عدالیہ کی مریم کی پاسپورٹ واپسی درخواست کی سماعت سے معذرت

عدالت نے ایک مرتبہ پھر مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کی پاسپورٹ واپسی کی درخواست پر سماعت کرنے سے معذرت کر لی ہے، جسٹس علی باقر نجفی، جسٹس انوار الحق پنوں نے مزید سماعت سے معذرت کرتے ہوئے درخواست چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو بھجوا دی ہے۔
واضح رہے کہ مریم نواز کی جانب سے امجد پرویز ایڈووکیٹ کی وساطت سے دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ نیب نے چودھری شوگر ملز کیس میں پاسپورٹ قبضے میں رکھوایا۔
امجد پرویز ایڈووکیٹ نے کہا کہ 4 سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود کوئی ریفرنس بھی دائر نہیں کیا گیا، آئین کے تحت پاسپورٹ قبضے میں رکھنا بنیادی آئینی حقوق کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔
درخواست میں مزید کہا کہ چوہدری شوگر ملز کیس میں میرٹ پر ضمانت ملی تھی، استدعا ہے کہ ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل کو پاسپورٹ واپس کرنے کا حکم دیا جائے۔
بدھ کو لاہور ہائی کورٹ نے جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ تشکیل دے تھا، مریم نواز نے اپنی نئی درخواست میں یہ کہا کہ چار سال قبل جس مقدمے میں نیب نے گرفتار کیا اس میں آج تک نہ تو ان پر کوئی چارج فریم کیا گیا اور نہ ہی اس کیس کا ٹرائل شروع ہو سکا، چار سال تک کسی شہری کے بنیادی حقوق معطل رکھنا خلاف آئین ہے۔
خیال رہے کہ مریم نواز کو اگست 2019 میں چوہدری شوگر ملز کیس میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ جیل میں اپنے والد اور پارٹی قائد نواز شریف سے ملاقات کر رہی تھیں، وہ 48 دن اس کیس میں نیب کی حراست میں رہیں جس کے بعد انہیں جیل بھیج دیا گیا۔
لاپتہ افراد کیس:وزیراعظم کی معاملہ حل کرانے کی یقین دہانی
پہلا بینچ جسٹس انوار الحق پنوں اور جسٹس سید شہباز علی رضوی پر مشتمل تھا۔ اس بنچ کے جسٹس سید شہباز علی رضوی نے یہ کیس سننے سے معذرت کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ اس درخواست کو وہی بینچ سُنے جس نے پہلے ضمانت کی درخواست سنی تھی جبکہ فائل واپس چیف جسٹس امیر بھٹی کو بھیج دی گئی۔
