، آرمی چیف سمیت سروسز چیفس پر تنقید نہیں ہوسکتی۔ لیکن یہ قانون آئین کی دفعہ 19 اور دفعہ 248 کے بھی خلاف ہے جس کے تحت استثنیٰ صرف صدر کو حاصل ہے۔
