مریم نوازکااگلےسال سےپنجاب ایئرلائنزچلانےکافیصلہ

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا خواب حقیقت کا روپ دھارنے لگا "ایئر پنجاب” کے نام سے صوبے کی پہلی ایئر لائن اپنی تکمیل کے آخری مرحلے میں داخل ہو گئی۔ پنجاب حکومت نےمارچ میں لاہور سے اسلام آباد روٹ پر باقاعدہ فلائٹ آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ ذرائع کے مطابق ائیر پنجاب کو سب سے پہلے اسلام آباد کے داخلی روٹ پر چلایا جائے گا جس کے بعد کراچی، ملتان، کوئٹہ اور پشاور سمیت اندرون ملک فلائٹ آپریشن کو بڑھایا جائے گا۔ پاکستان میں فلائٹ آپریشن کو مربوط بنانے کے بعد بین الاقوامی راستوں کی سمت بڑھا جائے گا۔

حکام کے مطابق ائیر پنجاب منصوبے کا بنیادی مقصد پنجاب کے عوام کو سستا، محفوظ، جدید اور آرام دہ فضائی سفر فراہم کرنا ہے، جو صوبے کی معاشی سرگرمیوں اور سیاحت کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کرے گا۔ ائیر پنجاب کا منصوبہ نہ صرف صوبے کے فضائی رابطوں کو بہتر بنائے گا بلکہ صوبائی معیشت، سیاحت، اور روزگار کے مواقعوں کے حوالے سے بھی اہم سنگ میل ثابت ہو گا جبکہ ائیر پنجاب کے آغاز سے عوام کو ارزاں نرخوں پر معیاری سفری سہولیات بھی میسر آئیں گی۔

پنجاب حکومت کے ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت نے پہلے مرحلے میں مارچ2026 سے لاہور سے اسلام آباد کے درمیان فلائٹ آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایئر پنجاب کے پہلے مرحلے کے آغاز کیلئے چھ جدید اور آرام دہ طیارے لیز پر حاصل کیے جا رہے ہیں، جن کے ذریعے اندرونِ ملک پروازوں کا آغاز کیا جائے گا جبکہ پاکستان بھر میں فلائٹ آپریشن کا مربوط طریقے اے آغاز کرنے کے بعد اگلے مرحلے میں ائیر پنجاب کو بین الاقوامی سطح تک وسعت دی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق ائیر پنجاب کیلئےایسے جدیدترین اور توانائی کے لحاظ سے مؤثر طیارے منتخب کیے جا رہے ہیں جو مسافروں کو بہترین سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ایندھن کی بچت اور ماحولیاتی تحفظ کے معیار پر بھی پورے اترتے ہیں۔  ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر تمام تیاریوں کی رفتار برقرار رہی تو ایئر پنجاب کی پہلی پرواز مارچ 2026 میں لاہور سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوگی۔

واضح رہے کہ ایئر پنجاب کا تصور پہلی مرتبہ اس وقت سامنے آیا جب مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے امریکا میں قیام کے دوران اس منصوبے پر گفتگو کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کو تجویز دی کہ وہ ایک نئی ایئرلائن کے قیام پر غور کریں۔ ایسی ایئرلائن جو نہ صرف اندرونِ ملک بلکہ دنیا کے مختلف حصوں میں پروازیں چلا سکے۔ نواز شریف نے اس موقع پر قومی ایئر لائن (PIA) کی موجودہ حالت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ “پی آئی اے کی تباہی دیکھ کر دکھ ہوتا ہے، اس لیے مریم نواز کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ایک نئی، جدید اور پیشہ ور ایئرلائن کے قیام پر غور کریں۔”

اسی پس منظر میں، ایئر پنجاب کا تصور ایک طویل المدتی صوبائی حکمتِ عملی کے طور پر ابھر کر سامنے آیا، جس کا مقصد صوبے میں ہوابازی کے شعبے کو ترقی دینا، سفری اخراجات میں کمی لانا، اور سیاحت و کاروبار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔ ذرائع کے مطابق، یہ منصوبہ گزشتہ چند برسوں سے مختلف سطحوں پر زیرِ غور تھا، تاہم مریم نواز شریف کی قیادت میں اس پر عملی اقدامات کی رفتار میں غیر معمولی تیزی آئی ہے اور اب امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ائیر پنجاب مارچ 2026سے اپنا فلائٹ آپریشن شروع کر دے گی۔

ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے “ایئر پنجاب” منصوبے کو جلد از جلد فعال کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت دی ہے کہ ایئر پنجاب کے لیے تجربہ کار اور پیشہ ور عملے کی خدمات حاصل کی جائیں، اور بھرتی کا عمل صرف اور صرف میرٹ کی بنیاد پرمکمل کیا جائے۔ ذرائع کے مطابق، ائیر پنجاب میں بھرتیوں کے حوالے سے انٹرویوز جاری ہیں تاکہ ایئر لائن کے آپریشنز میں اعلیٰ سطح کی پیشہ ورانہ مہارت کو یقینی بنایا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق، ایئر پنجاب منصوبے پر تیزی سے کام جاری ہے اور وزیراعلیٰ مریم نواز شریف خود اس منصوبے کی نگرانی کر رہی ہیں۔ ماہرین کے خیال میں یہ اقدام نہ صرف پنجاب بلکہ پورے پاکستان کے ایوی ایشن سیکٹر کے لیے ایک سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ ایوی ایشن ماہرین کے مطابق، اگر حکومت منصوبے کو شفاف مالی حکمتِ عملی، پیشہ ورانہ نظم و نسق اور بین الاقوامی معیار کے مطابق آگے بڑھاتی ہے، تو اس سے مسافروں کو نی صرف سستی اور معیاری سفری سہولت میسر آئے گی بلکہ ائیر پنجاب سے صوبے میں روزگار کے بھی وسیع مواقع پیدا ہونگے

v

Back to top button