مریم نواز کو سیاسی میدان میں کن چییلنجز کا سامنا ہے؟

مریم نواز کے پارٹی کی چیف آرگنائزر بننے کے بعد سب سے زیادہ یہ سوال زیر بحث ہے کہ کیا مریم نواز کیلئے مسلم لیگ ن کی مشکلات کم کرنا اور پارٹی کی گرتی ساکھ کو بحال کر کے اس کو دوبارہ عوامی پذیرائی دلوانا کتنا آسان ہو گا؟ وہیں دوسری طرف مریم نواز کے چیف آرگنائزر اور سینیئر نائب صدر بننے کے بعد پارٹی لیڈر اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے استعفے سے یہ سوال بھی جنم لے چکا ہے کہ کیا پارٹی کے اندر انہیں نواز شریف کے بعد لیڈر تسلیم کر لیا گیا ہے؟ یا پارٹی میں بغاوت سر اٹھائے گی اور پارٹی میں انتشار پیدا ہوگا؟ سیاسی مبصرین اس حوالے سے متضاد آراء کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں تاہم ان کے مطابق پارٹی میں قیادت ملنے کے بعد اب مریم نواز کی صلاحیتوں کا امتحان ہے کہ وہ کس حکمت عملی کے تحت پارٹی کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ ن لیگ کو عوام میں دوبارہ مقبول کرنے کیلئے عملی اقدامات کرتی ہیں۔
اردو نیواز کی ایک رپورٹ کے مطابق 28 جنوری کو لاہور ایئر پورٹ پر ان کی واپسی کے دوران سٹیج پر لیگی قیادت نظر نہیں آئی۔ جس سے متعلق پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ استقبال صرف لاہور کی تنظیم نے کیا تھا اور لاہور کے صدر اس وقت ان کے ساتھ ہی سٹیج پر موجود تھے۔سیاسی مبصرین کے مطابق سوائے شاہد خاقان عباسی کے اور چند ایک لیڈروں کے کسی نے مریم نواز کی پارٹی میں نئی حیثیت کی کھل کر مخالفت تو نہیں کی، لیکن گرم جوشی کے اظہار میں کمی سے بھی یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ مریم کو پارٹی کے باہر سے زیادہ پارٹی کے اندر مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر نے خود بھی اپنی تقاریر میں اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ ان پر تنقید ہو رہی ہے۔ اس کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’پارٹی کا لیڈر وہی ہوتا ہے جس سے لوگ محبت کرتے ہیں۔
تو کیا مریم نواز کو پارٹی کے اندر اپوزیشن کا سامنا ہو سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے سینیئر تجزیہ کار سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ ’کسی حد تک شاید ایسا ہو بھی، لیکن میرا نہیں خیال کہ مریم نواز کو کوئی خاطر خواہ مسائل کا سامنا پارٹی کے اندر ہو گا۔ اس وقت نواز شریف کے بعد ن لیگ کی سب سے پاپولر لیڈر وہی ہیں جو لیگی ورکروں میں مقبول ہیں۔ اگر انہیں کسی طرح کی مزاحمت کا سامنا ہو گا بھی تو نواز شریف کے واپس آنے کے بعد وہ ختم ہو جائے گا۔‘
ن لیگ پنجاب کی ترجمان عظمی بخاری اس بات کی تردید کرتی ہیں کہ پارٹی کے اندر مریم نواز کے خلاف کوئی محاذ آرائی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ’پارٹی وفاق میں اس وقت حکومت میں ہے اور پارٹی کے بڑے لیڈر کابینہ میں وزیر ہیں اس لیے مریم نواز کے ضلعی کنونشنز میں کسی کو دعوت نہیں دی جا رہی۔ چیف آرگنائزر بننے کے بعد مریم نیچے کی سطح پر پارٹی ورکروں سے ملاقاتیں کر رہی ہیں یہ جلسے نہیں ہیں۔‘
سیاسی مبصرین کے مطابق مریم نواز کا اصل چیلنج اگلے انتخابات میں پارٹی کی موجودہ پالیسوں کا دفاع ہو گا۔ سینئر تجزیہ کار سلمان عابد کہتے ہیں کہ ’پارٹی کے اندر مریم نواز کو خاطر خواہ مزاحمت کا سامنا ہے کہیں یہ مزاحمت کھل کر سامنے آئی ہے تو کہیں یہ مزاحمت خاموشی کے ساتھ کی جا رہی ہے لیکن دونوں صورتوں میں نقصان مریم نوز اور مسلم لیگ ن کا ہی ہے۔
ان کے مطابق ’اب نوجوانوں ووٹروں کو آپ موروثی سیاست کے فوائد نہیں سکھا سکتے۔ مگر میں اس سے بھی زیادہ یہ سمجھتا ہوں کہ مسلم لیگ ن اقتدار میں ہے اور جو بھی مہنگائی اس وقت ہو رہی ہے وہ اس کے کھاتے میں جا رہی ہے، وہ جو تجربہ کاری کا بھرم تھا وہ بھی تقریبا نکل ہی چکا ہے۔ یہ چیلنج مریم اور ان کی پارٹی کے لیے میرے خیال میں زیادہ مشکل ہو گا۔‘انہوں نے بتایا کہ مریم نواز کے چیلنجز ابھی تو شروع ہوئے ہیں۔
